سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، سزائے موت کی تمام زیر التوا اپیلیں 45 دن میں نمٹانے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد :سپریم کورٹ آف پاکستان نے سزائے موت سے متعلق تمام زیر التوا اپیلیں آئندہ 45 دن کے اندر نمٹانے کا فیصلہ کر لیا ہے، یہ اہم فیصلہ چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت سپریم کورٹ میں منعقدہ ماہانہ اصلاحات ایکشن پلان اجلاس میں کیا گیا، جسے عدالتی نظام میں تیزی اور شفافیت کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق اجلاس میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر، سیکریٹری اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی، اجلاس میں عدالتی اصلاحات، مقدمات کی درجہ بندی، ٹیکنالوجی کے استعمال اور فوجداری اپیلوں کے جلد از جلد فیصلے سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اعلامیے میں بتایا گیا کہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے منصب سنبھالنے کے وقت، 26 اکتوبر 2024 کو سزائے موت کی زیر التوا اپیلوں کی تعداد 384 تھی، جو اب کم ہو کر 107 رہ گئی ہے، اس دوران 172 نئی سزائے موت کی اپیلیں دائر ہوئیں جبکہ مجموعی طور پر 449 اپیلیں نمٹائی گئیں، جو عدالتی کارکردگی میں نمایاں بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ کیس کیٹیگرائیزیشن کا عمل آئندہ دو ماہ میں مکمل کر لیا جائے گا جبکہ مقدمات کی فائلوں کی ٹریکنگ کے لیے بار کوڈنگ سسٹم اگلے 15 دنوں میں فعال ہو جائے گا، اس اقدام کا مقصد مقدمات کے ریکارڈ کو مؤثر انداز میں منظم کرنا اور فیصلوں میں تاخیر کو کم کرنا ہے۔
چیف جسٹس کی زیر صدارت اجلاس میں عمر قید کے مقدمات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ منصب سنبھالنے کے وقت عمر قید کی زیر التوا اپیلوں کی تعداد 4160 تھی، جو کم ہو کر 3608 رہ گئی ہے، عمر قید کی اپیلوں کو نمٹانے کے لیے باقاعدہ ٹائم لائن سزائے موت کی اپیلیں نمٹانے کے بعد طے کی جائے گی۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ 80 سال یا اس سے زائد عمر کے سزا یافتہ ملزمان کی جیل پٹیشنز کو ترجیحی بنیادوں پر سماعت کے لیے مقرر کیا جائے گا، بریفنگ میں بتایا گیا کہ عدالتی ریکارڈ بڑے پیمانے پر ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے جو عدالتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے بار ایسوسی ایشن کا پٹیشنز کی سافٹ کاپیز اور ای فائلنگ کے نظام میں تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے انصاف کی بروقت فراہمی ممکن بنائی جا رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بتایا گیا کہ سزائے موت کی سپریم کورٹ زیر التوا اجلاس میں چیف جسٹس کی زیر
پڑھیں:
سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
---فائل فوٹواسلام آباد ہائی کورٹ نے سارا انعام قتل کیس میں سزا یافتہ مجرم شاہنواز امیر کی سزا کے خلاف اپیل اور دیگر متعلقہ اپیلوں کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
کیس کی سماعت جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس محمد آصف نے کی، مجرم کی والدہ ثمینہ شاہ کی بریت کے خلاف درخواست بھی زیرِ سماعت آئی۔
سماعت کے دوران شاہنواز امیر کی جانب سے وکیل چوہدری عبدالعزیز جبکہ مقتولہ سارا انعام کے والد کی جانب سے رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے کیس کی سماعت کی۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ کیا فریقین دلائل کے لیے تیار ہیں جس پر دونوں جانب کے وکلا نے آمادگی ظاہر کی، بعد ازاں وکیل چوہدری عبدالعزیز نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے ایف آئی آر کا متن پڑھا۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں ایاز امیر ابتدا ہی میں کیس سے ڈسچارج ہو گئے تھے اور اس حکم کو کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ثمینہ شاہ کو بھی ٹرائل کورٹ نے عدم شواہد کی بنیاد پر بری کیا تھا تاہم اس وقت ان کے وکیل عدالت میں موجود نہیں تھے۔
عدالت نے آئندہ تاریخ کے حوالے سے فریقین سے رائے طلب کی جس پر رضوان عباسی نے سماعت آئندہ ہفتے یا موسم گرما کی تعطیلات کے بعد مقرر کرنے کی استدعا کی۔
اسلام آباداسلام آباد کی مقامی عدالت نے سارہ...
بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ ستمبر 2022ء میں سارا انعام کو ان کے شوہر شاہنواز امیر نے قتل کر دیا تھا جبکہ ٹرائل کورٹ شاہنواز امیر کو سزائے موت سنا چکی ہے۔