’’بورڈ آف پیس‘‘پاکستان کی شمولیت دور حاضر کی اہم ضرورت بن کر سامنے آئی ، پاکستان دنیا کے تمام ’’پاور سینٹرز کیساتھ مضبوط تزویراتی تعلقات رکھتا ہے
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
لاہور ( طیبہ بخاری سے )’’بورڈ آف پیس‘‘پاکستان کی شمولیت دور حاضر کی اہم ضرورت بن کر سامنے آئی ہے، پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جو تمام ’’پاور سینٹرز ‘‘ جیسے کہ امریکہ ، چین ، روس کے ساتھ مضبوط تزویراتی تعلقات رکھتا ہے ۔
سفارتی ذرائع نے ’’بورڈ آف پیس ‘‘ میں پاکستان کی تزویراتی اہمیت کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاکستان نے بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کر لی ہے۔ پہلے بھی کئی ممالک نے اس پر اتفاق کیا ہے اور مزید ممالک کی شمولیت متوقع ہے۔ اس کے اہم مقاصد درجہ ذیل ہیں -
1.
2. مستقل فائر بندی اور غزہ کی تعمیر نو-
3. غزہ میں پائیدار امن کے حصول کے بعد فلسطینیوں کے حقوق کا تحفظ ، ایک الگ ریاست کا قیام اور فلسطین کے مسلمانوں کی حق خودارادیت -
4. خطے میں پائیدار امن کی بحالی -
پاکستان اور کینیڈا کے درمیان معدنیات اور توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
سفارتی ذرائع نے ’’بورڈ آف پیس‘‘ میں شمولیت کی تاریخی اہمیت اور ضرورت کے حوالے سے کہا کہ یہ قدم اہم اسلامی ممالک کی جانب سے غزہ میں رونما ہونے والے قتل عام کو روکنے اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے -پاکستان کی شمولیت اس کی سفارتی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے-دنیا میں بڑھتی ہوئی تقسیم اور دھڑے بندیوں(بلاکس) کی وجہ سے کثیر اُلجہتی پلیٹ فارمز میں پاکستان کی شمولیت دور حاضر کی اہم ضرورت بن کر سامنے آئی ہے - پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جو تمام طاقتور ’’پاورسینٹرز ‘‘ جیسے کہ امریکہ ، چین ، روس کے ساتھ مضبوط تزویراتی تعلقات رکھتا ہے - اس انفرادیت کے پیش نظر پاکستان کا کردار مختلفs بلاکس میں بٹی دنیا میں ایک خاص اہمیت کا حامل ہے -
آخری دم تک ایمانداری اور جذبۂ حب الوطنی سے سرشار پنجاب اسمبلی کے پہلے سپیکر دیوان بہادر ایس پی سنگھا کے اعزاز میں تقریب ہوئی
سفارتی ذرائع نے پاکستان کی بورڈ آف پیس میں شمولیت کی اہمیت کے حوالے سے کہا کہ پاکستان بلاک پولیٹیکس کا حصہ نہ ہوتے ہوئے تمام بین الاقوامی سٹیک ہولڈرز کے ساتھ روابط برقرار رکھے ہوئے ہے جو اسے اپنی تزویراتی خودمختاری کے حصول میں مدد دیتا ہے - پاکستان نے ہمیشہ غیر جانب دارانہ خارجہ پالیسی کے ذریعے ایک توازن اور لچکدار خارجہ پالیسی کو ملحوظِ خاطر رکھا ہے -پاکستان نے بغیر کسی بیرونی دباؤ کے چین ، ہندوستان ، کشمیر اور فلسطین جیسے امور پر ہمیشہ اپنے قومی مفاد کے مطابق فیصلے کیے اور ان معاملات میں اپنے اصولی مؤقف کو ہمیشہ مد نظر رکھا -
بھارت کے معاملے میں پاکستان نے ماضی میں بیرونی دباؤ کے باوجود ایک با اصول اور غیر لچکدار پالیسی اختیار کی - پاکستان نے غزہ اور کشمیر کے تنازعات پر بھی تسلسل سے ایک اصولی مؤقف اپنایا - اسرائیل کو تسلیم نہ کرنا ، اس سے جڑے تنازعات کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل- بین الاقوامی تسلیم شدہ سرحدوں کا احترام ، القدس الشریف کا ایک آزاد فلسطین ریاست کا بطور دارالحکومت کا قیام ، پاکستان کے وہ اصولی مؤقف ہیں جن پر پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ غیر متزلزل رہی ہے - اِسی طرح مقبوضہ کشمیر کے عوام کی حق خودارادیت اور اس کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں پائیدار حل بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا “جزو لا ینفک” رہا ہے -
ہر کھیت میں بھونچال سا آگیا، چُھپے درندوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا، سر پر پاؤں رکھ کر بھاگے، مال گاڑی کے ڈبے لاشوں سے اَٹے پڑے تھے
سفارتی ذرائع نے بتایا کہ دنیا کو درپیش تقسیم کے رجحان کے تناظر میں وجود میں آنے والے نئے فورمز کو نظر انداز کرنا کسی بھی ریاست کی Relevance کی بقا ءکے لیے خطرناک ہے - اسلامی دنیا کی اہم ترین عسکری طاقت کے حامل ملک کے لیے ایسے فورمز سے صرف نظر کرنا تزویراتی اہمیت کو ختم کرنے کے مترادف ہے - دور حاضر میں پاکستان نے اپنی ساکھ بین الاقوامی معاملات میں ایک مثبت شراکت سے برقرار رکھی ہے - اقوام متحدہ کی بحالی امن فوج میں شمولیت اس کی ایک اہم مثال ہے - پاکستان لفاظی پر نہیں بلکہ مؤثر اقدامات کے ذریعے بین الاقوامی امن اور خوشحالی کے لیے متحرک رہا ہے - پاکستان کو خاموش تماشائی دیکھنے کے متمنی ایک مفلوج ذہن کے تابع ہیں - ایک ایسی دنیا جہاں طاقت کے محور روزانہ کی بنیاد پر تبدیل ہو رہے ہیں ، پاکستان کا متحرک کردار ایک تزویراتی ضرورت بن کر ابھرا ہے اور اس کردار کو نظر انداز کرنا ہمارے قومی مفادات سے تصادم ہے -
جو دعا کرنی ہے کریں،اگلے 10 منٹ میں میری پریشانی غائب ہو گئی،ریس کے شرکاء کی تعداد ہر گزرتے سال کیساتھ بڑھتی جا رہی ہے اور تماشائیوں کی بھی
سفارتی ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ حکومت پاکستان نے ISF میں شمولیت سے متعلق ایک واضح اور غیر مبہم نقطہ نظر اپنایا ہے جس کی توثیق حکومت نے کئی دفعہ کی ہے - آئی ایس ایف (ISF) میں شمولیت کا فیصلہ پاکستان کے قومی مفاد ، اقوام متحدہ کے مینڈیٹ ، پاکستان اور فلسطین کی عوام کی اُمنگوں کے مطابق ہوگا -’’ بورڈ آف پیس‘‘ اور ISF میں کسی طرح کی مماثلت قائم کرنا نہ صرف غیر منطقی ہے بلکہ پاکستان مخالف عناصر کی طرف سے ایک گمراہ کن کوشش کا تسلسل ہے -
مزید :
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: سفارتی ذرائع نے اقوام متحدہ کی بین الاقوامی خارجہ پالیسی بورڈ آف پیس پاکستان نے میں شمولیت اور فلسطین پاکستان کی کی شمولیت کے مطابق کی اہم
پڑھیں:
صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
نیویارک (آئی پی اس )امریکی وزیرخارجہ مارکوروبیو نے متنبہ کیا کہ صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کے ساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منیلا میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ ڈیل کی پاسداری کی، ایران اس وقت امریکا کے ساتھ ڈیل کے لیے تیار نہیں، ممکن ہے کہ اگلے چند دنوں میں اپنا مقف تبدیل کر لے، انہوں نے ساتھ ہی خبردار کیا کہ صورتحال برقرار رہی تو ایران کو اس کی بھاری قیمت چکانا ہوگی۔
مارکو روبیو کا کہنا تھا جب بھی ایران امریکا ڈیل ہوتی ہے اسے ایران کو چلانے والے لوگ خراب کردیتے ہیں، انہوں نے دعوی کیا کہ ایران اب بھی ڈیل کے لیے براہِ راست اور بالواسطہ درخواستیں کر رہا ہے، ایران چاہے تو مشرق وسطی کا امیر ترین ملک بن سکتا ہے لیکن اسے چلانے والے انتہا پسند مذہبی رہنماں کو معاشی معاملات کا علم ہی نہیں، انہیں دلچسپی حزب اللہ، حماس، حوثیوں اور دیگر ملیشیاں کو رقومات دینے میں ہے جن کی سرپرستی میں دہشت گردی ہوتی ہے ۔
مارکو روبیو کا حوثیوں کے حوالے سیکہنا تھا کہ ایران نے حوثیوں کو اس تنازع میں شامل کردیا ہے، اب دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے، امید ہیحوثی حملے روک دیں گے۔مارکو روبیو نے سعودی عرب کو امریکا کا اہم اسٹریٹجک شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدہ کرنا قابل فہم ہے، مارکوروبیو کا کہنا تھا کہ سعودی عرب پر امن سول جوہری پروگرام چاہتا ہے، سعودی عرب یا دیگر ممالک کے ساتھ کسی بھی سول جوہری معاہدے میں حفاظتی اقدامات شامل ہوں گے، سول جوہری معاہدے کانگریس کی منظوری سے ہوں گے۔
مارکوروبیو کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عالمی فوجداری عدالت میں پاگل اورجنونی لوگ ہیں، امریکا اس کا حصہ نہیں بنے گا، اگر اگر لوگ اس احمق تنظیم کا حصہ بننا چاہتے ہیں تو وہ ایسا کر سکتے ہیں لیکن ہم اس کا حصہ نہیں بنیں گے اور وہ امریکی شہریوں پر اپنے دائرہ اختیار کا اطلاق نہیں کر سکیں گے۔ یوکرین روس جنگ سے متعلق امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ روس یوکرین جنگ میں بہت خونریزی ہوئی، یوکرین نے اس کی بہت بھاری قیمت اداکی ہے، امریکا یوکرین جنگ کے خاتمیکے لیے تعمیری کردارادا کرنیکے لیے تیار ہے۔ چین کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے مارکوروبیو کا کہنا تھا کہ چین کیساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا اگلی خبرپاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم