سانحہ گل پلازہ:این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے منظر سے غائب
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260122-01-13
کراچی (رپورٹ:منیر عقیل انصاری) سانحہ گل پلازہ میں آتشزدگی کے بعد نیشنل ڈیسٹر مینجمنٹ اتھارٹی( این ڈی ایم اے )اورپراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے سندھ) متا ثرین کو بروقت ریسکیو کرتے نظر نہیں آئے،دونوں ادارے مکمل طور پر ناکام رہے ہیں، گل پلازہ میں آتشزدگی کے بعد کسی بھی امدادی کارروائیوں میں کہی نظر نہیں آئے بروقت حفاظتی انتظامات نہ کرنے پر گل پلازہ متاثرین اس ادارے کی کارکردگی سوال اٹھا رہے ہیں اور پوچھ رہے ہیں کہ سالانہ اربوں روپے کا بجٹ رکھنے والے ادارے اور ان کے عملے نے آگ لگنے کے بعد کراچی کے شہریوں کو بے یارومدد گار کیوں چھوڑ دیا، حفاظتی انتظامات کیوں نہیں کیے ،وقت پر متاثرین کے امداد کے لیے کیوں نہیں پہنچے متعلقہ اداروں کو سانحہ گل پلازہ میں شامل تفتیش اور ذمہ دار قرار دیا جائے۔ این ڈی ایم اے اورپی ڈی ایم اے سندھ پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا وہ اپنے فرائض (خاص طور پر ڈیزاسٹر مینجمنٹ) ٹھیک سے انجام دے رہا ہے، خاص طور پر بڑے سانحات کے بعدیہ دونوں ادارے کہا غائب ہوجاتے ہیں۔گل پلازہ میں آگ لگنے کا المناک واقعہ نیشنل ڈیسٹر مینجمنٹ اتھارٹی( این ڈی ایم اے )اورپراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے سندھ) کے اعلی افسران کے ضمیر کو جھنجھوڑتا رہا کہ آگ کے شعلے گھنٹوں تک بھڑکتے رہے اور بالآخر یہ پوری عمارت قیمتی سامان اور جمع پونجی سمیت جل کر راکھ کا ڈھیر بن گئی اس دوران لوگ بے بسی کے عالم میں اپنی آنکھوں کے سامنے کروڑوں روپے کا مال جلتا دیکھتے رہے، اور سب سے بڑھ کر اپنے پیاروں کی جانوں کے لیے تڑپتے رہے، مگر کچھ کرنے سے قاصر رہے۔یہ ایک انتہائی افسوسناک اور شرمناک حقیقت ہے کہ حکومتِ سندھ اور متعلقہ ادارے بروقت اور مؤثر اقدامات کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔ نہ مناسب فائر فائٹنگ کا انتظام موجود تھا، نہ ریسکیو آپریشن میں کوئی تیزی دکھائی گئی، اور نہ ہی کسی ذمہ دار حکومتی شخصیت کی فوری موجودگی نظر آئی ہے۔ پوری عمارت جل کر ملبے کا ڈھیر بن گئی، مگر اس کے باوجود نیشنل ڈیسٹر مینجمنٹ اتھارٹی( این ڈی ایم اے )اورپراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے سندھ) کا موقع پر نہ پہنچنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ہمارے ان اداروں کو انسانی جان اور شہریوں کے کروڑوں روپے کے سرمائے کو کس قدر غیر اہم سمجھا جاتا ہے۔اس حوالے سے شہریوں کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ محض ایک عمارت کے جلنے کا سانحہ نہیںبلکہ یہ حکومتی نااہلی، ناقص منصوبہ بندی اور شہریوں کے ساتھ مجرمانہ غفلت کا کھلا ثبوت ہے۔دنیا بھر کہا جاتا ہے ایمرجنسی ادارے ہر وقت الرٹ ہوتے ہیں، مگر شاید مہذب معاشرے کے لیے کہا جاتا ہوں کہ یہاں تو ویک اینڈ پر انسانی جان کی اہمیت بھی چھٹی پر چلی جاتی ہے۔یہ تین کروڑ آبادی والا شہر میٹروپولیٹن کہلاتا ہے، مگر یہاں ایک جلتے انسان کو زندہ بچانے کی صلاحیت نہیں ہے۔گل پلازہ میں جاری صورتحال نے ایک بار پھر یہ تلخ حقیقت اجاگر کر دی ہے کہ پاکستان خصوصا کراچی کا ایمرجنسی اور ریسکیو انفراسٹرکچر کسی بڑے سانحے سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے اور ہر گزرتا منٹ اندر پھنسے افراد کے لیے جان لیوا ثابت ہوا ہے۔شہریوں کا مزید کہنا تھا کہ سوال یہ ہے کہ آخر کب تک کراچی کے شہری اسی طرح اپنی جان و مال قربان کرتے رہیں گے اور ذمہ دار محض خاموش تماشائی بنے رہیں گے ،اس دلخراش سانحہ گل پلازہ کے دوران ان ریسکیو اداروںکی عدم توجہی نے شہریوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ آگ لگنے کے بعد نیشنل ڈیسٹر مینجمنٹ اتھارٹی( این ڈی ایم اے )اورپراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے سندھ) کا موقع پر نہ پہنچنا، یہ سب ایک ناکام نظام کی واضح علامت ہے۔ حکومت اپنی نااہلی چھپانے کے لیے واقعے کا ملبہ وینٹی لیشن سسٹم پر ڈال رہی ہے، حالانکہ اصل سوال فائر سیفٹی انتظامات، عمارتوں کے حفاظتی قوانین، ایمرجنسی اخراج کے راستوں اور ریسکیو اداروں کی تیاری پر ہے۔ اگر بروقت کارروائی ہوتی، اگر فائر بریگیڈ جدید سہولیات سے لیس ہوتی، اگر انسانی جانوں کو واقعی قیمتی سمجھا جاتا، تو شاید آج منظر مختلف ہوتا۔ سانحہ گل پلازہ میں آتشزدگی کے بعد یہ ریسکیوادارے کہی نظر نہیں آئے جو بار بار عوامی خدمت کے دعوے کرتے نظر آتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اورپراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نیشنل ڈیسٹر مینجمنٹ اتھارٹی پی ڈی ایم اے سندھ سانحہ گل پلازہ گل پلازہ میں ا ڈی ایم اے ریسکیو ا رہے ہیں کے بعد کے لیے
پڑھیں:
جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور بقا کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ سمجھا کہ فطرت ہمارے لیے ایک لامحدود خزانہ ہے جس سے ہم جتنا چاہیں لے سکتے ہیں مگر اب زمین ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر نعمت کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بے موسم کی بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور آلودگی محض موسمی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشانیاں بن چکے ہیں۔
آج جب یورپ میں گرمی کی نئی لہر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ پرتگال اپنے مئی کے مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت دیکھ رہا ہے۔ اسپین، فرانس اور اٹلی میں خطرے کے الارم بج رہے ہیں،یہ انسانی تہذیب کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں تو یہ صرف موسم کی تبدیلی کی خبر نہیں بلکہ انسانی طرز زندگی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی ان انتباہات کو معمول کی خبروں کی طرح نظرانداز کرتے رہیں گے یا اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں گے؟
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ کہیں دور قطب شمالی کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز یا بحرالکاہل کے ڈوبتے ہوئے جزیروں کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے گھروں، ہماری گلیوں اور ہمارے شہروں تک آ پہنچا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ دنیا میں کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔
کراچی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس شہر میں گرمی صرف ایک موسم نہیں ،ایک آزمائش ہے۔ مئی اور جون کی دوپہر میں جب سورج آگ برساتا ہے تو سڑکوں پر چلنے والا عام آدمی کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتا ہے، لیکن اسے سایہ کہاں ملے؟ ہمارے شہر کی بڑی شاہراہوں پر درخت کم ہوتے جا رہے ہیں۔
نئی سڑکیں بنتی ہیں، فلائی اوور بنتے ہیں، کنکریٹ کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں مگر درختوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک مزدور جو صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کرتا ہے، ایک خاتون جو بس اسٹاپ پر کھڑی ہے،ایک طالب علم جو پیدل گھر جا رہا ہے، ایک ٹریفک پولیس اہلکار جو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہتا ہے ان کے لیے شہر نے کیا انتظام کیا ہے؟ ان کے لیے سایہ کہاں ہے؟ کون سا درخت لگایا گیا ہے۔
یورپ میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو حکومتیں عوام کو خبردار کرتی ہیں۔ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں گرمی کا سامنا زیادہ تر فرد کی اپنی ذمے داری سمجھ لیا جاتا ہے، گویا سورج سے بچنا بھی ایک ذاتی مسئلہ ہے اجتماعی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درخت صرف خوبصورت منظر کے لیے نہیں ہوتے۔ وہ زندگی ہوتے ہیں ،وہ فضا کو صاف کرتے ہیں ،زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں ،پرندوں کو گھر دیتے ہیں اور انسانوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک درخت کاٹنا صرف ایک درخت کاٹنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حصے کی ٹھنڈک چھین لینا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف درجہ حرارت کا مسئلہ بھی نہیں، یہ انصاف کا مسئلہ ہے دنیا کے امیر ممالک نے دو صدیوں تک صنعت کاری کے نام پر فضا میں کاربن بھرا اور آج اس کی قیمت وہ ممالک ادا کر رہے ہیں جو پہلے ہی غربت بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان کن چیز شاید ہماری بے حسی ہے۔ ہم ہر سال گرمی کے نئے ریکارڈ بنتے دیکھتے ہیں سیلاب آتے دیکھتے ہیں خشک سالی بڑھتی دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اسے ایک عارضی خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔
زمین کی تاریخ ہمیں ایک عجیب سبق دیتی ہے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے جب زمین کے ماحول میں آکسیجن کی مقدار اچانک بڑھی تھی تو اس وقت موجود بے شمار جاندار اس تبدیلی کو برداشت نہ کر سکے۔ اس واقعے کو بعض اوقات عظیم آکسیجنی تباہی کہا جاتا ہے اور اسے زمین کی اولین عظیم حیاتیاتی تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن زندگی کی بہت سی اشکال ختم ہو گئی تھیں۔ کچھ نئی انواع نے جنم لیا اور ارتقا کا سفر آگے بڑھتا رہا۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ فطرت انسان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے لیکن انسان فطرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔
آج ہم خود اپنے ہاتھوں سے فضا میں کاربن بھر رہے ہیں۔ کارخانوں کا دھواں، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور لامحدود منافع کی دوڑ ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں ایک نئی ماحولیاتی تباہی کا خطرہ موجود ہے۔ شاید زمین باقی رہے گی، سمندر باقی رہیں گے، پہاڑ باقی رہیں گے اور شاید زندگی کی کوئی نئی شکل بھی باقی رہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس دنیا میں انسان اسی طرح موجود رہیں جیسے آج ہیں۔ ارتقا کا عمل رکتا نہیں زندگی کسی نہ کسی صورت اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟
یہ بات کسی خوف پھیلانے کے لیے نہیں کہی جا رہی بلکہ اس لیے کہ ہم حقیقت کو سمجھ سکیں۔ جو زہر ہم ماحول میں بو رہے ہیں وہ آخرکار ہماری اپنی سانسوں میں شامل ہو رہا ہے۔ جو درخت ہم کاٹ رہے ہیں ان کی کمی ہمارے اپنے جسموں پر گرمی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ جو دریا ہم آلودہ کر رہے ہیں وہی آلودگی ہماری اپنی زندگیوں میں واپس آ رہی ہے۔اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے معنی پر دوبارہ غور کریں۔ کیا ترقی صرف اونچی عمارتوں کا نام ہے؟ کیا ترقی صرف نئی شاہراہوں اور بڑے منصوبوں کا نام ہے؟ یا پھر ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک شہر میں چلنے والا انسان سایہ پا سکے صاف ہوا میں سانس لے سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ رہائش دنیا چھوڑ سکے؟
دنیا کی یہ بدلتی حالت شاید ہمیں ایک آخری موقع دے رہی ہے۔ ایک موقع کہ ہم اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اپنی ترجیحات بدلیں اور زمین کے ساتھ اپنے رشتے کو دوبارہ سمجھیں، کیونکہ فطرت انتقام نہیں لیتی وہ صرف اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ توازن بحال ہوگا تو کیا ہم اس کا حصہ ہوں گے یا تاریخ کی کسی معدوم نسل کی طرح صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں گے۔