ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کا حکومتی فیصلہ مسترد کرتے ہیں‘ حافظ نعیم الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260122-01-14
لاہور(نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کے حکومتی فیصلے کو مسترد کرتے ہیں۔ ٹرمپ کا بورڈ آف پیس نو آبادیاتی نظام کی نئی شکل ہے جس میں عراق کو تباہ کرنے والے ٹونی بلیئر جیسے مجرم موجود ہیں۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر اظہار خیال کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بورڈ آف پیس فلسطینیوں کے وسائل اور زمینوں پر قبضے کا نیا نظام ہے۔ تعمیر نو کے نام پر غزہ پر امریکی قبضہ ناقابل قبول ہے۔ پاکستانی وزارت خارجہ کا یہ موقف کہ پاکستان نے سلامتی کونسل کی قرارداد کے تحت غزہ امن منصوبے کی حمایت کا اعلان کیا حقائق کے برعکس ہے۔ خود ٹرمپ کہہ چکا ہے کہ اس کا بورڈ آف پیس ایک دن اقوام متحدہ کی جگہ لے سکتا ہے۔ ٹرمپ کے اس مؤقف کے بعد پاکستان کا بورڈ میں شمولیت کا کیا جواز؟ ہم ایک بار پھر بہت واضح انداز میں کہتے ہیں پاکستان کی فوج کسی صورت بھی غزہ نہیں جانی چاہیے۔
پشاور(نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پے درپے ملٹری آپریشنوں کے نتیجے میں خیبرپختونخوا اور اس کے ملحقہ قبائلی اضلاع کے محب وطن عوام کو بے گھرکرنے کا سلسلہ بند کیا جائے، بندوق اور طاقت کے ذریعے مسائل کا حل کبھی بھی دیرپا ثابت نہیں ہوسکتا، حکومت مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرے، کسی بھی ملٹری آپریشن سے قبل سابق آپریشنوں کا جائزہ لیا جائے اور قوم کو بتایا جائے کہ ان آپریشنوں کے نتیجے میں کتنا امن قائم ہوا؟ جماعت اسلامی ملٹری آپریشن کے نتیجے میں پرامن عوام کو گھروں سے نکال کرذلیل کرنے کی کبھی حمایت نہیں کرے گی۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے صوبائی ہیڈکوارٹر مرکز اسلامی پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان پروفیسرمحمد ابراہیم خان، امیر خیبرپختونخوا وسطی عبدالواسع، سابق رکن قومی اسمبلی اورصوبائی جنرل سیکرٹری صابرحسین اعوان بھی موجود تھے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ مرکزی اورصوبائی حکومتوں کی ترجیحات میں عوام کو ریلیف کی فراہمی دور دور تک نظر نہیں آرہی ہے۔ شدید سردی میں ضلع تیراہ کے لاکھوں متاثرین کو بے گھرکرنے میں وفاقی و صوبائی حکومتیں برابر کی شریک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے مشرف دور سے امریکا کی ایما پر ڈالروں کے لیے لوگوں کو ملٹری آپریشنوں کے ذریعے بے گھر کرنے کی جو پالیسی اختیار کی گئی تھی اس کے بعد آنے والی ہرحکومت اسی راستے پر گامزن رہی۔ مشرف کے بعد زرداری،نواز شریف،عمران خان اور اب شہباز شریف کی حکومت ایک دوسرے کا تسلسل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقے قیام پاکستان سے لے کر مشرف دور تک محفوظ سمجھے جاتے تھے، لیکن پھر امریکی مفادات کی جنگ میں ہمارے حکمرانوں نے اس پرامن علاقوں کو بارودکے ڈھیر اور بدامنی کی آماجگاہ بنا دیا۔ انہوں کہا کہ ضلع تیراہ کی ڈھائی لاکھ آبادی کو بے گھرکیا جارہا ہے اور اس عمل میں مرکزی اور صوبائی حکومتیں ایک پیج پر ہیں۔ صوبے کے وزیراعلیٰ کا اپنا آبائی علاقہ تیراہ اس وقت ملٹری آپریشن کی زدمیں ہے اور وزیراعلیٰ صاحب اپنے لیڈر کی رہائی کے لیے پنجاب اور سندھ کے دورے کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں عوامی رائے کے برعکس حکومتوں کو مسلط کرنے کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں برسراقتدار حکمران خود کو عوام کے سامنے جواب دہ نہیں سمجھتے یہی وجہ ہے کہ ملک مسلسل عدم استحکام کا شکار ہے۔امیر جماعت اسلامی نے گزشتہ روز باجوڑ میں جماعت اسلامی کے رہنما مولانا وحید گل کے گھر کو دھماکے سے نقصان پہنچانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ چند ماہ قبل حکومت باحوڑ میں ملٹری آپریشن کے ذریعے علاقے کوبدامنی سے پاک کرنے کے دعوے کررہی تھی۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ مسائل اور مشکلات کو عوام کی رائے سے بننے والی حکومت ہی ختم کرسکتی ہے، لیکن یہاں عوامی رائے کو سبوتاژ کرنے کی شرمناک پالیسی رائج ہے۔ کراچی میں جماعت اسلامی نے میئر کا الیکشن واضح اکثریت سے جیتا، لیکن ہمارے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا گیا اور کراچی پر پیپلز پارٹی کا قابض میئر مسلط کر دیا گیا، پیپلزپارٹی گزشتہ 40سال سے سندھ پر برسراقتدار ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ متناسب نمائندگی کے ذریعے عوامی مینڈیٹ سے بننے والی حکومت ہی ملک کو حقیقی تبدیلی سے ہمکنار کرسکتی ہے۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن مرکز اسلامی پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ملٹری ا پریشن کے نتیجے میں بورڈ ا ف پیس نے کہا کہ کے ذریعے کرنے کی
پڑھیں:
کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔
ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔