سانحہ گل پلازہ, ایک ہی دکان سے 30 لاشیں برآمد‘اموات 61 ہوگئیں,کئی افراد تاحال لاپتا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260122-01-20
کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی کے تجارتی مرکز گل پلازہ میں لگنے والی ہولناک آگ کے بعد ریسکیو آپریشن کے چوتھے روز انتہائی دلخراش مناظر سامنے آئے ہیں، جہاں عمارت کے میزنائن فلور پر واقع ایک ہی دکان سے 30 افراد کی لاشیں ملی ہیں۔ اس ہولناک دریافت کے بعد سانحے میں جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد 61 تک جا پہنچی ہے جبکہ ملبہ ہٹانے کے دوران مزید تین افراد کے جسمانی اعضا بھی برآمد ہوئے ہیں۔ ڈی آئی جی جنوبی اسد رضا کے مطابق بیشتر افراد نے دھوئیں اور آگ سے بچنے کے لیے کراکری کی ایک دکان میں پناہ لے کر شٹر گرا دیا تھا، جو بدقسمتی سے ان کے لیے موت کا جال ثابت ہوا۔ڈی آئی جی جنوبی اسد رضا نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ لاپتا افراد کے موبائل فونز کی آخری لوکیشن اسی دکان کی آ رہی تھی جس کے بعد شٹر کاٹ کر اندر رسائی حاصل کی گئی تو وہاں لاشوں کے ڈھیر بکھرے پڑے تھے۔ جانی نقصان کی بڑی تعداد سامنے آنے کے بعد ملبہ ہٹانے کا کام عارضی طور پر روک کر تمام میتوں کو سول اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ اب تک 28 میتوں کی شناخت مکمل کر لی گئی ہے جن میں محمد شہروز، محمد رضوان، مریم، کاشف، مصباح، عامر، فراز، فاروق، فرقان، محمد علی اور تنویر شامل ہیں، جن کی میتیں ورثا کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ تاہم 17 لاشیں ناقابلِ شناخت ہیں جن کے لیے 50 خاندانوں کے ڈی این اے نمونے حاصل کر کے لیبارٹری ارسال کر دیے گئے ہیں۔دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے جانی نقصان میں اضافے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ ملبہ ہٹانے سے قبل تمام لاشوں کو نکال کر ورثا کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انسانی جان کا کوئی نعم البدل نہیں لیکن حکومت لواحقین کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔ دوسری جانب متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی کے لیے دستاویزات جمع کرنے کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔کمیٹی کے رکن جاوید بلوانی کے مطابق عمارت کا ملبہ دکانداروں کی زیرِ نگرانی پاک کالونی میں واقع کے ایم سی ورکشاپ منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ ملبے میں موجود کسی بھی قیمتی اشیا یا ریکارڈ کی شفافیت پر سوال نہ اٹھے۔ اس عمل میں کراچی چیمبر آف کامرس کے پانچ ارکان بھی شامل ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جب تک آخری لاپتا شخص (جس کی تعداد اب 86 بتائی جا رہی ہے) کا سراغ نہیں مل جاتا، سرچ آپریشن جاری رہے گا۔علاوہ ازیںگورنر سندھ کامران خان ٹیسوری سے دوسری بار کراچی چیمبر کے جاوید بلوانی اور گل پلازہ کے صدر تنویر پاستا نے وفد کے ہمراہ ملاقات کی، تنویر پاستا نے سانحہ گل پلازہ میں بروقت ریسکیو آپریشن اور مؤثر اقدامات پر گورنر سندھ کی کاوشوں کو سراہا اور گل پلازہ کے متاثرین کی بحالی کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرنے پر گورنر سندھ کا شکریہ ادا کیا ۔ ملاقات کے دوران گورنر سندھ اور کراچی چیمبر کی جانب سے دی گئی تجاویز پر تنویر پاستا نے اصولی رضامندی کا اظہار کیا۔ ملاقات میں رکن قومی اسمبلی ارشد وہرہ، رکن سندھ اسمبلی طحہ اور دیگر بھی موجود تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: گل پلازہ کے بعد کے لیے
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔