بورڈ آف پیس: نیا جال لائے پرانے شکاری!
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260121-03-2
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں قیامِ امن کے لیے بیس نکات پر مشتمل جو امن منصوبہ پیش کیا تھا اب اس کے دوسرے مرحلے کے لیے انہوں نے باقاعدہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ کے قیام کا اعلان کردیا ہے، یہ بورڈ نہ صرف غزہ کے انتظامی معاملات کی نگرانی کرے گا بلکہ اس کا دائرہ بتدریج بین الاقوامی سطح تک پھیلانے کا وژن بھی پیش کیا گیا ہے جس سے اشارہ ملتا ہے کہ یہ نیا ادارہ صرف غزہ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اسے ایک بڑے عالمی ادارے کی شکل دی جا سکتی ہے۔ اس ضمن میں امن کونسل کی تشکیل کے لیے عملی اقدامات شروع کردیے ہیں اور امن بورڈ چارٹر کا مسودہ 60 ممالک کو ارسال کردیا گیا ہے، بورڈ کے چارٹر میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ ’’بورڈ اپنی کارروائی کا آغاز غزہ کے تنازع سے کرے گا اور پھر اسے دیگر عالمی تنازعات تک پھیلا دیا جائے گا‘‘۔ مصر، ترکیہ، اردن، البانیہ، ارجنٹائن، برازیل، کینیڈا اور قبرض کے سربراہان نے دعوت نامے ملنے کی تصدیق کی ہے تاہم ان ممالک نے اپنی شمولیت کا حتمی فیصلہ نہیں کیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو بھی ’’امن کونسل‘‘ میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔ واضح رہے کہ اس منصوبے میں تین اہم ادارے شامل ہوں گے، پیس کونسل جس کی سربراہی خود ٹرمپ کریں گے۔ فلسطینی ٹیکنو کریٹ کمیٹی جو عارضی طور پر غزہ کا انتظام سنبھالے گی۔ ایگزیکٹو کونسل جو مشاورتی امور انجام دے گی۔ اس کونسل کا بنیادی کام دو سالہ جنگ سے تباہ حال غزہ کی تعمیر ِ نو، وہاں سرمایہ کاری لانا، فنڈز کا بندوبست کرنا اور انتظامی صلاحیتوں کو بہتر بنانا ہوگا۔ امریکی صدارتی دفتر کے مطابق، اس کونسل کے چیئرمین امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود ہوں گے اور رکن ممالک کی نامزدگی کا اختیار بھی انہی کے پاس ہوگا، اگرچہ فیصلے اکثریتی ووٹ سے ہوں گے اور ہر رکن ملک کو ایک ووٹ ملے گا، تاہم تمام فیصلے چیئرمین کی منظوری سے مشروط ہوں گے، جبکہ کونسل میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، ٹرمپ کے خصوصی ایلچی، اسٹیو وٹکوف، ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر، سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر، امریکی ارب پتی تاجر مارک روان، ورلڈ بینک کے صدر اجے بانگا، ٹرمپ کے مشیر رابرٹ گیبریل اور دیگر شامل ہوں گے۔ یہ کونسل 15 فلسطینی شخصیات پر مشتمل ٹیکنوکریٹ کمیٹی کی نگرانی کرے گی جس کے سربراہ سابق فلسطینی نائب وزیر علی شعث ہوں گے۔ بورڈ آف پیس نامی یہ ادارہ اس وقت فعال ہوگا جب کم از کم تین ممالک اس پر دستخط کر دیں گے، ابھی تک صرف ہنگری اور ویتنام نے اس میں شامل ہونے کی دعوت قبول کی ہے۔ اس منصوبے سے متعلق ایک دلچسپ خبر یہ بھی سامنے آئی ہے جو ممالک غزہ امن بورڈ میں 3 سال سے زاید کی رکنیت چاہتے ہیں انہیں ایک ارب ڈالر سے زاید فنڈ دینے ہوں گے۔ چارٹر کے مطابق ہر رکن ملک چارٹر کے نفاذ کی تاریخ سے لے کر 3 سال کی مدت تک خدمات انجام دے گا، غزہ امن بورڈ کے چیئرمین کی منظوری سے رکنیت کی مدت میں توسیع کی جا سکتی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیر اعظم محمد شہباز شریف کوبھی غزہ کے لیے قائم بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت دی ہے، جس کی تصدیق کرتے ہوئے ترجمان وزارت خارجہ طاہر اندرابی کا کہنا ہے کہ ہم غزہ میں امن و سلامتی کے قیام کے لیے عالمی کوششوں میں بھرپور انداز میں شامل رہیں گے، 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام سے متعلق اپنے دیرینہ موقف پر قائم ہیں، پاکستان اس حوالے سے جو بھی فیصلہ کرے گا وہ اپنی سیاسی قیادت اور پارلیمنٹ کے ذریعے اجتماعی طور پر کرے گا، جس میں قومی مفاد اور فلسطینی عوام کی امنگوں کو مدنظر رکھا جائے گا۔ ادھر اسرائیل نے غزہ بورڈ کی تشکیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بورڈ اسرائیلی حکومت کی پالیسی کے خلاف ہے۔ بادی النظر میں ٹرمپ کا بورڈ آف پیس، غزہ میں قیام ِ امن کے لیے ان کی جانب سے پیش کیے جانے والے بیس نکاتی امن منصوبے کا حصہ محسوس ہوتا ہے تاہم مغربی سفارت کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ٹرمپ ایک ایسا نیا ادارہ بنانا چاہتے ہیں جو اقوامِ متحدہ کے متبادل کے طور پر کام کر سکے۔ ٹرمپ پہلے بھی کئی بار اقوامِ متحدہ پر تنقید کر چکے ہیں اور انہیں اس کی کارکردگی پر بھروسا نہیں ہے۔ ابتدا میں ٹرمپ نے حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے اپنے 20 نکاتی منصوبے کے تحت اس بورڈ کی تجویز دی تھی اس کا مقصد غزہ میں استحکام، حکمرانی اور تعمیر ِ نو میں مدد دینا تھا تاہم، اب سامنے آنے والے نئے منشور میں غزہ کا تذکرہ کرنے کے بجائے اسے ایک ایسی ’’بین الاقوامی تنظیم‘‘ قرار دیا گیا ہے جو دنیا کے ان تمام علاقوں میں امن و امان اور قانونی نظام کی بحالی کے لیے کام کرے گی جہاں تنازعات کا خطرہ ہو۔ اگرچہ نومبر میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس بورڈ کے لیے جو مینڈیٹ منظور کیا تھا، وہ صرف غزہ تک اور 2027 کے آخر تک محدود تھا، لیکن ٹرمپ کا نیا منشور نئے خدشات کو جنم دے رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا یہ ’’پیس بورڈ‘‘ دوسری جنگ ِ عظیم کے بعد بننے والے عالمی نظام کو درہم برہم کر سکتا ہے اور یہ اقوامِ متحدہ کے حریف کے طور پر ابھر رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ترجمان نے محتاط ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’’رکن ممالک کسی بھی گروپ میں شامل ہونے کے لیے آزاد ہیں، لیکن اقوامِ متحدہ اپنا کام جاری رکھے گی‘‘۔ دوسری جانب فلسطینی تنظیم ’’اسلامی جہاد‘‘ نے اسے اسرائیلی مفادات کا تحفظ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ حماس کے ترجمان حازم قاسم کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کے داخلی معاملات ایک آزاد فلسطینی ادارے کے ہاتھ میں ہونے چاہئیں۔ غزہ کے سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس منصوبے میں قبضے کے خاتمے اور فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کے بجائے صرف ’’بزنس مینجمنٹ‘‘ پر زور دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے عوامی سطح پر اس پر بھروسا کرنا مشکل ہے۔ سوال یہ ہے کہ غزہ میں قیام امن کے نام پر بورڈ آف پیس نامی نئے ادارے کے قیام کی ضرورت کیا ہے؟ امریکا اگر یہ سمجھتا ہے کہ اقوامِ متحدہ دنیا میں امن کے قیام اور علاقائی تنازعات کو حل کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھا ہے تو اس امر کا برملا اعلان ہونا چاہیے۔ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کو کتنی کامیابی ملتی ہے اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے گا تاہم ٹرمپ نے اپنی موجودہ صدارتی مدت میں جو پالیسی اختیار کی ہے اور وہ جس زبان اور لب ولہجے میں بات کر رہے وہ کسی بھی طور ایک مہذب اور بھر پور عسکری صلاحیتوں کے حامل ملک کے صدر سے کسی طور ہم آہنگ نہیں، ایک طرف وہ امن کے نوبل انعام کے آرزو مند ہیں مگر دوسری جانب انہوں نے فوجی کارروائی کے ذریعے ایک آزاد اور خودمختار ملک وینزویلا کی آزادی و خود مختاری کو پامال کردیا، انہوں نے ایران میں مداخلت کی دھمکی دی، گرین لینڈ پر قبضے کا عندیہ دیا، حماس پر قیامت ڈھانے کے بیانات دیے، ایک پینل انٹرویو میں کہتے ہیں کہ میرے لیے بین الاقوامی قانون کی ضرورت نہیں ہے، کوئی چیز جو مجھے روکتی ہے وہ صرف میری اپنی اخلاقیات ہیں، اس طرز عمل اور اس نوع کے عزائم کے ساتھ بورڈ آف پیس کا قیام ایک سعی لاحاصل اور پانی پر لکیر کھینچنے کے مترادف ہے۔ بورڈ آف پیس قیام امن نہیں بلکہ ٹرمپ کے تجارتی طرزِ سیاست کا حصہ ہے۔ ٹرمپ اگر فی الواقع اور دنیا میں امن کے خواہاں ہیں تو انہیں خود اپنے طرزِ عمل پر نظرثانی اور اسرائیلی جارحیت کے سد ِ باب اور امن معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے پر زور دینا چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ بورڈ ا ف پیس کے لیے ا ٹرمپ کے کے قیام غزہ کے امن کے گیا ہے ہوں گے کرے گا
پڑھیں:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں بلکہ اسرائیل کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار بھی کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کو دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو خاصی کشیدہ رہی جس میں ٹرمپ نے لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں اور بیروت میں ممکنہ حملوں کے منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
امریکی صدر نے نیتن یاہو کو باور کرایا کہ بیروت پر حملہ خطے میں حالات کو مزید خراب کر سکتا ہے، اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات کو بھی پیچیدگیوں سے دوچار کر سکتا ہے۔
یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات سے دستبرداری کا عندیہ دیا ہے۔ ٹرمپ کے قریبی ذرائع کے مطابق امریکی صدر کو خدشہ ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلا تو خطے میں استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے حملوں کا جواب دینا اسرائیل کا حق ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ فوجی ردعمل ضرورت سے زیادہ ہے اور اس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور تباہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
مزید پڑھیے: امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات تنازع کا شکار، فنکاروں کی علیحدگی پر صدر ٹرمپ برہم
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے خاص طور پر ان کارروائیوں پر اعتراض کیا جن میں حزب اللہ کے کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے رہائشی عمارتوں پر وسیع بمباری کی جاتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس طرزِ عمل سے اسرائیل کے خلاف عالمی تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔
حکام کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ بیروت پر حملے کی منظوری اسرائیل کو مزید عالمی تنہائی کی طرف دھکیل سکتی ہے اور اتحادی ممالک میں بھی تشویش پیدا کر سکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سخت مؤقف کے بعد اسرائیل نے بیروت میں بعض اہداف پر مجوزہ حملوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا۔ بعد ازاں ایک اسرائیلی عہدیدار نے بھی اشارہ دیا کہ فی الحال بیروت پر حملے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں تاہم جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ٹرمپ سے گفتگو کے بعد جاری بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے حملے جاری رہے تو بیروت میں اہداف کو نشانہ بنانے کا آپشن بدستور موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے خلاف خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔
مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا طبی معائنہ: کام کے لیے ِفٹ قرار، صحت بہترین، وزن کم کرنے کا مشورہ
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران سمیت کئی علاقائی معاملات پر قریبی رابطے میں رہے ہیں تاہم لبنان کے معاملے پر حالیہ اختلافات دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتے ہوئے مؤقف کے فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کی تشویش کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ہیں جنہیں امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھتی ہے۔
ٹیلیفونک گفتگو کے کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں تاہم امریکی حکام کا ماننا ہے کہ لبنان کی صورتحال ان مذاکرات کے مستقبل پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکا کے لیے ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے جہاں ایک جانب واشنگٹن اسرائیل کی سلامتی کی حمایت جاری رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب وہ خطے میں وسیع جنگ کے خدشات کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی آگے بڑھا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران ممکنہ معاہدہ: نیتن یاہو کی برسوں پر محیط ایران پالیسی کو بڑا دھچکا لگنے کا خدشہ
جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے تناظر میں آنے والے ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور علاقائی سفارت کاری کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ نیتن یاہو پر برہم لبنان پر اسرائیل کے حملے لبنان جنگ