10 کروڑ برس سے سویا ہوا بلیک ہول آتش فشاں کی طرح پھٹ پڑا
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
خلا میں 10 کروڑ برس سے سویا ہوا عظیم الجثہ بلیک ہول خلائی آتش فشاں کی طرح پھٹ گیا۔
بلیک ہول کے فعال ہونے کا مشاہدہ خلا میں دور دراز موجود کہکشاں J1007+3540 کے مرکز میں کیا گیا۔
کہکشاں کے اندر ایک عظیم الجثہ بلیک ہول موجود تھا جو گزشتہ 10 کروڑ برس سے غیر فعال تھا۔
مزید پڑھیںسورج سے خارج ہوئی شدید لپٹوں سے امریکا و یورپ جگمگا اٹھے
ریڈیو تصاویر میں ایک کہکشاں دکھائی گئی ہے جسے رائل آسٹرونومیکل سوسائٹی ’بے ہنگم، انتشار میں مبتلا کشمکش‘ کہتی ہے۔ یہ کہکشاں خلا میں 10 لاکھ نوری سال کے فاصلے پر پھیلی ہوئی ہے۔
یہ کشمکش اس بلیک ہول سے دوبارہ خارج ہونے والے جیٹس اور وہاں موجود کہکشاں کے جتھوں کے درمیان ہے۔
سائنس دانوں نے اس خلائی انتشار کو لو فریکوئنسی ایرے (LOFAR) اور بھارت کی اپ گریڈڈ جائنٹ میٹرویو ریڈیو ٹیلی اسکوپ (uGMRT) سے عکسبند کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بلیک ہول
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔