data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (رپورٹ:منیر عقیل انصاری) سانحہ گل پلازہ میں آتشزدگی کے بعد نیشنل ڈیسٹر مینجمنٹ اتھارٹی( این ڈی ایم اے )اورپراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے سندھ) متا ثرین کو بروقت ریسکیو کرتے نظر نہیں آئے،دونوں ادارے مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔

دنوں ادارےگل پلازہ میں آتشزدگی کے بعد کسی بھی امدادی کارروائیوں میں کہی نظر نہیں آئے بروقت حفاظتی انتظامات نہ کرنے پر گل پلازہ متاثرین اس ادارے کی کارکردگی سوال اٹھا رہے ہیں اور پوچھ رہے ہیں کہ سالانہ اربوں روپے کا بجٹ رکھنے والے ادارے اور ان کے عملے نے آگ لگنے کے بعد کراچی کے شہریوں کو بے یارومدد گار کیوں چھوڑ دیا، حفاظتی انتظامات کیوں نہیں کیے ،وقت پر متاثرین کے امداد کے لیے کیوں نہیں پہنچے متعلقہ اداروں کو سانحہ گل پلازہ میں شامل تفتیش اور ذمہ دار قرار دیا جائے۔

این ڈی ایم اے اورپی ڈی ایم اے سندھ پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا وہ اپنے فرائض (خاص طور پر ڈیزاسٹر مینجمنٹ) ٹھیک سے انجام دے رہا ہے، خاص طور پر بڑے سانحات کے بعدیہ دونوں ادارے کہا غائب ہوجاتے ہیں۔گل پلازہ میں آگ لگنے کا المناک واقعہ نیشنل ڈیسٹر مینجمنٹ اتھارٹی( این ڈی ایم اے )اورپراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے سندھ) کے اعلی افسران کے ضمیر کو جھنجھوڑتا رہا کہ آگ کے شعلے گھنٹوں تک بھڑکتے رہے اور بالآخر یہ پوری عمارت قیمتی سامان اور جمع پونجی سمیت جل کر راکھ کا ڈھیر بن گئی اس دوران لوگ بے بسی کے عالم میں اپنی آنکھوں کے سامنے کروڑوں روپے کا مال جلتا دیکھتے رہے، اور سب سے بڑھ کر اپنے پیاروں کی جانوں کے لیے تڑپتے رہے، مگر کچھ کرنے سے قاصر رہے۔

یہ ایک انتہائی افسوسناک اور شرمناک حقیقت ہے کہ حکومتِ سندھ اور متعلقہ ادارے بروقت اور مو ¿ثر اقدامات کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔ نہ مناسب فائر فائٹنگ کا انتظام موجود تھا، نہ ریسکیو آپریشن میں کوئی تیزی دکھائی گئی، اور نہ ہی کسی ذمہ دار حکومتی شخصیت کی فوری موجودگی نظر آئی ہے۔ پوری عمارت جل کر ملبے کا ڈھیر بن گئی، مگر اس کے باوجود نیشنل ڈیسٹر مینجمنٹ اتھارٹی( این ڈی ایم اے )اورپراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے سندھ) کا موقع پر نہ پہنچنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ہمارے ان اداروں کو انسانی جان اور شہریوں کے کروڑوں روپے کے سرمائے کو کس قدر غیر اہم سمجھا جاتا ہے۔

اس حوالے سے شہریوں کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ محض ایک عمارت کے جلنے کا سانحہ نہیںبلکہ یہ حکومتی نااہلی، ناقص منصوبہ بندی اور شہریوں کے ساتھ مجرمانہ غفلت کا کھلا ثبوت ہے۔دنیا بھر کہا جاتا ہے ایمرجنسی ادارے ہر وقت الرٹ ہوتے ہیں، مگر شاید مہذب معاشرے کے لیے کہا جاتا ہوں کہ یہاں تو ویک اینڈ پر انسانی جان کی اہمیت بھی چھٹی پر چلی جاتی ہے۔یہ تین کروڑ آبادی والا شہر میٹروپولیٹن کہلاتا ہے، مگر یہاں ایک جلتے انسان کو زندہ بچانے کی صلاحیت نہیں ہے۔

گل پلازہ میں جاری صورتحال نے ایک بار پھر یہ تلخ حقیقت اجاگر کر دی ہے کہ پاکستان خصوصا کراچی کا ایمرجنسی اور ریسکیو انفراسٹرکچر کسی بڑے سانحے سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے اور ہر گزرتا منٹ اندر پھنسے افراد کے لیے جان لیوا ثابت ہوا ہے۔شہریوں کا مزید کہنا تھا کہ سوال یہ ہے کہ آخر کب تک کراچی کے شہری اسی طرح اپنی جان و مال قربان کرتے رہیں گے اور ذمہ دار محض خاموش تماشائی بنے رہیں گے ،اس دلخراش سانحہ گل پلازہ کے دوران ان ریسکیو اداروںکی عدم توجہی نے شہریوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

آگ لگنے کے بعد نیشنل ڈیسٹر مینجمنٹ اتھارٹی( این ڈی ایم اے )اورپراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے سندھ) کا موقع پر نہ پہنچنا، یہ سب ایک ناکام نظام کی واضح علامت ہے۔ حکومت اپنی نااہلی چھپانے کے لیے واقعے کا ملبہ وینٹی لیشن سسٹم پر ڈال رہی ہے، حالانکہ اصل سوال فائر سیفٹی انتظامات، عمارتوں کے حفاظتی قوانین، ایمرجنسی اخراج کے راستوں اور ریسکیو اداروں کی تیاری پر ہے۔ اگر بروقت کارروائی ہوتی، اگر فائر بریگیڈ جدید سہولیات سے لیسe ہوتی، اگر انسانی جانوں کو واقعی قیمتی سمجھا جاتا، تو شاید آج منظر مختلف ہوتا۔ سانحہ گل پلازہ میں آتشزدگی کے بعد یہ ریسکیوادارے کہی نظر نہیں آئے جو بار بار عوامی خدمت کے دعوے کرتے نظر آتے ہیں۔

ویب ڈیسک عادل سلطان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اورپراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نیشنل ڈیسٹر مینجمنٹ اتھارٹی پی ڈی ایم اے سندھ سانحہ گل پلازہ ڈی ایم اے گل پلازہ میں رہے ہیں کے بعد کے لیے

پڑھیں:

کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے شہریوں سے سینٹر میں فراہم کردہ سہولتوں کے بارے میں دریافت کیا، شہریوں سے شناختی کارڈز اور دیگر دستاویزات بنوانے کے عمل بارے پوچھا۔ نادرا میگا سینٹر میں موجود شہریوں نے مہیا کردہ سہولیات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ متعلقہ فائیلیںاسلام ٹائمز۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے یونیورسٹی روڈ صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹرکا اچانک دورہ کیا۔ وزیر داخلہ نے شہر قائد کے نادرا میگا سینٹر میں شہریوں کے لئے سہولتوں کا جائزہ لیا، محسن نقوی شناختی کارڈز اور دیگر دستاویزات بنانے کے لیے آئے شہریوں سے ملے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے شہریوں سے سینٹر میں فراہم کردہ سہولتوں کے بارے میں دریافت کیا، شہریوں سے شناختی کارڈز اور دیگر دستاویزات بنوانے کے عمل بارے پوچھا۔ نادرا میگا سینٹر میں موجود شہریوں نے مہیا کردہ سہولیات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ شناختی کارڈز اور دیگر دستاویزات بنوانے میں انتظار نہیں کرنا پڑتا، وقت پر باری آ جاتی ہے اور عملہ بھی مکمل تعاون کرتا ہے۔ محسن نقوی مختلف کاؤنٹرز پر گئے اور خصوصا بزرگ شہریوں سے گفتگو کی اور ان کے ایشوز پوچھے، بزرگ شہریوں اور خواتین کے کام ترجیحی بنیادوں پر کرنے کے احکامات جاری کئے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے نادرا سینٹر کے انچارج اور عملے کی کارکردگی کی تعریف کی۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری