اے ٹی سی راولپنڈی، علیمہ خان کیخلاف درج مقدمے کی سماعت، 10 گواہان پر جرح مکمل
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) راولپنڈی میں علیمہ خان سمیت 11 ملزمان کے خلاف درج مقدمے میں مجموعی طور پر 10 گواہان پر جرح مکمل ہوچکی ہے۔
اے ٹی سی راولپنڈی میں علیمہ خان سمیت 11 ملزمان کے خلاف 26 نومبر احتجاج پر درج مقدمے کی سماعت ہوئی۔
اے ٹی سی جج امجد علی شاہ نے سماعت کی، کمرہ عدالت میں سینئر پراسیکیوٹر ظہیر شاہ اور پراسیکیوٹر محمد یوسف موجود تھے۔
وکیل صفائی نے استغاثہ کے مزید 3 گواہان پر جرح مکمل اور 2 پر جزوی جرح کی، اے ٹی سی راولپنڈی نے مقدمے میں مجموعی طور پر 10 گواہان پر جرح مکمل ہوچکی ہے۔
عدالت نے استغاثہ کے مزید گواہان کو طلب کرلیا اور سماعت 26 جنوری تک ملتوی کردی۔
عدالت نے نادرا، اسٹیٹ بینک سے علیمہ خان کے شناختی کارڈ اور بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات طلب کرلیں۔
دوران سماعت علیمہ خان نے عدالت سے شناختی کارڈ اور ذاتی بینک اکاؤنٹ ڈی فریز کرنے کی استدعا کی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: گواہان پر جرح مکمل علیمہ خان اے ٹی سی
پڑھیں:
این سی سی آئی اے کے افسران کو فرائض کی انجام دہی سے نہ روکا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ
فائل فوٹو۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے تحریری حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ این سی سی آئی اے کے افسران کو فرائض کی انجام دہی سے نہ روکا جائے، ملازمین کے خلاف کسی بھی تادیبی کارروائی سے روکنے کا حکم امتناع برقرار ہے۔
عدالت عالیہ کے جسٹس اعظم خان نے متاثرہ افسران کی درخواست پر سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔ این سی سی آئی کے کانٹریکٹ ملازمین نے مستقلی کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے۔
عدالت عالیہ کے مطابق این سی سی آئی اے حکام کی جانب سے جواب داخل کرانے کیلئے مزید مہلت کی استدعا کی گئی۔
حکم نامہ کے مطابق درخواست گزاروں کے وکلا نے فریقین کو جواب داخل کرانے کیلیے مزید مہلت دینے کی مخالفت کی، وکیل نے کہا 13 فروری کو پہلی سماعت کے بعد سے جواب جمع کرانے کے متعدد مواقع دیے گئے۔
تحریری حکم نامے کے مطابق فریقین کے وکلا نے ہر سماعت پر مختلف حیلے بہانوں سے التوا کی درخواست کی، وکیل نے کہا کہ تاخیری حربوں کے باعث درخواست گزاروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔
عدالت عالیہ کے مطابق این سی سی آئی اے حکام کو 30 جولائی سے قبل جواب جمع کرانے کی مہلت دی جاتی ہے، آئندہ سماعت تک جواب داخل نہ کرایا گیا تو دستیاب ریکارڈ پر کیس کا فیصلہ کر دیا جائے گا۔
تحریری حکم نامے کے مطابق اتنے پڑھے لکھے اور تجربہ کار افراد کو کام سے روکنا زیادتی ہے، فریقین کو ہدایت کی جاتی ہے کہ درخواست گزار افسران کے قانون کے مطابق کام میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 30 جولائی تک ملتوی کر دی۔