صدر اور گارڈن میں بدترین ٹریفک جام، ایمبولینسیں پھنس گئیں
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260122-01-11
کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) کراچی کے مرکزی تجارتی علاقوں صدر، گارڈن اور ایمپریس مارکیٹ میں آج ٹریفک کا بدترین بحران دیکھا گیا، جس نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی۔ سانحہ گل پلازہ کے بعد سڑکوں کی بندش اور متبادل راستوں پر دباؤ کے باعث ہزاروں گاڑیاں گھنٹوں سڑکوں پر رینگتی رہیں۔الیکٹرونکس مارکیٹ کے اطراف اور صدر کے گنجان آباد علاقوں میں گاڑیوں کی کلومیٹر طویل قطاریں لگ گئیں۔ ٹریفک جام کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ زیب النساء اسٹریٹ، ریگل چوک اورلکی اسٹار جانے والی تمام سڑکیں بلاک رہیں۔ایمپریس مارکیٹ سے صدر کے اندرونی حصوں کو جانے والے راستوں پر پہیہ مکمل جام رہا۔ٹریفک کی روانی متاثر ہونے سے منٹوں کا سفر طے کرنے میں شہریوں کو کئی گھنٹے لگ گئے۔ٹریفک جام کے دوران انتہائی افسوسناک مناظر دیکھنے کو ملے جہاں مریضوں کو لے جانے والی ایمبولینسیں بھی گھنٹوں پھنسی رہیں اور راستہ نہ ملنے کے باعث سائرن بجاتی رہیں۔ مسلسل کھڑے رہنے اور اے سی چلنے کے باعث کئی گاڑیوں کا پیٹرول اور ڈیزل ختم ہو گیا، جس سے سڑکوں کے درمیان بند گاڑیوں نے ٹریفک کی صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا۔ ٹریفک پولیس کی عدم موجودگی یا ناکافی نفری کے باعث شہریوں نے “اپنی مدد آپ” کے تحت آڑی ترچھی گاڑیاں نکال کر راستہ بنانے کی کوشش کی، جس سے بعض مقامات پر تلخی اور ہاتھا پائی کے واقعات بھی سامنے آئے۔ٹریفک پولیس حکام کے مطابق، ٹریفک کے اس بڑے تعطل کی بنیادی وجہ گل پلازہ میں جاری امدادی کارروائیاں ہیں۔سانحے کی جگہ پر بھاری مشینری کی نقل و حرکت اور سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اطراف کی اہم سڑکیں عارضی طور پر بند کر دی گئی ہیں۔ تمام ٹریفک کو متبادل راستوں پر موڑا گیا ہے، جو پہلے ہی گنجائش سے زیادہ بوجھ کا شکار ہیں، جس کے نتیجے میں گارڈن اور صدر کے پورے زون میں ٹریفک کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔ٹریفک حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صدر اور گارڈن کے علاقوں میں غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ وہ شہری جو ناگزیر وجوہات کی بنا پر نکلنا چاہتے ہیں، انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متبادل راستے (ایم اے جناح روڈ کے بقیہ حصے یا شارع فیصل) اختیار کریں تاکہ رش میں مزید اضافے کا سبب نہ بنیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے باعث
پڑھیں:
فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
اسلان درانی : فیصل آباد میں حکومت اور پٹرول پمپ مالکان کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے، جس کے بعد پٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال کا اعلان کر دیا, ہڑتال کے باعث شہر میں متعدد پٹرول پمپس پر پٹرول کی فراہمی معطل ہو گئی، جس سے شہریوں کو ایندھن کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) اور گو (GO) کے چند پمپس کے علاوہ بیشتر مقامات پر پٹرول دستیاب نہیں، جبکہ کھلے پمپس پر بھی گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول تک رسائی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
شہریوں نے شکایت کی کہ پٹرول پہلے ہی مہنگا ہو چکا ہے اور اب اس کی عدم دستیابی نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول پمپ مالکان سپلائی میں تعطل کو جواز بنا رہے ہیں، جس سے عام صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کیے جائیں، پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور حکومت و پٹرول پمپ مالکان کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ معمولاتِ زندگی متاثر نہ ہوں۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ