انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) راولپنڈی میں علیمہ خان سمیت 11 ملزمان کے خلاف درج مقدمے میں مجموعی طور پر 10 گواہان پر جرح مکمل ہوچکی ہے۔

اے ٹی سی راولپنڈی میں علیمہ خان سمیت 11 ملزمان کے خلاف 26 نومبر احتجاج پر درج مقدمے کی سماعت ہوئی۔

اے ٹی سی جج امجد علی شاہ نے سماعت کی، کمرہ عدالت میں سینئر پراسیکیوٹر ظہیر شاہ اور پراسیکیوٹر محمد یوسف موجود تھے۔

وکیل صفائی نے استغاثہ کے مزید 3 گواہان پر جرح مکمل اور 2 پر جزوی جرح کی، اے ٹی سی راولپنڈی نے مقدمے میں مجموعی طور پر 10 گواہان پر جرح مکمل ہوچکی ہے۔

عدالت نے استغاثہ کے مزید گواہان کو طلب کرلیا اور سماعت 26 جنوری تک ملتوی کردی۔

عدالت نے نادرا، اسٹیٹ بینک سے علیمہ خان کے شناختی کارڈ اور بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات طلب کرلیں۔

دوران سماعت علیمہ خان نے عدالت سے شناختی کارڈ اور ذاتی بینک اکاؤنٹ ڈی فریز کرنے کی استدعا کی تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: گواہان پر جرح مکمل علیمہ خان اے ٹی سی

پڑھیں:

این سی سی آئی اے کے افسران کو فرائض کی انجام دہی سے نہ روکا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ

فائل فوٹو۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے تحریری حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ این سی سی آئی اے کے افسران کو فرائض کی انجام دہی سے نہ روکا جائے، ملازمین کے خلاف کسی بھی تادیبی کارروائی سے روکنے کا حکم امتناع برقرار ہے۔ 

عدالت عالیہ کے جسٹس اعظم خان نے متاثرہ افسران کی درخواست پر سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔ این سی سی آئی کے کانٹریکٹ ملازمین نے مستقلی کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے۔ 

عدالت عالیہ کے مطابق این سی سی آئی اے حکام کی جانب سے جواب داخل کرانے کیلئے مزید مہلت کی استدعا کی گئی۔  

حکم نامہ کے مطابق درخواست گزاروں کے وکلا نے فریقین کو جواب داخل کرانے کیلیے مزید مہلت دینے کی مخالفت کی، وکیل نے کہا 13 فروری کو پہلی سماعت کے بعد سے جواب جمع کرانے کے متعدد مواقع دیے گئے۔ 

تحریری حکم نامے کے مطابق فریقین کے وکلا نے ہر سماعت پر مختلف حیلے بہانوں سے التوا کی درخواست کی، وکیل نے کہا کہ تاخیری حربوں کے باعث درخواست گزاروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔  

عدالت عالیہ کے مطابق این سی سی آئی اے حکام کو 30 جولائی سے قبل جواب جمع کرانے کی مہلت دی جاتی ہے، آئندہ سماعت تک جواب داخل نہ کرایا گیا تو دستیاب ریکارڈ پر کیس کا فیصلہ کر دیا جائے گا۔ 

تحریری حکم نامے کے مطابق اتنے پڑھے لکھے اور تجربہ کار افراد کو کام سے روکنا زیادتی ہے، فریقین کو ہدایت کی جاتی ہے کہ درخواست گزار افسران کے قانون کے مطابق کام میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔ 

عدالت نے کیس کی مزید سماعت 30 جولائی تک ملتوی کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • این سی سی آئی اے کے افسران کو فرائض کی انجام دہی سے نہ روکا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ
  • اداکار منیب بٹ اغوا برائے تاوان کیس کا ڈراپ سین
  • اسلام آباد ہائیکورٹ کا این سی سی آئی اے فیز 3 کے گریڈ 16 تا 18 کے افسران کو بڑا ریلیف
  • ریاست مخالف ٹوئٹ کیس: پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید اور فلک جاوید کے جیل ٹرائل کےلیے دائر درخواست خارج
  • قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • فلک جاوید اور صنم جاوید کےخلاف ٹویٹ کیس کی سماعت ملتوی
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ