پنجاب میں کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹر اب گھر گھر جاکر لوگوں کا علاج کریں گے، مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ پنجاب میں ٹیلی میڈیسن سسٹم متعارف کرانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹر اب گھر گھر جار کر لوگوں کا علاج کریں گے۔
جھنگ میں کیتھ لیب کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ڈی ایچ کیو اسپتال میں کارڈیک سرجری شروع کرانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے عوام کو ہر قسم کے علاج کی سہولت گھر کی دہلیز پر دیں گے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے پنجاب میں ٹیلی میڈیسن سسٹم متعارف کرانے اور لاہور کے نواز شریف میڈیکل ڈسٹرکٹ کی مارچ سے تعمیر شروع کرنے کا اعلان بھی کیا۔
انہوں نے کہا کہ جھنگ جیسے دور افتادہ شہر میں کیتھ لیب دیکھ کر خوشی ہوئی، میرا خواب پورا ہوا، اب غریب امیر کا ایک ہی جیسا علاج ہوگا، میرے ذہن میں کوئی تفریق نہیں، غربت اور وسائل کی کمی کے شکار افراد کے لیے ہارٹ اٹیک کسی قیامت سے کم نہیں ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ مشکل کی گھڑی میں مریض کو شفٹ کرنے کے لیے گاڑیوں کے کرائے بھی ادا کرنے پڑتے ہیں، ہارٹ اٹیک ہونے پر 60منٹ کے گولڈن آور میں مریض کو اسپتال شفٹ کرنے سے جان بچائی جاسکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جھنگ کی کیتھ لیب میں مریض کے پروسیجر کا مشاہدہ کیا، ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز اسپتال میں لوگوں نے بتایا کہ ہارٹ اٹیک ہونے پر مریض لاہور لے جانے کی بجائے جھنگ اسپتال میں لائے ہیں، مریض کو فیصل آباد کارڈیالوجی میں 8 ماہ بعد کی تاریخ ملی، جھنگ میں 48 گھنٹے میں پروسیجر مکمل ہوگیا۔
مریم نواز نے کہا کہ انتظامیہ کی معاونت کے بغیر ممکن نہیں تھا، کبھی کبھی کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز سے سختی برتنا پڑتی ہے لیکن سختی ذمہ داری کے بوجھ پر کی جاتی ہے، ہم عوام کے دکھ درد میں ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب بھر میں 16 کیتھ لیب کا آغاز ہفتوں اور مہینوں میں کیا، ساہیوال، مری اور سرگودھا میں کارڈیالوجی کے انسٹی ٹیوٹ بنائے، مری میں علاج کے لیے دوردراز علاقوں کے علاوہ کے پی سے بھی سے لوگ آتے ہیں۔
جب بھی نیا اسپتال ڈیزائن کرتے ہیں دوسرے صوبوں کے مریضوں کو مدنظر رکھتے ہیں، مریم نواز
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے دروازے دوسرے صوبوں کے بہن بھائیوں کے لیے کھول رکھے ہیں، جب بھی نیا اسپتال ڈیزائن کرتے ہیں، دوسرے صوبوں کے مریضوں کی ضرورتوں کو بھی مد نظر رکھتے ہیں۔
مریم نواز نے کہا کہ لاہور میں 100بیڈ کا پہلا سرکاری کینسر اسپتال پنجاب کے علاوہ دوسرے صوبوں کے مریضوں کی ضرورتوں کو بھی مد نظر رکھ کر بنایا جا رہا ہے، مریم جھنگ میں کیتھ لیب کوباقاعدہ افتتاح سے پہلے ہی فنکشنل کر دیا تاکہ مریضوں کو پریشانی نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ جھنگ میں چند دنوں میں 30 انجیو گرافی اور پلاسٹی پروسیجر ہوچکے ہیں، ہارٹ اٹیک ہونے پر چند مریض انجیو گرافی اور انجیو پلاسٹی سے صحت یاب ہوتے اور کچھ کو سرجری کی ضرورت بھی پڑتی ہے۔
جھنگ میں بیوٹیفکیشن کے 4 پروجیکٹ جلد مکمل کریں گے، مریم نواز
ان کا کہنا تھا کہ جھنگ میں دیہی اور نیم شہری علاقوں میں بیوٹیفکیشن کے چار پراجیکٹ جلد مکمل کرائیں گے، جھنگ میں 350 کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر ومرمت ہوچکی ہے، 6 ماہ میں جھنگ ترقی یافتہ شہر کا منظر کا پیش کرے گا، پنجاب میں اب صفائی گھر کی دہلیز تک ہوتی ہے، دروازکھٹکھٹا کر کوڑا اکٹھا کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب بھر میں 7 لاکھ مریضوں کو انسولین اور دیگر مفت ادویات پہنچا چکے ہیں، مریضوں کے لیے ہوم ڈیلیوری میڈیسن اور بھی بڑھائیں گے، ڈائیلسز کارڈ کے ذریعے ہر مریض 10 لاکھ تک علاج کراسکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کلینک آن ویل اور فیلڈ اسپتالوں کے ذریعے دو کروڑ افراد علاج کروا چکے ہیں، فیلڈ اسپتالوں میں ایکسرے، ای سی جی، الٹراساؤنڈ اور سرجریکل پروسیجر بھی ہور ہے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب کے عوام کو 100ارب روپے کی فری ادویات مہیا کر رہے ہیں، اسپتالوں میں مفت ادویات کی فراہمی کے اعلان ہوتے ہیں۔ آرگن ٹرانسپلانٹ مہنگا علاج ہے، عوام کو ٹرانسپلانٹ کارڈ بھی مہیا کر رہے ہیں۔
مریم نواز نے کہا کہ وزیراعلیٰ بننے پر کارڈیک سرجری کے لیے 15ہزار بچوں کی ویٹنگ لسٹ کا سن کر افسوس ہوا، پیڈ کارڈیک سرجری کے لیے سال بھر سے زیادہ انتظار کرنا پڑتا تھا، اللہ تعالی کے فضل و کرم سے 10ہزار بچے کارڈیک سرجری کے صحت یاب ہوچکے ہیں، ان میں خیبرپختونخوا، سندھ اور آزاد کشمیر کے بچے شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ والدین اپنے بچوں کو بہتر علاج کے لیے دوسرے صوبوں سے پنجاب لاتے ہیں، مریضوں کو فوری علاج کے لیے منتقل کرنے ایئر ایمبولینس شروع کی، فالج کے مریضوں کو سرکاری اسپتالوں میں لاکھوں روپے کا ٹی این کے انجکشن فری لگے گا۔
ٹیلی میڈیسن سسٹم کے تحت ڈاکٹر فون اسکرین پر موجود ہوگا، وزیراعلیٰ
انہوں نے کہا کہ ٹیلی میڈیسن سسٹم کے تحت ڈاکٹر فون کی اسکرین پر موجود ہوگا، پنجاب بھر میں دنیا بھر سے بہترین کنسلٹنٹ ڈاکٹر لارہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف میڈیکل سٹی میں ان پیچیدہ بیماریوں کا علاج ہوگا جو پہلے یہاں ممکن نہیں تھا، نواز شریف میڈیکل ڈسٹرکٹ میں چلڈرن اسپتال، کارڈیالوجی، بلڈ ڈیزیز، ہڈیوں کے پیچیدہ امراض اور جلنے والے مریضوں کا بھی علاج ہوگا۔
مریم نواز نے کہا کہ نواز شریف میڈیکل ڈسٹرکٹ میں جینٹک اور مو ذی امراض کا بھی علاج ہوگا، کینسر کے علاج کے لیے چین سے نئی مشین اور ٹیکنالوجی لائے، ایک گھٹنے میں مریض کینسر فری ہوجاتا ہے،کوابلیشن مشین میں کینسر کے علاج کے لیے پروب آلہ 16لاکھ روپے کاآتا ہے، محکمہ ہیلتھ کو 6 ارب روپے دے چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹر اب گھر گھر جاکر لوگوں کا علاج کریں گے اور 6 ماہ میں مکمل ہیلتھ پروفائل بنائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں سمجھتی ہوں جو مریض کے علاج میں غفلت کرتے ہیں انہیں حکومت کرنا کا کوئی حق نہیں، گٹر کا ڈھکن نہ ہونے سے مرنے والوں کا ذمہ دار کون ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مریم نواز نے کہا کہ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف میڈیکل ٹیلی میڈیسن سسٹم نے کہا کہ پنجاب انہوں نے کہا کہ کارڈیک سرجری علاج کے لیے مریضوں کو کے مریضوں ہارٹ اٹیک علاج ہوگا صوبوں کے کیتھ لیب کہ جھنگ کا علاج کریں گے کے علاج ہے ہیں
پڑھیں:
چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
پاکستانی اداکار شہزاد نواز نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں پاکستانی کرنسی سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہٹا دی جائے۔حال ہی میں شہزاد نواز سے اداکار علی سفینہ نے انٹرویو لیا جس میں ملکی حالات سمیت دیگر اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی۔علی سفینہ نے کہا 'جب بھی کوئی حکومت بدلتی ہے تو آپ کو اپنے اردگرد تبدیلیاں نظر آتی ہیں، مثلاً ایک ثقافتی پالیسی کہتی ہے کہ قائداعظم اور علامہ اقبال ہیرو ہیں، ہم ان کے دور حکومت میں ان سب کو دیکھتے ہیں، ان کی تصاویر لگائی جاتی ہیں کہ پھر دوسری آنے والی حکومت ان کی تصویریں ہٹا کر اپنے قائدین کی تصویریں لگادیتے ہیں'۔شہزاد نواز نے سوال کیا کیا ایسا ہوا ہے؟ یہ غالباً کراچی ائیرپورٹ پر ہوا تھا، جواب میں علی نے کہا بالکل۔علی سفینہ سے گفتگو کے دوران شہزاد نواز کا کہنا تھا 'اگر یہ میرے اختیار میں ہوتا تو میں تمام کرنسی نوٹوں سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دوں گا کیونکہ لوگوں میں کوئی شرم نہیں ہے، رشوت لے رہے ہیں اور دے رہے ہیں، فراڈ میں ملوث ہیں جب کہ کرنسی نوٹوں پر ان کی تصویر ہے اور وہ آپ کو یہ سب کرپٹ کام کرتے دیکھ رہے ہیں'۔انہوں نے کہا 'اگر اسی طرح نوٹوں کی سرعام بے عزتی ہوتی رہی تو اس تصویر کا کیا فائدہ، ضیاالحق کے دور میں بڑی اچھی تبدیلی آئی کے نوٹوں پر عبارت درج کی گئی رزقِ حلال عین عبادت ہے'۔شہزاد نواز نے کہا 'بعدازاں مشرف کے دور میں اس عبارت کو چھوٹا کردیا گیا، میرے خیال میں اب اسے نوٹوں پر سے نکال دینا چاہیے'۔