Jasarat News:
2026-07-24@02:09:56 GMT

سانحہ گل پلازہ:این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے منظر سے غائب

اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260122-01-13
کراچی (رپورٹ:منیر عقیل انصاری) سانحہ گل پلازہ میں آتشزدگی کے بعد نیشنل ڈیسٹر مینجمنٹ اتھارٹی( این ڈی ایم اے )اورپراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے سندھ) متا ثرین کو بروقت ریسکیو کرتے نظر نہیں آئے،دونوں ادارے مکمل طور پر ناکام رہے ہیں، گل پلازہ میں آتشزدگی کے بعد کسی بھی امدادی کارروائیوں میں کہی نظر نہیں آئے بروقت حفاظتی انتظامات نہ کرنے پر گل پلازہ متاثرین اس ادارے کی کارکردگی سوال اٹھا رہے ہیں اور پوچھ رہے ہیں کہ سالانہ اربوں روپے کا بجٹ رکھنے والے ادارے اور ان کے عملے نے آگ لگنے کے بعد کراچی کے شہریوں کو بے یارومدد گار کیوں چھوڑ دیا، حفاظتی انتظامات کیوں نہیں کیے ،وقت پر متاثرین کے امداد کے لیے کیوں نہیں پہنچے متعلقہ اداروں کو سانحہ گل پلازہ میں شامل تفتیش اور ذمہ دار قرار دیا جائے۔ این ڈی ایم اے اورپی ڈی ایم اے سندھ پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا وہ اپنے فرائض (خاص طور پر ڈیزاسٹر مینجمنٹ) ٹھیک سے انجام دے رہا ہے، خاص طور پر بڑے سانحات کے بعدیہ دونوں ادارے کہا غائب ہوجاتے ہیں۔گل پلازہ میں آگ لگنے کا المناک واقعہ نیشنل ڈیسٹر مینجمنٹ اتھارٹی( این ڈی ایم اے )اورپراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے سندھ) کے اعلی افسران کے ضمیر کو جھنجھوڑتا رہا کہ آگ کے شعلے گھنٹوں تک بھڑکتے رہے اور بالآخر یہ پوری عمارت قیمتی سامان اور جمع پونجی سمیت جل کر راکھ کا ڈھیر بن گئی اس دوران لوگ بے بسی کے عالم میں اپنی آنکھوں کے سامنے کروڑوں روپے کا مال جلتا دیکھتے رہے، اور سب سے بڑھ کر اپنے پیاروں کی جانوں کے لیے تڑپتے رہے، مگر کچھ کرنے سے قاصر رہے۔یہ ایک انتہائی افسوسناک اور شرمناک حقیقت ہے کہ حکومتِ سندھ اور متعلقہ ادارے بروقت اور مؤثر اقدامات کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔ نہ مناسب فائر فائٹنگ کا انتظام موجود تھا، نہ ریسکیو آپریشن میں کوئی تیزی دکھائی گئی، اور نہ ہی کسی ذمہ دار حکومتی شخصیت کی فوری موجودگی نظر آئی ہے۔ پوری عمارت جل کر ملبے کا ڈھیر بن گئی، مگر اس کے باوجود نیشنل ڈیسٹر مینجمنٹ اتھارٹی( این ڈی ایم اے )اورپراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے سندھ) کا موقع پر نہ پہنچنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ہمارے ان اداروں کو انسانی جان اور شہریوں کے کروڑوں روپے کے سرمائے کو کس قدر غیر اہم سمجھا جاتا ہے۔اس حوالے سے شہریوں کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ محض ایک عمارت کے جلنے کا سانحہ نہیںبلکہ یہ حکومتی نااہلی، ناقص منصوبہ بندی اور شہریوں کے ساتھ مجرمانہ غفلت کا کھلا ثبوت ہے۔دنیا بھر کہا جاتا ہے ایمرجنسی ادارے ہر وقت الرٹ ہوتے ہیں، مگر شاید مہذب معاشرے کے لیے کہا جاتا ہوں کہ یہاں تو ویک اینڈ پر انسانی جان کی اہمیت بھی چھٹی پر چلی جاتی ہے۔یہ تین کروڑ آبادی والا شہر میٹروپولیٹن کہلاتا ہے، مگر یہاں ایک جلتے انسان کو زندہ بچانے کی صلاحیت نہیں ہے۔گل پلازہ میں جاری صورتحال نے ایک بار پھر یہ تلخ حقیقت اجاگر کر دی ہے کہ پاکستان خصوصا کراچی کا ایمرجنسی اور ریسکیو انفراسٹرکچر کسی بڑے سانحے سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے اور ہر گزرتا منٹ اندر پھنسے افراد کے لیے جان لیوا ثابت ہوا ہے۔شہریوں کا مزید کہنا تھا کہ سوال یہ ہے کہ آخر کب تک کراچی کے شہری اسی طرح اپنی جان و مال قربان کرتے رہیں گے اور ذمہ دار محض خاموش تماشائی بنے رہیں گے ،اس دلخراش سانحہ گل پلازہ کے دوران ان ریسکیو اداروںکی عدم توجہی نے شہریوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ آگ لگنے کے بعد نیشنل ڈیسٹر مینجمنٹ اتھارٹی( این ڈی ایم اے )اورپراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے سندھ) کا موقع پر نہ پہنچنا، یہ سب ایک ناکام نظام کی واضح علامت ہے۔ حکومت اپنی نااہلی چھپانے کے لیے واقعے کا ملبہ وینٹی لیشن سسٹم پر ڈال رہی ہے، حالانکہ اصل سوال فائر سیفٹی انتظامات، عمارتوں کے حفاظتی قوانین، ایمرجنسی اخراج کے راستوں اور ریسکیو اداروں کی تیاری پر ہے۔ اگر بروقت کارروائی ہوتی، اگر فائر بریگیڈ جدید سہولیات سے لیس ہوتی، اگر انسانی جانوں کو واقعی قیمتی سمجھا جاتا، تو شاید آج منظر مختلف ہوتا۔ سانحہ گل پلازہ میں آتشزدگی کے بعد یہ ریسکیوادارے کہی نظر نہیں آئے جو بار بار عوامی خدمت کے دعوے کرتے نظر آتے ہیں۔

منیر عقیل انصاری سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اورپراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نیشنل ڈیسٹر مینجمنٹ اتھارٹی پی ڈی ایم اے سندھ سانحہ گل پلازہ گل پلازہ میں ا ڈی ایم اے ریسکیو ا رہے ہیں کے بعد کے لیے

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • آزادکشمیرکے ضلع میرپور میں انٹرنیٹ سروسز مرحلہ وار بحال ہونا شروع
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف