اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے قائم کی گئی غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کر لی ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت دینے کے بعد اسرائیلی وزیراعظم  نیتن یاہو کے دفتر نے بدھ کو جاری کردہ بیان میں تصدیق کی کہ وزیراعظم اس عالمی فورم کے رکن کے طور پر شامل ہوں گے۔

نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ بورڈ آف پیس میں مختلف ممالک کے عالمی رہنما حصہ لیں گے اور اس کا بنیادی مقصد بین الاقوامی تنازعات کے حل اور امن کے فروغ میں معاونت فراہم کرنا ہے۔

بورڈ آف پیس میں شمولیت کے اعلان کے بعد خطے کے دیگر ممالک جیسے متحدہ عرب امارات (یو اے ای)، بحرین اور مراکش نے بھی صدر ٹرمپ کی دعوت قبول کر کے اس عالمی کوشش میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔

واضح رہے کہ بورڈ آف پیس کا بنیادی مقصد غزہ میں ترقیاتی منصوبوں اور بحالی کے امور کی نگرانی ہے، لیکن اس کے چارٹر میں اس کے دائرۂ کار کو صرف غزہ تک محدود نہیں رکھا گیا، بلکہ اس میں وسیع تر خطے کے امن و استحکام سے متعلق امور بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

اس بورڈ میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کو بھی شمولیت کی دعوت دی گئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر غزہ اور خطے کے امن کے لیے اعلیٰ سطحی تعاون کی کوششیں تیزی سے جاری ہیں۔ اس اقدام کو متعدد تجزیہ کار بین الاقوامی تعلقات میں مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جس سے خطے میں اقتصادی اور سیاسی استحکام کے امکانات روشن ہو سکتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل بورڈ آف پیس میں شمولیت نیتن یاہو کی دعوت ٹرمپ کی

پڑھیں:

امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔

منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔

سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان