امریکا سے کراچی پہنچنے والی ساڑھے 5 کروڑ سے زائد مالیت کی چرس پکڑی گئی
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)کے ماتحت ادارے پاکستان کسٹمز نے انسداد اسمگلنگ کی کاروائی کرتے ہوئے ساڑھے پانچ کروڑ روپے سے زائد مالیت کی چرس اسمگل کرنے کی دو کوششیں ناکام بنا دی ہیں
ایف بی آر کے مطابق ںایئر کارگو کنٹرول یونٹ کلکٹریٹ آف کسٹمز (ایئرپورٹ) کراچی نے انٹرنیشنل میل آفس کراچی کے ذریعے چرس اسمگل کرنے کی دو کوششوں کو ناکام بناتے ہوئے مجموعی طور پر 1.
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ امریکا سے آنے والے مشتبہ پارسلز کی معمول کی اسکیننگ اور جانچ پڑتال کے دوران ایک پارسل سے 370 گرام چرس برآمد کی گئی جس کی مالیت ایک کروڑ تیرہ لاکھ ساٹھ ہزار روپے تھی اس پارسل کوشرٹس ظاہر کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیںمنشیات اسمگلنگ کے خلاف اے این ایف کا کریک ڈاؤن، 9 ملزمان گرفتار، 91 کلو سے زائد منشیات برآمد
ایف آئی اے کی کارروائی، ویزا فراڈ اور مائیگرنٹ اسمگلنگ میں ملوث 4 ملزمان گرفتار
ایف بی آر کا اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے ڈیجیٹل انفورسمنٹ اسٹیشن کے قیام کا فیصلہ
دوسرے پارسل میں نائلون کارپٹ کے نمونے ظاہر کیے گئے جبکہ اس میں 1.5 کلوگرام چرس چھپا کر اسمگل کی جا رہی تھی جس کی مالیت چار کروڑ ساٹھ لاکھ ستر ہزار روپے تھی۔ دونوں پارسلوں کا الگ الگ مقدمہ ردج کرلیا گیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ انٹرنیشنل میل آفس میں اسسٹنٹ کلکٹر ایئر کارگو کنٹرول یونٹ کی نگرانی میں دونوں پارسلز سے ہونے والی برآمدگیاں روزمرہ کی رسک پروفائلنگ اور جانچ پڑتال کے طریقۂ کار کے تحت عمل میں آئیں۔
ایف بی آر کے مطابق منشیات کو متعلقہ قوانین کے تحت ضبط کر لیا گیا ہے جبکہ مزید قانونی کارروائی جاری ہےایف بی آر تمام چینلز بشمول انٹرنیشنل میل آفس سے منشیات کی اسمگلنگ اور غیر قانونی تجارت کے تدارک کے لئے مؤثر کارروائیوں کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔