نشے کی حالت میں ڈرائیونگ ؛ سخت سزا کا بل پیش
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
سٹی 42: نشے کی حالت میں ڈرائیونگ کرنے والے سخت سزا کے لیے ہو جائیں تیار قومی اسمبلی میں پاکستان پینل کوڈ میں ترمیم کا بل 2025 پیش کردیا گیا
یہ ترمیمی بل ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی خواجہ اظہار الحسن، رکن پیپلزپارٹی مرزا اختیار بیگ اور ارشد عبداللہ وہرا نے پیش کیا ۔
بل کے متن کے مطابق نشے میں ڈرائیور پر " قتل خطا بوجہ نشہ آور جرم لاگو ہوگا۔ نشے میں حادثے کے مرتکب کو دس سال تک قید اور پانچ لاکھ تک جرمانے کی سزا ملے گی۔ہر اس حادثے جس میں موت یا شدید جسمانی چوٹ واقع ہو تو تھانے کا انچارج یا تفتیشی افسر جو سب انسپکٹر کے عہدے سے کم نہ ہو بغیر کسی تاخیر کے ملوث ڈرائیور میں نشے میں ہونے کا پتا لگانے کے لیے سانس، خون، تھوک ٹیسٹ کرانے کا پابند ہوگا ،
3 مرتبہ کے عالمی چیمپئن محمد آصف نے نیشنل اسنوکر چیمپئن شپ جیت لی
ڈرائیور نشے میں ہونے کا ٹیسٹ میں تصدیق کی صورت میں انچارج پولیس افسر ایف آئی آر تعزیرات پاکستان کی دفعہ لگائےگا۔ڈرائیور نشے میں ہونے کا ٹیسٹ میں تصدیق کی صورت میں انچارج پولیس افسر ایف آئی آر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 322 یا 302 کے تحت درج کرے گا ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔