Islam Times:
2026-06-02@23:13:56 GMT

ٹرمپ اور جنگوں کا اٹھتا طوفان

اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT

ٹرمپ اور جنگوں کا اٹھتا طوفان

اسلام ٹائمز: وینزویلا سمیت لاطینی امریکہ کے ممالک اپنا اپنا دفاع مضبوط کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی وقت امریکہ جارحیت کا شکار نہ ہو جائیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران پر تو صرف اس لیے حملے سے رکے ہوئے ہیں کہ مضبوط دفاع سے خوفزدہ ہیں ورنہ ایک لمحہ نہ رکیں۔ حد یہ ہے کہ پاکستان کی بہت سی کمپنیوں پر پابندیاں لگا رکھیں اور پاکستان کی تعریفیں بھی کی جاتی ہیں۔ شام میں کرد علاقے بڑے طریقے سے جولانی کے حوالے کیے جا رہے ہیں اور ہزاروں داعش کے ارکان کو عراق، ایران اورپاکستان کے خلاف استعمال کرنے کے لیے جیلوں سے چھوڑ دیا گیا ہے۔ تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس 

عالمی سفارتکاری میں غیر شائستہ بات بھی الفاظ کے گورکھ دھندے میں ڈھال کر بڑی خوبصورتی سی کی جاتی ہے۔ اس کے لیے ممالک میں ادارے کام کرتے ہیں اور اس کے ماہرین ملکوں اور اداروں کا سرمایہ مانے جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر کچھ مندرجات پر نظر پڑی جن کے مطابق یہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نارویجن وزیر اعظم یوناس گاہر سٹورے کو لکھے خط کا متن ہے۔ کافی حیرت ہوئی اور اسے اے آئی جنریٹڈ سمجھا مگر تھوڑی ہی دیر کے بعد اسے معتبر سائیٹس نے بھی پبلش کرنا شروع کر دیا۔ تھوڑی تحقیق کی تو پتہ چلا کہ یہ متن بالکل اصلی ہے اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے صدر نے بذات خود یہ خط لکھا ہے۔ آپ خط کے مندرجات ملاحظہ فرمائیں پھر اس پر آگے بات کرتے ہیں۔

محترم جوناس چونکہ آپ کے ملک نے آٹھ جنگیں روکنے اور اس کے علاوہ بھی امن کے لیے میری کوششوں کے باوجود مجھے نوبل امن انعام دینے کا فیصلہ نہیں کیا، اس لیے اب میں خود کو صرف امن کے بارے میں سوچنے کا پابند محسوس نہیں کرتا۔ اگرچہ امن ہمیشہ میری ترجیح رہے گالیکن اب میں اس بات پر بھی غور کر سکتا ہوں کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے لیے کیا بہتر اور درست ہے۔ ڈنمارک اس سرزمین کو روس یا چین سے محفوظ نہیں رکھ سکتا اور آخر ان کے پاس اس کی “ملکیت کا حق” کیوں ہے؟ اس بارے میں کوئی تحریری دستاویز موجود نہیں، صرف یہ دعویٰ ہے کہ سینکڑوں سال پہلے وہاں ایک کشتی جا لگی تھی۔ لیکن ہماری کشتیاں بھی وہاں جا لگی تھیں۔ میں نے نیٹو کے قیام کے بعد سے کسی بھی شخص کے مقابلے میں اس کے لیے زیادہ کام کیا ہے، اور اب نیٹو کو بھی ریاست ہائے متحدہ کے لیے کچھ کرنا چاہیئے۔ دنیا اس وقت تک محفوظ نہیں ہو سکتی جب تک ہمارے پاس گرین لینڈ پر مکمل اور بھرپور کنٹرول نہ ہو۔

یہ کسی نارمل صدر مملکت کے الفاظ نہیں ہو سکتے جو محلے کی پست عورتوں کی طرح طعنے دینے بیٹھ  جائے۔ مجھے امن کا نوبل پرائز نہیں دیا گیا اس لیے میں امن کو ترجیح ہی نہیں دوں گا، اب دنیا جلتی ہے تو جلتی رہے، جہاں میرے مفادات ہوں گے وہاں جنگ مسلط کرکے مفادات کو حاصل کروں گا۔ یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ دنیا کی بڑی طاقت کا سربراہ دھمکی اور طاقت کی زبان استعمال کرتا ہے اور دوسرے ممالک اور شخصیات کی توہین کرتا ہے۔ آپ اسی خط کو ملاحظہ کریں اس میں بھی بڑی دھمکی دی گئی ہے کہ گرین لینڈ دے دو تو امن ہوگا ورنہ دنیا محفوظ نہیں ہو سکتی۔ یعنی دنیا کو  چلانے کا یہ طریقہ درست ہے کہ نقشے پر ہاتھ رکھو جو چیز پسند آئے وہ دے دی جائے تو آپ امن قائم رکھیں گے ورنہ آپ امن کو برباد کر دیں گے۔

ویسے یورپ کے ساتھ بالکل ٹھیک ہو رہا ہے کل یورپین یونین کے ممبران کی تقاریر سن رہا تھا، ٹرمپ کو خوب صلواتیں سنا رہے تھے اور درست کہہ رہے تھے کہ ہم روس سے گیس خریدتے تھے اسے بند کروایا گیا اور اب ہم گیس میں بھی امریکہ کے محتاج ہوگئے ہیں وہ اسے بھی دباؤ کے لیے استعمال کرے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈنمارک، ناروے، سویڈن، فرانس، جرمنی، برطانیہ، نیدرلینڈز اور فن لینڈ پردس فیصد ٹیکس لگانے کا اعلان کیا ہے۔ ان ممالک نے گرین لینڈ کے معاملے میں ڈنماک کی حمایت کی تھی اس لیے ان پر دس فیصد ٹیکس کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ ویسے ایک میٹھی سی دھمکی یہ بھی دی ہے کہ اگر گرین لینڈ فروخت نہ کیا گیا اور ان ممالک نے مخالفت جاری رکھی تو جون میں یہ ٹیکس بڑھا کر پچیس فیصد کر دیا جائے گا۔

یہ ممالک مفت میں امریکی پیادے تھے اب امریکی ہاتھی کا پاوں ان کی دم پرآ گیا ہے۔ یہ بغلیں بجا رہے تھے اور غیر یورپی ممالک پر امریکہ سے بڑھ کر امریکہ کی لگائی پابندیوں کو نافذ کرتے تھے۔ چند دن پہلے جب امریکی صدر نے اسلامی جمہوریہ ایران سے تجارت پر پچیس فیصد نافذ کرنے کا اعلان کیا تو اس کی مذمت کرنے کی بجائے یہ سب تالیاں بجا رہے تھے۔ آج خود اسی دباو کا شکار ہو چکے، ٹرمپ تاجر ہے اور ہر چیز کو مالی منفعت کے حساب سے تولتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ سب سے بڑا نقصان تجارت کا ہوتا ہے۔ اسی دباو سے ہی وہ اپنی خارجہ پالیسی کو نافذ کرتا ہے۔

آپ پاک بھارت جنگ بندی پر ٹرمپ کا ہر بیان سنیں تو آپ کو یہی دھمکی نظر آئے گی کہ میں نے انڈیا پاکستان کو جنگ روکنے کا کہا نہیں تو ٹیرف لگا دوں گا اور دونوں جنگ سے رک گئے۔ اپنے پڑوسی ملک کینڈا کو اسی طرح ٹریٹ کیا زیادہ تر اشیاء پر 25 فیصد ٹیکس لگایا جبکہ تیل اور توانائی کی مصنوعات پر 10 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔ کچھ چیزوں پر یہ ٹیکس 35 فیصد تک بڑھا دیا گیا۔ بار بار کینڈا کو کہا گیا کہ ہمارے ۵۲ویں ریاست بن جاو اور کینڈا کے وزیراعظم کو کہا کہ میں آپ کو کینڈا کا گورنر بنا دوں گا۔ اس سے بڑھ کر کسی ملک کی کیا توہین ہو سکتی؟ اسی لیے کینڈا کے نئے وزیراعظم چین پہنچ چکے ہیں اور امریکہ کے حکم پر چین پر لگائے ٹیکس زیرو کر دیے ہیں اور جواباً چین نے بھی سارے ٹیکس زیرو کر دیے ہیں۔

ویسے امریکہ کا اقتصادی پابندیوں سے  اقوام، کمپنیوں اور افراد کو مجبور کرنے کا سلسلہ بہت پرانا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ دنیا بھر میں تقریباً 30 سے زائد ممالک کے افراد، اداروں اور کمپنیوں پر اقتصادی پابندیاں عائد کیے ہوئے ہے۔ امریکی محکمۂ خزانہ (OFAC) کی فہرستوں میں 17 ہزار سے زیادہ افراد اور ادارے شامل ہیں۔ یورپ امریکی تسلط کو محسوس کرکے ردعمل کی تیاری کر رہا ہے۔ وینزویلا سمیت لاطینی امریکہ کے ممالک اپنا اپنا دفاع مضبوط کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی وقت امریکہ جارحیت کا شکار نہ ہو جائیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران پر تو صرف اس لیے حملے سے رکے ہوئے ہیں کہ مضبوط دفاع سے خوفزدہ ہیں ورنہ ایک لمحہ نہ رکیں۔ حد یہ ہے کہ پاکستان کی بہت سی کمپنیوں پر پابندیاں لگا رکھیں اور پاکستان کی تعریفیں بھی کی جاتی ہیں۔ شام میں کرد علاقے بڑے طریقے سے جولانی کے حوالے کیے جا رہے ہیں اور ہزاروں داعش کے ارکان کو عراق، ایران اورپاکستان کے خلاف استعمال کرنے کے لیے جیلوں سے چھوڑ دیا گیا ہے۔ٹرمپ کی پالیسیاں پورے خطوں کو جنگوں کا ایندھن بنانے کی تیاری کر رہی ہیں۔ لاطینی امریکہ سے کینڈا، کینڈا سے گرین لینڈ اور وہاں سے شام اور شام سے ایران دنیا میں ہر جگہ جنگ جنگ کا طوفان ہے ابھی اقتصادی جنگ ہے اور پھر اس کے اگلا مرحلہ شروع ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پاکستان کی امریکہ کے گرین لینڈ فیصد ٹیکس دیا گیا رہے ہیں رہے تھے ہیں اور جا رہے ہے اور اس لیے گیا ہے کے لیے

پڑھیں:

جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں

دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور بقا کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ سمجھا کہ فطرت ہمارے لیے ایک لامحدود خزانہ ہے جس سے ہم جتنا چاہیں لے سکتے ہیں مگر اب زمین ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر نعمت کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بے موسم کی بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور آلودگی محض موسمی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشانیاں بن چکے ہیں۔

 آج جب یورپ میں گرمی کی نئی لہر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ پرتگال اپنے مئی کے مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت دیکھ رہا ہے۔ اسپین، فرانس اور اٹلی میں خطرے کے الارم بج رہے ہیں،یہ انسانی تہذیب کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں تو یہ صرف موسم کی تبدیلی کی خبر نہیں بلکہ انسانی طرز زندگی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی ان انتباہات کو معمول کی خبروں کی طرح نظرانداز کرتے رہیں گے یا اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں گے؟

 ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ کہیں دور قطب شمالی کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز یا بحرالکاہل کے ڈوبتے ہوئے جزیروں کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے گھروں، ہماری گلیوں اور ہمارے شہروں تک آ پہنچا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ دنیا میں کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

کراچی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس شہر میں گرمی صرف ایک موسم نہیں ،ایک آزمائش ہے۔ مئی اور جون کی دوپہر میں جب سورج آگ برساتا ہے تو سڑکوں پر چلنے والا عام آدمی کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتا ہے، لیکن اسے سایہ کہاں ملے؟ ہمارے شہر کی بڑی شاہراہوں پر درخت کم ہوتے جا رہے ہیں۔

نئی سڑکیں بنتی ہیں، فلائی اوور بنتے ہیں، کنکریٹ کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں مگر درختوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک مزدور جو صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کرتا ہے، ایک خاتون جو بس اسٹاپ پر کھڑی ہے،ایک طالب علم جو پیدل گھر جا رہا ہے، ایک ٹریفک پولیس اہلکار جو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہتا ہے ان کے لیے شہر نے کیا انتظام کیا ہے؟ ان کے لیے سایہ کہاں ہے؟ کون سا درخت لگایا گیا ہے۔

 یورپ میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو حکومتیں عوام کو خبردار کرتی ہیں۔ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں گرمی کا سامنا زیادہ تر فرد کی اپنی ذمے داری سمجھ لیا جاتا ہے، گویا سورج سے بچنا بھی ایک ذاتی مسئلہ ہے اجتماعی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درخت صرف خوبصورت منظر کے لیے نہیں ہوتے۔ وہ زندگی ہوتے ہیں ،وہ فضا کو صاف کرتے ہیں ،زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں ،پرندوں کو گھر دیتے ہیں اور انسانوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک درخت کاٹنا صرف ایک درخت کاٹنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حصے کی ٹھنڈک چھین لینا ہے۔

 موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف درجہ حرارت کا مسئلہ بھی نہیں، یہ انصاف کا مسئلہ ہے دنیا کے امیر ممالک نے دو صدیوں تک صنعت کاری کے نام پر فضا میں کاربن بھرا اور آج اس کی قیمت وہ ممالک ادا کر رہے ہیں جو پہلے ہی غربت بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان کن چیز شاید ہماری بے حسی ہے۔ ہم ہر سال گرمی کے نئے ریکارڈ بنتے دیکھتے ہیں سیلاب آتے دیکھتے ہیں خشک سالی بڑھتی دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اسے ایک عارضی خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔

زمین کی تاریخ ہمیں ایک عجیب سبق دیتی ہے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے جب زمین کے ماحول میں آکسیجن کی مقدار اچانک بڑھی تھی تو اس وقت موجود بے شمار جاندار اس تبدیلی کو برداشت نہ کر سکے۔ اس واقعے کو بعض اوقات عظیم آکسیجنی تباہی کہا جاتا ہے اور اسے زمین کی اولین عظیم حیاتیاتی تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن زندگی کی بہت سی اشکال ختم ہو گئی تھیں۔ کچھ نئی انواع نے جنم لیا اور ارتقا کا سفر آگے بڑھتا رہا۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ فطرت انسان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے لیکن انسان فطرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔

آج ہم خود اپنے ہاتھوں سے فضا میں کاربن بھر رہے ہیں۔ کارخانوں کا دھواں، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور لامحدود منافع کی دوڑ ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں ایک نئی ماحولیاتی تباہی کا خطرہ موجود ہے۔ شاید زمین باقی رہے گی، سمندر باقی رہیں گے، پہاڑ باقی رہیں گے اور شاید زندگی کی کوئی نئی شکل بھی باقی رہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس دنیا میں انسان اسی طرح موجود رہیں جیسے آج ہیں۔ ارتقا کا عمل رکتا نہیں زندگی کسی نہ کسی صورت اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟

 یہ بات کسی خوف پھیلانے کے لیے نہیں کہی جا رہی بلکہ اس لیے کہ ہم حقیقت کو سمجھ سکیں۔ جو زہر ہم ماحول میں بو رہے ہیں وہ آخرکار ہماری اپنی سانسوں میں شامل ہو رہا ہے۔ جو درخت ہم کاٹ رہے ہیں ان کی کمی ہمارے اپنے جسموں پر گرمی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ جو دریا ہم آلودہ کر رہے ہیں وہی آلودگی ہماری اپنی زندگیوں میں واپس آ رہی ہے۔اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے معنی پر دوبارہ غور کریں۔ کیا ترقی صرف اونچی عمارتوں کا نام ہے؟ کیا ترقی صرف نئی شاہراہوں اور بڑے منصوبوں کا نام ہے؟ یا پھر ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک شہر میں چلنے والا انسان سایہ پا سکے صاف ہوا میں سانس لے سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ رہائش دنیا چھوڑ سکے؟

دنیا کی یہ بدلتی حالت شاید ہمیں ایک آخری موقع دے رہی ہے۔ ایک موقع کہ ہم اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اپنی ترجیحات بدلیں اور زمین کے ساتھ اپنے رشتے کو دوبارہ سمجھیں، کیونکہ فطرت انتقام نہیں لیتی وہ صرف اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ توازن بحال ہوگا تو کیا ہم اس کا حصہ ہوں گے یا تاریخ کی کسی معدوم نسل کی طرح صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان