ٹرمپ اور جنگوں کا اٹھتا طوفان
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
اسلام ٹائمز: وینزویلا سمیت لاطینی امریکہ کے ممالک اپنا اپنا دفاع مضبوط کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی وقت امریکہ جارحیت کا شکار نہ ہو جائیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران پر تو صرف اس لیے حملے سے رکے ہوئے ہیں کہ مضبوط دفاع سے خوفزدہ ہیں ورنہ ایک لمحہ نہ رکیں۔ حد یہ ہے کہ پاکستان کی بہت سی کمپنیوں پر پابندیاں لگا رکھیں اور پاکستان کی تعریفیں بھی کی جاتی ہیں۔ شام میں کرد علاقے بڑے طریقے سے جولانی کے حوالے کیے جا رہے ہیں اور ہزاروں داعش کے ارکان کو عراق، ایران اورپاکستان کے خلاف استعمال کرنے کے لیے جیلوں سے چھوڑ دیا گیا ہے۔ تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس
عالمی سفارتکاری میں غیر شائستہ بات بھی الفاظ کے گورکھ دھندے میں ڈھال کر بڑی خوبصورتی سی کی جاتی ہے۔ اس کے لیے ممالک میں ادارے کام کرتے ہیں اور اس کے ماہرین ملکوں اور اداروں کا سرمایہ مانے جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر کچھ مندرجات پر نظر پڑی جن کے مطابق یہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نارویجن وزیر اعظم یوناس گاہر سٹورے کو لکھے خط کا متن ہے۔ کافی حیرت ہوئی اور اسے اے آئی جنریٹڈ سمجھا مگر تھوڑی ہی دیر کے بعد اسے معتبر سائیٹس نے بھی پبلش کرنا شروع کر دیا۔ تھوڑی تحقیق کی تو پتہ چلا کہ یہ متن بالکل اصلی ہے اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے صدر نے بذات خود یہ خط لکھا ہے۔ آپ خط کے مندرجات ملاحظہ فرمائیں پھر اس پر آگے بات کرتے ہیں۔
محترم جوناس چونکہ آپ کے ملک نے آٹھ جنگیں روکنے اور اس کے علاوہ بھی امن کے لیے میری کوششوں کے باوجود مجھے نوبل امن انعام دینے کا فیصلہ نہیں کیا، اس لیے اب میں خود کو صرف امن کے بارے میں سوچنے کا پابند محسوس نہیں کرتا۔ اگرچہ امن ہمیشہ میری ترجیح رہے گالیکن اب میں اس بات پر بھی غور کر سکتا ہوں کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے لیے کیا بہتر اور درست ہے۔ ڈنمارک اس سرزمین کو روس یا چین سے محفوظ نہیں رکھ سکتا اور آخر ان کے پاس اس کی “ملکیت کا حق” کیوں ہے؟ اس بارے میں کوئی تحریری دستاویز موجود نہیں، صرف یہ دعویٰ ہے کہ سینکڑوں سال پہلے وہاں ایک کشتی جا لگی تھی۔ لیکن ہماری کشتیاں بھی وہاں جا لگی تھیں۔ میں نے نیٹو کے قیام کے بعد سے کسی بھی شخص کے مقابلے میں اس کے لیے زیادہ کام کیا ہے، اور اب نیٹو کو بھی ریاست ہائے متحدہ کے لیے کچھ کرنا چاہیئے۔ دنیا اس وقت تک محفوظ نہیں ہو سکتی جب تک ہمارے پاس گرین لینڈ پر مکمل اور بھرپور کنٹرول نہ ہو۔
یہ کسی نارمل صدر مملکت کے الفاظ نہیں ہو سکتے جو محلے کی پست عورتوں کی طرح طعنے دینے بیٹھ جائے۔ مجھے امن کا نوبل پرائز نہیں دیا گیا اس لیے میں امن کو ترجیح ہی نہیں دوں گا، اب دنیا جلتی ہے تو جلتی رہے، جہاں میرے مفادات ہوں گے وہاں جنگ مسلط کرکے مفادات کو حاصل کروں گا۔ یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ دنیا کی بڑی طاقت کا سربراہ دھمکی اور طاقت کی زبان استعمال کرتا ہے اور دوسرے ممالک اور شخصیات کی توہین کرتا ہے۔ آپ اسی خط کو ملاحظہ کریں اس میں بھی بڑی دھمکی دی گئی ہے کہ گرین لینڈ دے دو تو امن ہوگا ورنہ دنیا محفوظ نہیں ہو سکتی۔ یعنی دنیا کو چلانے کا یہ طریقہ درست ہے کہ نقشے پر ہاتھ رکھو جو چیز پسند آئے وہ دے دی جائے تو آپ امن قائم رکھیں گے ورنہ آپ امن کو برباد کر دیں گے۔
ویسے یورپ کے ساتھ بالکل ٹھیک ہو رہا ہے کل یورپین یونین کے ممبران کی تقاریر سن رہا تھا، ٹرمپ کو خوب صلواتیں سنا رہے تھے اور درست کہہ رہے تھے کہ ہم روس سے گیس خریدتے تھے اسے بند کروایا گیا اور اب ہم گیس میں بھی امریکہ کے محتاج ہوگئے ہیں وہ اسے بھی دباؤ کے لیے استعمال کرے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈنمارک، ناروے، سویڈن، فرانس، جرمنی، برطانیہ، نیدرلینڈز اور فن لینڈ پردس فیصد ٹیکس لگانے کا اعلان کیا ہے۔ ان ممالک نے گرین لینڈ کے معاملے میں ڈنماک کی حمایت کی تھی اس لیے ان پر دس فیصد ٹیکس کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ ویسے ایک میٹھی سی دھمکی یہ بھی دی ہے کہ اگر گرین لینڈ فروخت نہ کیا گیا اور ان ممالک نے مخالفت جاری رکھی تو جون میں یہ ٹیکس بڑھا کر پچیس فیصد کر دیا جائے گا۔
یہ ممالک مفت میں امریکی پیادے تھے اب امریکی ہاتھی کا پاوں ان کی دم پرآ گیا ہے۔ یہ بغلیں بجا رہے تھے اور غیر یورپی ممالک پر امریکہ سے بڑھ کر امریکہ کی لگائی پابندیوں کو نافذ کرتے تھے۔ چند دن پہلے جب امریکی صدر نے اسلامی جمہوریہ ایران سے تجارت پر پچیس فیصد نافذ کرنے کا اعلان کیا تو اس کی مذمت کرنے کی بجائے یہ سب تالیاں بجا رہے تھے۔ آج خود اسی دباو کا شکار ہو چکے، ٹرمپ تاجر ہے اور ہر چیز کو مالی منفعت کے حساب سے تولتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ سب سے بڑا نقصان تجارت کا ہوتا ہے۔ اسی دباو سے ہی وہ اپنی خارجہ پالیسی کو نافذ کرتا ہے۔
آپ پاک بھارت جنگ بندی پر ٹرمپ کا ہر بیان سنیں تو آپ کو یہی دھمکی نظر آئے گی کہ میں نے انڈیا پاکستان کو جنگ روکنے کا کہا نہیں تو ٹیرف لگا دوں گا اور دونوں جنگ سے رک گئے۔ اپنے پڑوسی ملک کینڈا کو اسی طرح ٹریٹ کیا زیادہ تر اشیاء پر 25 فیصد ٹیکس لگایا جبکہ تیل اور توانائی کی مصنوعات پر 10 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔ کچھ چیزوں پر یہ ٹیکس 35 فیصد تک بڑھا دیا گیا۔ بار بار کینڈا کو کہا گیا کہ ہمارے ۵۲ویں ریاست بن جاو اور کینڈا کے وزیراعظم کو کہا کہ میں آپ کو کینڈا کا گورنر بنا دوں گا۔ اس سے بڑھ کر کسی ملک کی کیا توہین ہو سکتی؟ اسی لیے کینڈا کے نئے وزیراعظم چین پہنچ چکے ہیں اور امریکہ کے حکم پر چین پر لگائے ٹیکس زیرو کر دیے ہیں اور جواباً چین نے بھی سارے ٹیکس زیرو کر دیے ہیں۔
ویسے امریکہ کا اقتصادی پابندیوں سے اقوام، کمپنیوں اور افراد کو مجبور کرنے کا سلسلہ بہت پرانا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ دنیا بھر میں تقریباً 30 سے زائد ممالک کے افراد، اداروں اور کمپنیوں پر اقتصادی پابندیاں عائد کیے ہوئے ہے۔ امریکی محکمۂ خزانہ (OFAC) کی فہرستوں میں 17 ہزار سے زیادہ افراد اور ادارے شامل ہیں۔ یورپ امریکی تسلط کو محسوس کرکے ردعمل کی تیاری کر رہا ہے۔ وینزویلا سمیت لاطینی امریکہ کے ممالک اپنا اپنا دفاع مضبوط کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی وقت امریکہ جارحیت کا شکار نہ ہو جائیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران پر تو صرف اس لیے حملے سے رکے ہوئے ہیں کہ مضبوط دفاع سے خوفزدہ ہیں ورنہ ایک لمحہ نہ رکیں۔ حد یہ ہے کہ پاکستان کی بہت سی کمپنیوں پر پابندیاں لگا رکھیں اور پاکستان کی تعریفیں بھی کی جاتی ہیں۔ شام میں کرد علاقے بڑے طریقے سے جولانی کے حوالے کیے جا رہے ہیں اور ہزاروں داعش کے ارکان کو عراق، ایران اورپاکستان کے خلاف استعمال کرنے کے لیے جیلوں سے چھوڑ دیا گیا ہے۔ٹرمپ کی پالیسیاں پورے خطوں کو جنگوں کا ایندھن بنانے کی تیاری کر رہی ہیں۔ لاطینی امریکہ سے کینڈا، کینڈا سے گرین لینڈ اور وہاں سے شام اور شام سے ایران دنیا میں ہر جگہ جنگ جنگ کا طوفان ہے ابھی اقتصادی جنگ ہے اور پھر اس کے اگلا مرحلہ شروع ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پاکستان کی امریکہ کے گرین لینڈ فیصد ٹیکس دیا گیا رہے ہیں رہے تھے ہیں اور جا رہے ہے اور اس لیے گیا ہے کے لیے
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم