UAE ’غزہ بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہونیوالا پہلا مسلم ملک بن گیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
متحدہ عرب امارات (نیوزڈیسک ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے تحت بنائے گئے ’بورڈ آف پیس‘ (Board of Peace) میں شامل ہونے کی دعوت قبول کرلی۔
عرب میڈیا کے مطابق اس بات کا اعلان یو اے ای کی وزارتِ خارجہ نے منگل کے روز جاری بیان میں کیا۔
جس میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی غزہ بورڈ آف پیس میں فعال شمولیت اور عملی شراکت کے لیے تیار ہے۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق یو اے ای بورڈ آف پیس کے مشن میں مؤثر کردار ادا کرے گا اور عالمی سطح پر تعاون، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے لیے امریکا کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔
اس طرح متحدہ عرب امارات نہ صرف پہلا مسلم بلکہ اُن اوّلین ممالک میں بھی شامل ہوگیا جس نے کھل کر اس امریکی اقدام کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
یاد رہے کہ ٹرمپ کے غزہ جنگ بندی معاہدے کے تحت وہاں حماس کی جگہ ایک عالمی بورڈ کے ذریعے امورِ مملکت چلانے کا امن منصوبہ پیش کیا تھا۔
اس بورڈ آف پیس کی سربراہی خود امریکی صدر کریں گے جب کہ بانی ارکان میں ٹونی بلیئر سمیت امریکی وزیر خارجہ، ٹرمپ کے داماد اور دیگر ٹیکنوکریٹس شامل ہیں۔
اب تک جن ممالک نے بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی پیشکش کو قبول کا ہے ان میں پہلا یورپی ملک ہنگری ہے جس نے غیر مشرط طور پر ہامی بھری۔
اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے بھی بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کا عندیہ دیا ہے تاہم اب تک باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے۔
کینیڈا وزیرِاعظم مارک کارنی نے بھی بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کے لیے اصولی طور پر آمادگی کا اظہار کیا ہے تاہم فیصلے کا حتمی اعلان چارٹر کے جائزے کے بعد کیا جائے گا۔
دوسری جانب فرانس کے صدر ایمانویل میکرون نے بورڈ آف پیس میں شامل ہونے سے صاف انکار کیا ہے۔
جس کے جواب میں امریکی صدر نے فرانسیسی شراب شیمپین پر 200٪ ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی ہے۔
جب فرانسیسی صدر نے امریکی دباؤ اور ٹیرف دھمکیوں کو ناقابلِ قبول قرار دیا تو ٹرمپ برہم ہوگئے اور کہا کہ ایمانویل میکرون زیادہ عرصے فرانس کے صدر نہیں رہیں گے۔
علاوہ ازیں جرمنی، اسپین، نیدرلینڈز، سویڈن، جاپان اور برطانیہ جیسے امریکی اتحادی بھی تاحال ٹرمپ کے اس بورڈ آف پیس میں شمولیت سے ہچکچا رہے ہیں۔
یورپی ممالک نے بھی تاحال خاموشی اختیار کی ہوئی ہے جب کہ اقوام متحدہ نے بھی خدشات کا اظہار کیا ہے۔
خیال رہے کہ بورڈ آف پیس کی تاحیات سربراہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس ہوگی جب کہ رکن ممالک کی مدتِ تین سال ہوگی۔
البتہ کوئی ملک ایک ارب ڈالر ادا کرے تو وہ بورڈ کی سرگرمیوں کی مالی معاونت کے بدلے مستقل رکنیت حاصل کر سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔
مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔
آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔
کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔
کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔
تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔