سانحہ گل پلازہ سندھ حکومت اور قابض میئر کراچی کی بدترین نااہلی کا ثبوت ہے، منعم ظفر
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی:امیر جماعتِ اسلامی کراچی منعم ظفر خان اور سکریٹری ضلع قائدین ویوسی چیئرمین نعمان حمید نے سانحہ گل پلازہ میں لاپتا ہونے والے دو تاجروں اور دو مزدوروں کے گھروں پر جا کر اہلِ خانہ اور لواحقین سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔ اس موقع پر انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے صبر و استقامت کی تلقین کی اور ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
منعم ظفر خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ گل پلازہ کراچی کی تاریخ کے بدترین سانحات میں سے ایک ہے، افسوسناک پہلو یہ ہے کہ واقعے کو کئی گھنٹے اور دن گزر جانے کے باوجود اب تک تمام لاشیں نہیں نکالی جا سکیں جو سندھ حکومت اور قابض میئر کراچی کی سنگین نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے، ایسے اندوہناک واقعات حکومتی عدم توجہی اور ناقص انتظامات کا نتیجہ ہوتے ہیں۔
امیر جماعتِ اسلامی کراچی نے کہا کہ شہرِ قائد میں بلند و بالا کمرشل عمارتیں بغیر کسی مؤثر حفاظتی انتظامات، فائر سیفٹی پلان اور قانونی اجازت کے قائم کی جا رہی ہیں، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) مبینہ طور پر رشوت اور چشم پوشی کے ذریعے انسانی جانوں سے کھیل رہی ہے، جس کا خمیازہ معصوم شہریوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
منعم ظفر خان کا کہنا تھا کہ اگر گل پلازہ میں ایمرجنسی ایگزٹ، فائر الارم سسٹم، اسپرنکلرز اور ریسکیو کے بنیادی انتظامات موجود ہوتے تو قیمتی انسانی جانوں کا اتنا بڑا نقصان نہ ہوتا۔ بدقسمتی سے حادثے کے وقت نہ تو بروقت ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا اور نہ ہی فائر بریگیڈ مطلوبہ مشینری اور استعداد کے ساتھ موقع پر پہنچ سکی، جس کے باعث شہری آگ اور دھوئیں میں پھنس کر بے بسی کی تصویر بنے رہے۔
انہوں نے بتایا کہ اب تک 84 افراد لاپتا ہیں جبکہ 63 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں، جو اس المناک سانحے کی شدت اور سنگینی کو واضح کرتا ہے،ریسکیو عمل کی سست روی نے متاثرہ خاندانوں کے دکھ اور کرب میں مزید اضافہ کیا ہے۔
امیر جماعتِ اسلامی کراچی نے مطالبہ کیا کہ سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق ہونے والے افراد کے ورثاء کو فوری اور بلا تاخیر معاوضہ ادا کیا جائے اور تمام متاثرین کو مکمل زرِ تلافی فراہم کی جائے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ شہر میں قائم تمام کمرشل عمارتوں کا فوری آڈٹ کیا جائے، ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور آئندہ ایسے سانحات سے بچاؤ کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کیے جائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سانحہ گل پلازہ
پڑھیں:
بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
تصویر سوشل میڈیا۔پراونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے مون سون بارشوں کے باعث نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کر دی۔
لاہور ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے۔
بارش رکنے کے بعد ایم ڈی واسا نے تمام انڈر پاس کلیئر کر دینے کا دعویٰ کیا، بارش کے باعث نناوے فیڈرز بھی متاثر ہوئے، بحالی کا کام جاری ہے، ڈیفنس میں بارش کے پانی میں ایک منچلا کشتی لے آیا۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں میں کرنٹ لگنے سے 3 اور آسمانی بجلی گرنے سے 2 افرادجاں بحق ہوئے۔ بارش کے پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا، بارشوں کے باعث 38 مکانات جزوی طور پر متاثر ہوئے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 10 سے 50 لاکھ روپے تک امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ شہریوں سے گزارش ہے موسم برسات میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔