جاپان؛ سابق وزیراعظم کو سرعام قتل کرنے والے ملزم کو سزا سنا دی گئی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
جاپان کے سابق وزیرِاعظم شنزو آبے کو سرعام قتل کرنے والے ملزم کو بھری عدالت میں سزا سنادی گئی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق 45 سالہ ملزم ٹیٹسویہ یاماگامی کو عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا کہ وزیراعظم شنزو آبے کا قتل ایک سوچا سمجھا اور انتہائی سنگین جرم تھا، جس نے جاپانی معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا۔
استغاثہ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ یہ قتل محض ایک فرد پر حملہ نہیں تھا بلکہ جمہوری عمل، عوامی اعتماد اور قومی سلامتی پر براہِ راست ضرب تھی۔
پراسیکیوشن کے مطابق اس واقعے نے جاپانی سیاست اور سیکیورٹی انتظامات پر گہرے سوالات کھڑے کیے اور معاشرے میں خوف و بے چینی کو جنم دیا۔
دوسری جانب ملزم کے وکلاء نے عدالت سے رحم کی اپیل کرتے ہوئے 20 سال قید کی سزا دینے کی درخواست کی تھی۔
دفاع نے مؤقف اپنایا کہ یاماگامی کے خاندان کو ماضی میں شدید مالی اور سماجی مشکلات کا سامنا رہا، جس نے اس کی ذہنی حالت پر منفی اثرات ڈالے۔
تاہم عدالت نے اس دلیل کو سزا میں نرمی کے لیے ناکافی قرار دیتے ہوئے عمر قید برقرار رکھنے کا فیصلہ سنایا۔
یاد رہے کہ جولائی 2022 میں انتخابی مہم کے دوران شنزو آبے کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا۔
ملزم نے اپنے اعترافی بیان میں اپنی غربت، مالی پریشانیوں اور ذہنی الجھنوں کا ذمہ دار سابق وزیراعظم شنزو آبے کی پالیسیوں کو ٹھہرایا تھا اور یہی قتل کا محرک بتایا تھا۔
یہ واقعہ جاپان جیسے ملک میں جہاں اسلحہ کے قوانین انتہائی سخت ہیں۔ بعد از جنگ تاریخ کا ایک نادر اور چونکا دینے والا سانحہ سمجھا جاتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔