data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی:امیر جماعتِ اسلامی کراچی منعم ظفر خان اور سکریٹری ضلع قائدین ویوسی چیئرمین نعمان حمید نے سانحہ گل پلازہ میں لاپتا ہونے والے دو تاجروں اور دو مزدوروں کے گھروں پر جا کر اہلِ خانہ اور لواحقین سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔ اس موقع پر انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے صبر و استقامت کی تلقین کی اور ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

منعم ظفر خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ گل پلازہ کراچی کی تاریخ کے بدترین سانحات میں سے ایک ہے، افسوسناک پہلو یہ ہے کہ واقعے کو کئی گھنٹے اور دن گزر جانے کے باوجود اب تک تمام لاشیں نہیں نکالی جا سکیں جو سندھ حکومت اور قابض میئر کراچی کی سنگین نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے، ایسے اندوہناک واقعات حکومتی عدم توجہی اور ناقص انتظامات کا نتیجہ ہوتے ہیں۔

امیر جماعتِ اسلامی کراچی نے کہا کہ شہرِ قائد میں بلند و بالا کمرشل عمارتیں بغیر کسی مؤثر حفاظتی انتظامات، فائر سیفٹی پلان اور قانونی اجازت کے قائم کی جا رہی ہیں، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) مبینہ طور پر رشوت اور چشم پوشی کے ذریعے انسانی جانوں سے کھیل رہی ہے، جس کا خمیازہ معصوم شہریوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

منعم ظفر خان کا کہنا تھا کہ اگر گل پلازہ میں ایمرجنسی ایگزٹ، فائر الارم سسٹم، اسپرنکلرز اور ریسکیو کے بنیادی انتظامات موجود ہوتے تو قیمتی انسانی جانوں کا اتنا بڑا نقصان نہ ہوتا۔ بدقسمتی سے حادثے کے وقت نہ تو بروقت ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا اور نہ ہی فائر بریگیڈ مطلوبہ مشینری اور استعداد کے ساتھ موقع پر پہنچ سکی، جس کے باعث شہری آگ اور دھوئیں میں پھنس کر بے بسی کی تصویر بنے رہے۔

انہوں نے بتایا کہ اب تک 84 افراد لاپتا ہیں جبکہ 63 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں، جو اس المناک سانحے کی شدت اور سنگینی کو واضح کرتا ہے،ریسکیو عمل کی سست روی نے متاثرہ خاندانوں کے دکھ اور کرب میں مزید اضافہ کیا ہے۔

امیر جماعتِ اسلامی کراچی نے مطالبہ کیا کہ سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق ہونے والے افراد کے ورثاء کو فوری اور بلا تاخیر معاوضہ ادا کیا جائے اور تمام متاثرین کو مکمل زرِ تلافی فراہم کی جائے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ شہر میں قائم تمام کمرشل عمارتوں کا فوری آڈٹ کیا جائے، ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور آئندہ ایسے سانحات سے بچاؤ کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کیے جائیں۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سانحہ گل پلازہ

پڑھیں:

فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید

ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید(فائل فوٹو)۔

ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے امیر جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن کے بیان پر ردِعمل دے دیا۔

ایک بیان میں سعدیہ جاوید کا کہنا ہے کہ فلاحی ریاست کا درس دینے والے آج غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں ہیں؟ 

ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ حافظ نعیم الرحمٰن کا بیان ان کی سطحی اور غریب دشمن سوچ کا عکاس ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو فراڈ قرار دینا لاکھوں مستحق خاندانوں کی توہین کے مترادف ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود