نشے میں ڈرائیونگ سے قتل خطا پر سزا و جرمانے کا بل قومی اسمبلی میں پیش
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
فائل فوٹو
شراب، منشیات یا نشہ آور اشیاء کے زیر اثر دوران ڈرائیونگ پر ڈرائیور قتل خطا کا مرتکب ہوگا، بل قومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا۔ 10 سال قید اور 5 لاکھ جرمانہ ہوگا۔
ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی خواجہ اظہار، ارشد وہرا اور پیپلز پارٹی کے ایم این اے مرزا اختیار بیگ نے بل قومی اسمبلی میں پیش کیا۔
بل میں پاکستان پینل کوڈ اور کوڈ آف کرمنل پروسیجر میں ترامیم تجویز کی گئی ہے، ڈپٹی اسپیکر نے تینوں ارکان کا بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا ہے۔
بل کے متن کے مطابق شراب، منشیات یا نشہ آور اشیاء کے زیر اثر دوران ڈرائیونگ ڈرائیور قتل خطا کا مرتکب ہوگا۔
بل کے متن کے مطابق ڈرائیور کا ٹیسٹ شراب یا منشیات کے استعمال کا پتا لگانے کے لیے کیا جائے گا، ایسا ٹیسٹ حادثے یا گرفتاری کے 2 گھنٹے کے اندر کیا جائے گا۔
بل کے متن کے مطابق اگر کیمیکل ٹیسٹ سے ثابت ہو جائے تو سیکشن 320 اے یا قتل خطا کے تحت ایف آئی آر درج ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: قومی اسمبلی قتل خطا
پڑھیں:
رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)لاہور میں رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق درخواست آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سےجمع کرائی گئی،جس میں ثاقب چدھڑ کےکاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست گزار کےمطابق ثاقب چدھڑ کےخلاف سپیکرپنجاب اسمبلی کےپاس نااہلی کی درخواست بھی دائر کی جا چکی ہے،اس لیے ان کی رکنیت برقرار رہنےیا نہ رہنے کےمعاملے کی جانچ پڑتال کے لیےانتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
درخواست میں مؤقف اختیارکیا گیا ہےکہ رکن پنجاب اسمبلی پرایک خاتون کومہنگی گاڑیاں،قیمتی تحائف اورجائیداد تحفےمیں دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں،جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ ہے۔
درخواست گزار نےمؤقف اپنایاکہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، لہٰذا ثاقب چدھڑ، انکی اہلیہ اور زیرِ کفالت افراد کے تمام پرانے اور نئے اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔
مزید :