شدید سردی میں تیراہ کے لوگوں کو بے گھر کیا جارہا ہے، حافظ نعیم الرحمٰن
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
پشاور:
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ شدید سردی میں تیراہ کے لوگوں کو بے گھر کیا جارہا ہے، حکومت مقررہ مدت میں آپریشن مکمل کرے۔
پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تیراہ میں آپریشن کے باعث ہے لوگ بے گھر ہورہے ہیں، گزشتہ آپریشن میں متاثرین کو 4 لاکھ روپے دینے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن ابھی تک کچھ نہیں ملا، قبائلی علاقے ہمارے پرامن علاقے تھے جہاں اب حالات خراب ہیں، شدید ترین سردی میں لوگوں کو بے گھر کیا جارہا ہے، جماعت اسلامی تیراہ متاثرین کے ساتھ ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل افریدی کو اپنے علاقے کے عوام کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے، صوبائی حکومت کہتی ہے کہ آپریشن مرضی کے بغیر ہورہا ہے، یہ بیان دے کر جان نہیں چھڑا سکتے، حکومت آپریشن متاثرین کو بے یار و مددگار نہ چھوڑے۔
حافظ نعیم نے کہا کہ پاکستان افغانستان جھگڑے سے کسی کو کچھ حاصل نہیں ہوگا، دونوں ممالک یہ ممکن بنائیں سرزمین ایک دوسرے کے لیے استعمال نہ ہو، اسلامی ممالک کے درمیان لڑائی سے ہندوستان خوش ہوتا ہے، افغانستان میں پھنسے طلباء کو مشکلات سامنا ہے، دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی سے تجارت متاثر ہورہی ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ مقامی حکومتوں کے نظام کو مضبوط ہونا چاہیے، بااختیار مقامی حکومتیں ہونی چاہئیں، مقامی حکومتوں کو توسیع نہیں دینی چاہیے، بلدیاتی حکومتوں کو مضبوط کرنے کے حوالے سے کوئی سیاسی جماعت بات نہیں کرتی،
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ 17 سال سے کراچی میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، کراچی کا بیڑا غرق کردیا گیا ہے، کراچی منی پاکستان ہے ہم کراچی کی بات کرتے ہیں تو پورے پاکستان کی بات ہوتی ہے، کراچی کا میئر جماعت اسلامی کا تھا جو چھینا گیا، کراچی سانحہ پر حکمرانوں نے بے حسی کا مظاہرہ کیا۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ عوام مہنگی بجلی استعمال کرنے پر مجبور ہے، رمضان المبارک کے بعد جماعت اسلامی ایک بار پھر سڑکوں پر آئے گی، اب ہم معاہدوں پر اعتبار نہیں کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم نے کہا کہ بے گھر
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔