سانحہ گل پلازا: این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے سندھ بروقت ریسکیو میں ناکام
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (رپورٹ:منیر عقیل انصاری) سانحہ گل پلازہ میں آتشزدگی کے بعد نیشنل ڈیسٹر مینجمنٹ اتھارٹی( این ڈی ایم اے )اورپراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے سندھ) متا ثرین کو بروقت ریسکیو کرتے نظر نہیں آئے،دونوں ادارے مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔
دنوں ادارےگل پلازہ میں آتشزدگی کے بعد کسی بھی امدادی کارروائیوں میں کہی نظر نہیں آئے بروقت حفاظتی انتظامات نہ کرنے پر گل پلازہ متاثرین اس ادارے کی کارکردگی سوال اٹھا رہے ہیں اور پوچھ رہے ہیں کہ سالانہ اربوں روپے کا بجٹ رکھنے والے ادارے اور ان کے عملے نے آگ لگنے کے بعد کراچی کے شہریوں کو بے یارومدد گار کیوں چھوڑ دیا، حفاظتی انتظامات کیوں نہیں کیے ،وقت پر متاثرین کے امداد کے لیے کیوں نہیں پہنچے متعلقہ اداروں کو سانحہ گل پلازہ میں شامل تفتیش اور ذمہ دار قرار دیا جائے۔
این ڈی ایم اے اورپی ڈی ایم اے سندھ پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا وہ اپنے فرائض (خاص طور پر ڈیزاسٹر مینجمنٹ) ٹھیک سے انجام دے رہا ہے، خاص طور پر بڑے سانحات کے بعدیہ دونوں ادارے کہا غائب ہوجاتے ہیں۔گل پلازہ میں آگ لگنے کا المناک واقعہ نیشنل ڈیسٹر مینجمنٹ اتھارٹی( این ڈی ایم اے )اورپراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے سندھ) کے اعلی افسران کے ضمیر کو جھنجھوڑتا رہا کہ آگ کے شعلے گھنٹوں تک بھڑکتے رہے اور بالآخر یہ پوری عمارت قیمتی سامان اور جمع پونجی سمیت جل کر راکھ کا ڈھیر بن گئی اس دوران لوگ بے بسی کے عالم میں اپنی آنکھوں کے سامنے کروڑوں روپے کا مال جلتا دیکھتے رہے، اور سب سے بڑھ کر اپنے پیاروں کی جانوں کے لیے تڑپتے رہے، مگر کچھ کرنے سے قاصر رہے۔
یہ ایک انتہائی افسوسناک اور شرمناک حقیقت ہے کہ حکومتِ سندھ اور متعلقہ ادارے بروقت اور مو ¿ثر اقدامات کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔ نہ مناسب فائر فائٹنگ کا انتظام موجود تھا، نہ ریسکیو آپریشن میں کوئی تیزی دکھائی گئی، اور نہ ہی کسی ذمہ دار حکومتی شخصیت کی فوری موجودگی نظر آئی ہے۔ پوری عمارت جل کر ملبے کا ڈھیر بن گئی، مگر اس کے باوجود نیشنل ڈیسٹر مینجمنٹ اتھارٹی( این ڈی ایم اے )اورپراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے سندھ) کا موقع پر نہ پہنچنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ہمارے ان اداروں کو انسانی جان اور شہریوں کے کروڑوں روپے کے سرمائے کو کس قدر غیر اہم سمجھا جاتا ہے۔
اس حوالے سے شہریوں کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ محض ایک عمارت کے جلنے کا سانحہ نہیںبلکہ یہ حکومتی نااہلی، ناقص منصوبہ بندی اور شہریوں کے ساتھ مجرمانہ غفلت کا کھلا ثبوت ہے۔دنیا بھر کہا جاتا ہے ایمرجنسی ادارے ہر وقت الرٹ ہوتے ہیں، مگر شاید مہذب معاشرے کے لیے کہا جاتا ہوں کہ یہاں تو ویک اینڈ پر انسانی جان کی اہمیت بھی چھٹی پر چلی جاتی ہے۔یہ تین کروڑ آبادی والا شہر میٹروپولیٹن کہلاتا ہے، مگر یہاں ایک جلتے انسان کو زندہ بچانے کی صلاحیت نہیں ہے۔
گل پلازہ میں جاری صورتحال نے ایک بار پھر یہ تلخ حقیقت اجاگر کر دی ہے کہ پاکستان خصوصا کراچی کا ایمرجنسی اور ریسکیو انفراسٹرکچر کسی بڑے سانحے سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے اور ہر گزرتا منٹ اندر پھنسے افراد کے لیے جان لیوا ثابت ہوا ہے۔شہریوں کا مزید کہنا تھا کہ سوال یہ ہے کہ آخر کب تک کراچی کے شہری اسی طرح اپنی جان و مال قربان کرتے رہیں گے اور ذمہ دار محض خاموش تماشائی بنے رہیں گے ،اس دلخراش سانحہ گل پلازہ کے دوران ان ریسکیو اداروںکی عدم توجہی نے شہریوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
آگ لگنے کے بعد نیشنل ڈیسٹر مینجمنٹ اتھارٹی( این ڈی ایم اے )اورپراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے سندھ) کا موقع پر نہ پہنچنا، یہ سب ایک ناکام نظام کی واضح علامت ہے۔ حکومت اپنی نااہلی چھپانے کے لیے واقعے کا ملبہ وینٹی لیشن سسٹم پر ڈال رہی ہے، حالانکہ اصل سوال فائر سیفٹی انتظامات، عمارتوں کے حفاظتی قوانین، ایمرجنسی اخراج کے راستوں اور ریسکیو اداروں کی تیاری پر ہے۔ اگر بروقت کارروائی ہوتی، اگر فائر بریگیڈ جدید سہولیات سے لیسe ہوتی، اگر انسانی جانوں کو واقعی قیمتی سمجھا جاتا، تو شاید آج منظر مختلف ہوتا۔ سانحہ گل پلازہ میں آتشزدگی کے بعد یہ ریسکیوادارے کہی نظر نہیں آئے جو بار بار عوامی خدمت کے دعوے کرتے نظر آتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اورپراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نیشنل ڈیسٹر مینجمنٹ اتھارٹی پی ڈی ایم اے سندھ سانحہ گل پلازہ ڈی ایم اے گل پلازہ میں رہے ہیں کے بعد کے لیے
پڑھیں:
نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے غزہ میں جاری انسانی بحران پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد جنگ بندی کے باوجود عام شہری مسلسل جانیں گنوا رہے ہیں، اس لیے غزہ کے عوام کی طویل اذیت کا خاتمہ ناگزیر ہو چکا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ غزہ میں جاری طویل انسانی المیے کا خاتمہ ہونا چاہیے، کیونکہ نام نہاد جنگ بندی کے باوجود وہاں کے شہری آج بھی ہر روز بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔
Despite the so-called ceasefire in Gaza, civilians continue to pay a heavy price every day.
People are being killed in their homes, in their communities, and while carrying out ordinary acts of daily life – as Israel increases its control of Gaza.
Living conditions remain…
— António Guterres (@antonioguterres) July 23, 2026
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا، غزہ میں نام نہاد جنگ بندی کے باوجود عام شہری روزانہ شدید نقصان اٹھا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ پر اپنا کنٹرول مزید مضبوط کیے جانے کے دوران لوگ اپنے گھروں، اپنی آبادیوں اور روزمرہ زندگی کے معمولات انجام دیتے ہوئے بھی ہلاک ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے اقوام متحدہ غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کرنے میں ناکام رہی، پاکستان
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے زور دیا کہ غزہ کے عوام کی مسلسل اور طویل تکالیف کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں