ایران کا بحران اور تودہ پارٹی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
ایران میں بادشاہت کے خلاف جدوجہد کا آغاز کمیونسٹ پارٹی جو ’’ تودہ پارٹی‘‘ کے نام سے مشہور ہوئی نے کیا تھا۔ تودہ پارٹی 1941 میں قائم ہوئی۔ سلمان محسن اسکندری تودہ پارٹی کے پہلے سربراہ تھے۔ تودہ پارٹی مارکسزم اور لینن ازم کے اصولوں پر استوار ہوئی۔ تودہ پارٹی نے ایران کے کسانوں اور مزدوروں کو منظم کرنے پر ساری توجہ مبذول کی۔
تاریخ کے صفحات کا جائزہ لیا جائے تو کچھ منظرنامہ یہ بنتا ہے کہ 1880 میں ترکی کے ایک اخبار میں جو ایران میں بھی شائع ہوتا تھا، سوشلزم کے بارے میں ایک مضمون شائع ہوا تھا، یوں ایران میں سوشلزم کے بارے میں جانکاری شروع ہوئی۔ پھر کچھ اور اخبارات میں کارل مارکس کے نظریات اور ان کی شہرئہ آفاق کتاب داس کیپیٹال کا ذکر ہونے لگا۔
افغان نژاد دانشور جمال الدین اسد عابدی کو ایران میں سوشل ازم کا ابتدائی دانشور کہا جاتا ہے۔ بیسویں صدی میں ایران میں سوشل ازم کا نظریہ عام ہونا شروع ہوگیا تھا۔ تودہ پارٹی سوویت یونین سے براہِ راست متاثر تھی۔ تودہ پارٹی اپنے قیام کے بعد سے بادشاہ ہی نظام کے جبر کا شکار رہی۔ تودہ پارٹی کی پوری قیادت کو قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں۔ روس کے مرد آہن جوزف اسٹالن امریکا اور برطانیہ کے وزیر اعظم چرچل کے درمیان ہٹلر کے فاشزم کے خلاف مشترکہ جدوجہد پر اتفاق ہوا تو ایران کی حکومت نے سیاسی پابندی ختم کردی اور سیاسی رہنماؤں کو رہا کیا گیا۔
جنگ عظیم دوم کے خاتمے پر رضا شاہ پہلوی نے اقتدار سنبھالا تو اب امریکا بادشاہ رضا شاہ پہلوی کا براہِ راست سرپرست ہوا۔ جب مصدق وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہوئے تو انھوں نے تیل کی صنعت کو قومیانے کا فیصلہ کیا۔ تودہ پارٹی نے مصدق کی اصلاحات کی حمایت کی مگر مصدق کی پالیسی میں کنفیوژن کی بناء پر امریکا اور برطانیہ کے خلاف مؤثر متحدہ محاذ قائم نہیں ہوسکا۔ امریکا نے ایک سازش کے ذریعے ڈاکٹر مصدق کی حکومت کا تختہ الٹا۔ اس کے ساتھ تودہ پارٹی سمیت تمام جمہوری قوتوں کے خلاف کریک ڈاؤن ہوا۔
تودہ پارٹی کی قیادت اور ہزاروں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔ تودہ پارٹی کے جو رہنما گرفتاریوں سے بچ گئے تھے، انھوں نے زیرِ زمین رہ کر شہنشاہ کے خلاف مزاحمت کو برقرار رکھا۔ تودہ پارٹی کے علاوہ بائیں بازو کی دیگر تنظیموں فدائین خلق اور مجاہدین خلق نے بھی رضا شاہ پہلوی کی آمریت کے خلاف جدوجہد کو منظم کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ اس دوران آیت اللہ خمینی نے شاہ ایران کے خلاف جدوجہد کے لیے اپنے پیروکاروں کو منظم کیا۔ آیت اللہ خمینی شاہ ایران کی حکومت کے دباؤ پر مشہد چھوڑنے پر تیار ہوئے۔
وہ پہلے عراق چلے گئے مگر آیت اللہ خمینی کا عراق میں قیام مختصر رہا۔ انھوں نے عراق چھوڑ کر فرانس کے دارالحکومت پیرس کا رخ کیا جہاں وہ شہنشاہ ایران کی حکومت کے خاتمے تک مقیم رہے۔ آیت اللہ خمینی کے پیروکاروں نے ایران میں شہنشاہ ایران کے خلاف جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا۔ تودہ پارٹی نے آیت اللہ خمینی کے مشن کی مکمل حمایت کی۔ تودہ پارٹی کی قیادت کا یہ تصور تھا کہ آیت اللہ خمینی کے ساتھ مل کر شہنشاہ کے اقتدار کے خاتمے کا مقصد جلد حاصل ہوگا، یہی وجہ تھی کہ تودہ پارٹی واحد جماعت تھی جو آیت اللہ خمینی کے مشن کی آخری وقت تک حمایت میں جڑی رہی۔
تودہ پارٹی کی قیادت کا یہ تجربہ تاریخ نے غلط ثابت کیا۔ جب ایران میں انقلابی حکومت مستحکم ہوئی تو انقلاب مخالف قوتوں کے خلاف 1983میں آپریشن شروع کیاگیا۔ تودہ پارٹی بھی اس کی لپیٹ میں آئی جو لوگ سزا سے بچ گئے، انھیں یورپی ممالک میں پناہ لینی پڑی۔ مگر تودہ پارٹی کے کارکن اب بھی جدوجہد میں مصروف ہیں، جب گزشتہ سال امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تھا تو، تودہ پارٹی نے بھی ایران کی خود مختاری کو بچانے کے لیے امریکا اور اسرائیل کے حملے کی مخالفت کی تھی۔
ایران میں حالیہ دنوں میں پیدا ہونے والی صورتحال کے بارے میں تودہ پارٹی کا مؤقف واضح ہے۔ تودہ پارٹی نے ایران کے موجودہ بحران پر اپنا بیانیہ ترتیب دے رکھا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔