یورپ میں افغان انسانی اسمگلنگ نیٹ ورک بے نقاب، مرکزی ملزمان ملک بدر
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لندن:یورپ میں سرگرم افغان انسانی اسمگلنگ کے ایک بڑے نیٹ ورک کا پردہ فاش ہو گیا ہے، جس میں برطانیہ اور بیلجیئم کی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے دو مرکزی ملزمان کو ملک بدر کر دیا ہے۔ یہ کارروائی برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) اور بیلجیئم کے سیکیورٹی اداروں کے تعاون سے عمل میں آئی۔
نیشنل کرائم ایجنسی کے مطابق انسانی اسمگلنگ نیٹ ورک کے مرکزی ملزم ذیشان بنگش کو برطانیہ سے ڈی پورٹ کر دیا گیا ہے جبکہ دوسرے اہم ملزم سیف الرحمان احمد زئی کو بیلجیئم سے ملک بدر کیا گیا۔ دونوں افراد افغان شہری ہیں اور یورپ میں غیرقانونی نقل مکانی کے ایک منظم نیٹ ورک کی قیادت کر رہے تھے۔
این سی اے کے مطابق یہ افغان اسمگلنگ نیٹ ورک ایران اور ترکیے کے راستے افراد کو فرانس اور بیلجیئم منتقل کرنے میں ملوث تھا، جہاں سے انہیں غیرقانونی طور پر برطانیہ پہنچایا جاتا تھا۔ نیٹ ورک نے ہزاروں افراد کو خفیہ اور خطرناک راستوں کے ذریعے یورپ کے مختلف ممالک سے برطانیہ منتقل کیا، جن میں کشتیوں کے ذریعے سمندر پار کرنے جیسے جان لیوا طریقے بھی شامل تھے۔
تحقیقات کے مطابق بیلجیئم کی عدالت نے اس نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے 23 افراد کو مجموعی طور پر 170 سال قید کی سزا سنائی ہے، جو یورپ میں انسانی اسمگلنگ کے خلاف سخت ترین عدالتی فیصلوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے، یہ نیٹ ورک انسانی جانوں کو خطرے میں ڈال کر بھاری رقوم کے عوض غیرقانونی نقل مکانی کراتا رہا۔
نیشنل کرائم ایجنسی کا کہنا ہے کہ انسانی اسمگلنگ کے خلاف بین الاقوامی تعاون کو مزید مضبوط کیا جائے گا اور ایسے نیٹ ورکس کے خلاف سخت کارروائیاں جاری رہیں گی تاکہ یورپ اور برطانیہ میں غیرقانونی نقل مکانی کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انسانی اسمگلنگ یورپ میں نیٹ ورک
پڑھیں:
اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
روم(ڈیلی پاکستان آن لائن)اٹلی میں 4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانیوں کو گرفتار کرلیا گیا۔اطالوی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ جنوبی اٹلی کے علاقے کیلابریا میں پیش آیا۔
رپورٹ کے مطابق مرنے والے چاروں افراد کا تعلق پاکستان سے تھا اور وہ ایک زرعی فارم میں کام کرتے تھے۔ چاروں افراد کی لاشیں ایک جلی ہوئی وین کے اندر سے برآمد کی گئیں۔فرانسیسی خبر ایجنسی کے مطابق واقعےکے بعد پولیس نے تحقیقات کیں اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے 2 ملزمان کو گرفتار کرلیا، دونوں ملزمان بھی پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں۔دوسری جناب ترجمان دفترخارجہ نے جنوبی اٹلی میں 4 پاکستانیوں کے مبینہ قتل پر ردعمل میں کہا ہےکہ اطلاع ہےکہ اٹلی میں جاں بحق افرادکا تعلق پاکستانی نژاد خاندانوں سے ہے، جاں بحق ہونے والوں کی درست شہریت کی ابھی تک تصدیق نہیں ہوئی۔ترجمان کے مطابق مقامی پولیس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے، ان میں فرانزک شواہد کا جائزہ بھی شامل ہے، اٹلی میں پاکستانی سفارتخانہ اس معاملے کی پیروی کر رہا ہے، اٹلی میں پاکستانی سفارتخانہ مزید پیشرفت کے لیے مقامی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے۔
بجٹ 2026-27 ، پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس نے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کردی
مزید :