نشے کی حالت میں جان لیوا حادثے پر ڈرائیور کیخلاف قتل کا مقدمہ درج ہوگا، قانون تیار
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
نشے کی حالت میں جان لیوا حادثے پر ڈرائیور کے خلاف قتل کا مقدمہ درج ہوگا، جس کیلیے قانون پیش کردیا گیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نشے کی حالت میں ڈرائیونگ کرنے والے سخت سزا کے لیے ہو جائیں تیار کیونکہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی اراکین مشترکہ قانون لے آئے۔
ایم کیو ایم کے خواجہ اظہار الحسن اور پیپلز پارٹی کے مرزا اختیار بیگ نے اہم قانون پیش کیا جس میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 174بی اور سی میں ترمیم تجویز کی گئی ہے۔
بل کے متن میں لکھا گیا ہے کہ کوئی بھی الکوحل، منشیات یا نشہ آور دوا کے زیر اثر گاڑی چلاتے ہوئے کسی کی موت کا سبب بنتا ہے تو وہ " قتل خطہ بوجہ نشہ آور ڈرائیونگ " کا مجرم ہوگا۔
مزید پڑھیںکراچی، شاہراہ فیصل ائیرپورٹ سگنل کے قریب ٹریفک حادثہ خاتون جاں بحق
گڈاپ سٹی میں ٹریفک حادثہ، بچی سمیت 2 افراد جاں بحق
کراچی: ملیرکٹ کے قریب ٹریفک حادثہ، 2 بھائی جاں بحق
بل میں لکھا گیا ہے کہ نشے میں ڈرائیونگ کے باعث کسی کی موت واقعے ہو تو اس جرم کے مرتکب کو دس سال تک قید اور پانچ لاکھ تک جرمانے کی سزا ملے گی۔
بل میں تجویز کی گئی ہے کہ ہر اس حادثے جس میں موت یا شدید جسمانی چوٹ واقع ہو تو تھانے کا انچارج یا تفتیشی افسر جو سب انسپکٹر کے عہدے سے کم نہ ہو بغیر کسی تاخیر کے ملوث ڈرائیور میں نشے میں ہونے کا پتا لگانے کے لیے سانس، خون، تھوک ٹسیٹ کرانے کا پابند ہوگا۔
مشترکہ بل میں کہا گیا ہے کہ ڈرائیور نشے میں ہونے کا ٹیسٹ میں تصدیق کی صورت میں انچارج پولیس افسر ایف آئی آر تعزیرات پاکستان کی دفعہ دفعہ 322 یا 302 کے تحت درج کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گیا ہے
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔