بنوں: ’کھلونا بم‘دھماکا، 2 لڑکے زخمی
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں کے علاقے ڈومیل میں بدھ کے روز ہونے والے ایک دھماکے میں 2 لڑکے زخمی ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: بنوں میں دہشتگردی کا نشانہ بننے والے اسسٹنٹ کمشنر کون تھے؟
ریسکیو 1122 کے مطابق زخمی بچوں کی عمریں 12 سے 13 سال کے درمیان ہیں جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
ریسکیو 1122 کے ترجمان اکرم خان نے میڈیا کو بتایا کہ دونوں بچے بوڈین خیل روڈ پر موجود تھے جہاں انہیں ایک مشکوک شے ملی جو بظاہر کھلونے جیسی دکھائی دیتی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ جونہی بچوں نے اس شے کو اٹھایا وہ زور دار دھماکے سے پھٹ گئی جس کے نتیجے میں دونوں بچے زخمی ہو گئے۔
اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیم موقعے پر پہنچی اور زخمی بچوں کو فوری طور پر خلیفہ گل نواز ٹیچنگ اسپتال منتقل کیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں: بنوں میں سرکاری گاڑی پر حملہ، اسسٹنٹ کمشنر سمیت 4 افراد شہید، 3 زخمی
واضح رہے کہ یہ واقعہ بنوں میں حالیہ بم دھماکے کے تقریباً 2 ہفتے بعد پیش آیا ہے جس میں ڈومیل تحصیل کے سابق ناظم فدا محمد خان وزیر زخمی ہوئے تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنوں بنوں 2 لڑکے زخمی بنوں بم دھماکا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنوں 2 لڑکے زخمی بنوں بم دھماکا
پڑھیں:
چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
چیک ریپبلک کے مشرقی حصے میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک جبکہ تین دیگر زخمی ہو گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چیک وزارتِ دفاع اور فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حادثہ بدھ کے روز نامیشت ناد اوسلاوو ایئر فورس بیس پر پیش آیا جو دارالحکومت پراگ سے تقریباً 180 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔
حادثے کا شکار ہونے والا ہیلی کاپٹر UH-1Y Venom تھا، جس میں مجموعی طور پر 5 فوجی اہلکار سوار تھے۔ حادثے میں ایک اہلکار موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا جبکہ تین زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیلی کاپٹر معمول کی فوجی تربیتی سرگرمی کے سلسلے میں پرواز کر رہا تھا، تاہم حکام نے ابھی تک اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے فوج نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی ہیں۔
چیک حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں، آیا حادثہ تکنیکی خرابی، موسمی حالات یا انسانی غلطی کے باعث پیش آیا۔ تحقیقات کے نتائج سے میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔