اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے جھوٹ اور پراپیگنڈے کی بنیاد پر نوجوانوں کے ذہنو ں میں زہر گھولنے کو بدقسمتی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ صوبوں نے این ایف سی میں ملنے والے وسائل سے فائدہ اٹھا کر بھرپور ترقی کی لیکن خیبر پی کے میں یہ نظر نہیں آتی، چاروں صوبوں کی ترقی سے پاکستان آگے بڑھے گا، سوشل میڈیا پر شہداء کی قربانیوں کی توہین کرکے سرحد پار دشمن کی آواز سے آواز ملائی جاتی ہے۔ خیبر پی کے کو دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے   800ارب روپے دیئے، دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے تک قوم چین سے نہیں بیٹھے گی۔ افغانستان کی عبوری حکومت نے ہماری ایک نہیں سنی، پھر انہیں سبق سکھایا، اب انہیں فیصلہ کرنا ہے کہ پرامن ہمسائے کے طور پر رہنا ہے یا نہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی ورکشاپ میں خیبر پی کے کے شرکاء  سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پرنائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، وفاقی وزراء خواجہ محمد آصف، عطاء اللہ تارڑ اوردیگربھی موجود تھے۔ وزیراعظم نے خیبر پی کے کو پاکستان کا ایک انتہائی اہم اور سٹرٹیجک صوبہ قراردیتے ہوئے خیبر پی کے کے عوام کی غیرت ، جرات و بہادری کو سراہا اور کہا کہ خیبر پی کے نے دہشتگری کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دیں۔ انہوں نے کہا کہ افغان جنگ کے نتیجے میں جو کچھ ہوا وہ تاریخ کا حصہ اور سب کے سامنے ہے، 40 لاکھ افغان پناہ گزین ہجرت کر کے آئے تو خیبر پی کے اور پاکستان کے عوام نے ان کی مہمان نوازی، میزبانی اور خاطر داری میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی، یہ بطور مسلمان اور ہمسایہ ہمارا فرض تھا لیکن اس کے نتیجے میں پاکستان میں کلاشنکوف کلچر آیا اور ملک بھرمیں دہشت گردی نے سر اٹھایا، جس میں ہزاروں بے گناہ شہید ہوئے، خیبر پی کے اس جنگ میں فرنٹ لائن رہا ہے جہاں سیاست دانوں، ڈاکٹرز، انجینئرز، پاک فوج، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اور عام شہریوں نے اپنی جانیں قربان کیں جن کے نتیجے میں 2018ء میں دہشت گردی کا خاتمہ ہوگیا۔ سانحہ اے پی ایس کے بعد سیاسی حکومت نے فیصلہ کیا کہ اب گڈ اور بیڈ طالبان کی کوئی تفریق نہیں ، ایک لاکھ جوانو ں، افسروں اور عام شہریوں کی قربانیوں کی بدولت دہشت گردی کا خاتمہ ہوا لیکن اس ناسور نے 2018ء کے بعد پھر سر کیوں اٹھایا؟، یہ چبھتا ہوا سوال ہے جس کا جواب سب کو معلوم ہے، یہ فاش غلطی تھی، سوات سے سینکڑوں دہشتگردوں کو رہا اور افغانستان سے ہزاروں دہشتگردوں کو واپس لا کر بسایا گیا، اس وجہ سے دہشت گردی دوبارہ شروع ہوئی جس نے ملک کی ترقی اور خوشحالی پر وار کیا۔ ہر روز کہیں نہ کہیں کوئی واقعہ ہوتا ہے جس میں ہمارا کوئی بہادر بیٹا جو اپنے بچوں کو خدا حافظ کہہ کر محاذ پر جاتا ہے وہ دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوتا ہے اور اپنے بچوں کو یتیم کرکے قوم کے بچوں کو یتیم ہونے سے بچاتا ہے، اس سے بڑھ کر کوئی قربانی کیا ہو سکتی ہے؟ ، اس قربانی کا جتنا احترام کیا جائے کم ہے لیکن سوشل میڈیا پر زہر اگلا جاتا ہے اور شہداء کی توہین کی ناپاک کوشش کر کے سرحد پار دشمنوں کی آواز سے آواز ملائی جاتی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام خارجی جو پاکستان کے اندر اور باہر سے حملہ آور ہیں ان کا قلع قمع کرنے تک قوم چین سے نہیں بیٹھے گی۔ وزیراعظم نے یاد دلایا کہ 2010ء میں این ایف سی ایوارڈ میں پنجاب نے پہل کی اور تمام صوبوں نے مل کر اپنے حصے سے ایک فیصد خیبر پی کے کو دہشت گردی کے مقابلے کیلئے دینے کا فیصلہ کیا، 15 برسوں میں 800 ارب روپے دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے خیبر پی کے کو دیئے گئے اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے، بلوچستان کیلئے بھی پنجاب نے اپنے حصے سے ا ضافی وسائل فراہم کئے اوربلوچستان کیلئے 100فیصد اضافہ کیا گیا، یہ کوئی احسان نہیں ہے، اگر پنجاب ترقی کرتا ہے اور باقی نہیں تو یہ پاکستان کی ترقی نہیں، حکومت کا ایمان ہے کہ چاروں صوبے ترقی کریں گے تو پاکستان ترقی کرے گا، بلوچستان کی 850 کلو میٹر خونی سڑک کیلئے 400 ارب روپے مختص کئے، بلوچستان سے ایک پائی نہیں مانگی، صوبے کے کسانوں کیلئے سولر پینلز کی فراہمی کیلئے 75 ارب روپے کے منصوبے میں سے 50 ارب روپے وفاق نے دیئے جن سے آج ٹیوب ویلز چل رہے ہیں، آزاد کشمیر، گلگت بلستستان میں دانش سکولوں کا جال بچھایا جا رہا ہے، طلباء کو میرٹ پر لیپ ٹاپس اور وظائف دیئے جا رہے ہیں جس کیلئے فنڈ قائم کیا گیا ہے۔ لاکھوں طلبہ و طالبات ان سے استفادہ کر کے تعلیمی میدان میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑھ رہے ہیں۔ ایک ہزار زرعی گریجوایٹس کو زراعت کی اعلیٰ تعلیم اور تربیت کیلئے چین کی اعلیٰ یونیورسٹیوں اور اداروں میں بھجوایا جن میں آزاد کشمیرا ور گلگت بلتستان سمیت چاروں صوبوں کے گریجوایٹس شامل ہیں، یہ تربیت یافتہ افراد زرعی اجناس کی پیداوار بڑھانے اور زرعی انقلاب برپا کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ وزیراعظم نے یاد دلایا کہ خیبر پی کے کے عوام نے 1947ء میں پاکستان کے حق میں ووٹ دیا اور قائد اعظم کی ولولہ انگیز قیادت کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوئے۔1971ء کی جنگ میں رضا کارانہ طور پر افغانستان کے ساتھ ٹرانزٹ ٹریڈ بند کر دی، اللہ تعالیٰ نے خیبر  پی کے کو معدنیا ت کی دولت سے نواز ا ہے، یہ وسائل خیبر پی کے اور پاکستان کے عوام کی فلاح و بہبود کیلئے خرچ ہونے چاہئیں تھے لیکن باقی صوبوں سے خیبر پی کے کی د س سالہ کارکردگی کا موازنہ کریں تو دددھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ این ایف سی ایوارڈ میں چاروں صوبوں کو وسائل ملتے ہیں، کسی نے فائدہ اٹھا کر ان سے بھرپور ترقی کی لیکن خیبر پی کے میں جو ترقی ہونی چاہئے تھی وہ نظر نہیں آتی، دشمن بھارت کے 7 لڑاکا طیارے مار گرائے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں دشمن کو وہ سبق سکھایا جس کی حالیہ تاریخ میں مثال نہیں ملتی اور دشمن کو ہمیشہ یہ سبق یاد رہے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں فتح کے بعد گرین پاسپورٹ کو اب دنیا میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، ملک میں معاشی استحکام آ گیا ہے اب پائیدار ترقی کیلئے اقدامات کر رہے ہیں، وہ وقت دور نہیں جب محنت، امانت، دیانت اور ٹیم ورک کے ذریعے پاکستان کو اقوام عالم میں اس کا کھویا ہوا مقام دلائیں گے۔ ا فغانستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان ہمسایہ ملک ہے اور ہم ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، افغانستان کی ماضی اورحال کی حکومتوں نے ہماری میزبانی کی قدر نہیں کی، بھائی چارے کے جواب میں بھائی چارے کا مظاہرہ نہیں ہوا اورجس طرح افغانستان نے جواب دیا وہ قابل افسوس ہے۔ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی ہورہی ہے ، دوحہ اور چین میں افغان عبوری حکومت کے ساتھ بات چیت ہوئی، ان پر ٹی ٹی پی ، بی ایل اے سمیت بھارت کی آشیر باد سے کام کرنے والی پراکسیز کی کارروائیاں روکنے پر زور دیا لیکن انہوں نے کوئی مثبت جواب نہیں دیا اور ہماری ایک نہیں مانی، پھر ان کو سبق سکھایا، انہوں نے ہمیں مجبور کیا کہ ٹرانزٹ ٹریڈ بند کریں، ہم نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ادویات اور ضروری سامان نہیں روکا، اب افغان عبوری حکومت پر ہے کہ وہ پرامن ہمسائے کے طور پر رہنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ خیبر پی کے حکومت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ وفاق اور خیبر پی کے میں سرد جنگ کا تاثر درست نہیں، میں نے سہیل آفریدی کو وزیر اعلیٰ بننے کے فوری بعد فون کر کے مبارکباد دی اور ان کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا لیکن انہوں نے مثبت جواب نہیں دیا، چترال میں دانش سکول کا سنگ بنیادرکھنے کے موقع پر میں نے انہیں پھر مل بیٹھ کر بات کرنے کی دعوت دی لیکن بدقسمتی سے جھوٹ اورپراپیگنڈے کی بنیاد پر نوجوانوں کے ذہنوں میں زہر گھولا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ خیبر پی کے سمیت چاروں صوبوں کے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کررہے ہیں ، اس کیلئے مختلف پروگرام شروع کئے گئے ہیں۔ وزیراعظم نے بتایا کہ چند روز قبل وزیراعظم صحت پروگرام کا دوبارہ اجراء کیا گیا ہے، یہ پروگرام 2016میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے شروع کیا تھا، اس پروگرام کے تحت وفاقی دارالحکومت ، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیرکے عوام کے مفت علاج کے لئے 40 ارب روپے فراہم کئے جائیں گے۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف ورلڈ اکنامک فورم (ڈبلیو ای ایف) کی سالانہ کانفرنس 2026 میں شرکت کے لیے ڈیووس، سوئٹزر لینڈ پہنچ گئے۔ گزشتہ روز وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق ورلڈ اکنامک فورم کا 56 واں اجلاس 23 جنوری تک ہو گا۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی اہم سفارتی اور اقتصادی مصروفیات بھی ہوں گی۔ وہ مختلف سربراہانِ مملکت و حکومت اور بین الاقوامی تنظیموں کے قائدین سے دو طرفہ ملاقاتیں کریں گے۔ دورے کے دوران بزنس راؤنڈ ٹیبل بھی ہوگا جس کا مشترکہ اہتمام پاکستان اور ورلڈ اکنامک فورم کر رہے ہیں اور اس میں عالمی سطح کی نمایاں کمپنیوں کے رہنما شریک ہوں گے جو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے یا اپنی موجودہ سرمایہ کاری کو وسعت دینے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کیلئے ایک اعلیٰ سطح کے وفد کی قیادت وزیراعظم کریں گے۔ ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے بیان کے مطابق وفد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سمیت دیگر اہم شخصیات شامل ہوں گی۔ دورے کے موقع پر وزیراعظم کی متعدد عالمی رہنمائوں اور کاروباری شخصیات سے بھی ملاقاتیں متوقع ہیں۔ دورے کے دوران وزیراعظم عالمی اور علاقائی امن و ترقی کے حوالے سے پاکستان کے موقف پیش کریں گے۔ وزیرعظم معیشت، تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع کے شعبوں میں حکومت کے وژن اور کامیابیوں کو اجاگر کریں گے۔ اجلاس میں عصری، جغرافیائی ،سیاسی، معاشی، سماجی اور ماحولیاتی مسائل پر غور و خوض کیا جاتا ہے۔ ڈیووس آمد پر یو این میں پاکستان کے مستقل نمائندے سوئٹزرلینڈ میں پاکستانی سفیر اور سفارتی عملے نے وزیراعظم کا  استقبال کیا۔ وزیراعظم ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس میں پاکستان کی معاشی استحکام کے حوالے سے کی جا رہی اصلاحات اور پاکستان کے بہتر ہوتے معاشی اشاریوں پر روشنی ڈالیں گے۔ وزیراعظم پاکستان کے استحکام کے حوالے سے ٹرپل او پروگرام (آرڈر، آپرچونیٹی، آپٹیمائزیشن) پر بھی بات کریں گے۔ شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان توانائی، زراعت، معدنیات ، جدید ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں باہمی تعاون اور طویل المدتی سرمایہ کاری کا خواہاں ہے۔ ایکس پر اپنے پیغام میں وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے بتایا کہ وہ ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر عالمی تجارت اور سرمایہ کاری کے شراکت داروں کے ساتھ پاکستان کے روابط بڑھانے کے لئے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس پہنچ گئے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: اعظم محمد شہباز شریف وزیراعظم نے کہا کہ ورلڈ اکنامک فورم خیبر پی کے کو میں پاکستان سرمایہ کاری چاروں صوبوں کے حوالے سے پاکستان کے ارب روپے رہے ہیں جاتا ہے شریف نے کے ساتھ کے عوام کریں گے ہے اور

پڑھیں:

کلچر کب تہذیب بنتا ہے

سماجی و کلچرل ارتقا ایک جامع اصطلاح ہے جو کلچرل ارتقاCultural Evolutionاور سماجی ارتقاSocial evolution کے مختلف نظریات پر مشتمل ہے۔یہ نظریات اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ کلچرز اور معاشرے وقت کے ساتھ کس طرح بدلتے اور ترقی کرتے ہیں۔سماجی و کلچرل ارتقا کو ایک ایسے عمل کے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے جس میں وقت گزرنے کے ساتھ معاشرے کی ساخت اور تنظیم میں تبدیلی آتی ہے اور معاشرہ ایک ایسی شکل اختیار کر لیتا ہے جو اپنی ابتدائی شکل سے معیار،خصوصیات اور ساخت کے لحاظ سے نمایاں طور پر مختلف ہوتا ہے۔

ماہرینِ بشریات یعنی اینتھروپالوجسٹ اور ماہرینِ عمرانیات عام طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ انسان فطری طور پر سماجی رجحانات رکھتا ہے اور اس کے بہت سے سماجی رویوں کی وجوہات جینیاتی یعنی وراثتی نہیں ہوتیں بلکہ ان کے پیچھے سماجی عوامل اور مختلف حالات کارفرما ہوتے ہیں۔معاشرے ایک پیچیدہ سماجی ماحول میں وجود پذیر ہوتے ہیں اور خود کو اس ماحول کے مطابق ڈھالتے رہتے ہیں۔اسی لیے یہ ایک لازمی حقیقت ہے کہ تمام معاشرے وقت کے ساتھ تبدیلی سے گزرتے رہتے ہیں۔

سماجی و کلچرل ارتقا کے نظریات پیش کرنے والوں میںAuguste Comte،ہربرٹ  سر اور لیوس مورگن نمایاں تھے۔ان کا خیال تھا کہ معاشرے ابتدا میں ایک ابتدائی حالت میں ہوتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ آہستہ آہستہ زیادہ مہذب اورترقی یافتہ بنتے جاتے ہیں۔ان نظریات سے بھی بہت پہلے چودھویں صدی عیسوی کے عظیم مسلمان تاریخ دان اور مفکر ابنِ خلدون نے یہ نتیجہ اخذکیا تھا کہ معاشرے زندہ جانداروںLiving organizms کی مانند ہوتے ہیں۔وہ قدرتی اور آفاقی اسباب کے تحت ایک چکرCycleسے گزرتے ہیں یعنی ان کی پیدائش،نشوونما،بلوغت اور آخرکار ان کے لیے موت ناگزیر ہو جاتی ہے۔جرمن فلسفی ہیگلHegel کا خیال تھا کہ معاشرے ابتدا میں ایک قدیم ابتدائی حالت میں ہوتے ہیں۔

شاید اس وقت وہ حالتِ فطرت میں ہوتے ہیں اور پھر ترقی کرتے ہوئے صنعتی یورپ جیسے معاشرے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔اسی طرح ایڈم فرگوسن،جان ملر اور ایڈم اسمتھ کا موقف تھا کہ تمام معاشرے ترقی کے چار بنیادی مراحل سے گزرتے ہیں پہلا مرحلہ شکار اور خوراک جمع کرنے کا دور،دوسرا مویشی پالنے اور خانہ بدوشی کا دور،تیسرا مرحلہ زرعی دور اور چوتھا تجارت اور صنعت کا دور۔اگر بغور جائزہ لیا جائے تو یہ تمام ماہرین ابنِ خلدون کے خوشہ چین نظر آتے ہیں۔

تہذیب ،سویلائزیشن کی اصطلاح بنیادی طور پر انسانی کلچر کے اس مادی اور عملی پہلو کے لیے استعمال ہوتی ہے جو ٹیکنالوجی،سائنس اور محنت کی تقسیم یعنیDivision of Labourکے لحاظ سے بہت ترقی یافتہ اور پیچیدہ ہو۔قدیم زمانے میں مہذب لوگوں کی اصطلاح اس لیے استعمال کی جاتی تھی تاکہ انھیں وحشی اور ابتدائی Primitiveسے الگ ظاہر کیا جا سکے۔آج کے دور میں مہذب معاشروں کا تقابل اکثر مقامی یا قبائلی معاشروں سے کیا جاتا ہے۔یہ امر بھی بہت افسوس ناک ہے کہ بظاہر تہذیب یافتہ اقوام نے وسائل پر قبضے کے لیے بظاہر وحشیوں پر بہت مظالم ڈھائے۔تاہم آج کل اس اصطلاح کو پہلے کی نسبت زیادہ وسیع معنی میں استعمال کیا جاتا ہے جہاں تہذیب اور کلچر کو تقریباً ایک ہی مفہوم میں لیا جاتا ہے۔اس وسیع مفہوم کے مطابق تہذیب سے مراد کوئی بھی اہم نمایاں اور واضح طور پر منظم انسانی معاشرہ ہو سکتا ہے۔

ایک اینتھروپالوجسٹ کے مطابق کلچر اس وقت تہذیب میں ڈھل جاتا ہے جب خاندان،گروہ یا سوسائٹی جسمانی،ذہنی یا مالی طور پر معذور فرد کی نگہداشت شروع کر دیتی اور اس کے لیے اسپتال اور ادارے وجود میں آجاتے ہیں۔انھیں معذور ہونے کی بنا پر مرنے کے لیے نہیں چھوڑ دیا جاتا۔اس نے کہا کہ کھدائیوں کے دوران اگر کسی ڈھانچے کی ٹوٹی ہوئی ہڈی جڑی ہوئی ملے تو سمجھ جانا چاہیے کہ اس معاشرے نے معذور افراد کی دیکھ بھال کے نظام کو عملی طور پر اپنا رکھا تھا ورنہ وہ فرد خود کسی قابل نہ ہونے کی وجہ سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر بھوک اور پیاس سے مر جاتا۔

 تہذیب انسانی معاشرے کی ترقی کی وہ بظاہر اعلیٰ ترین منزل ہے جہاں لوگ صرف اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے تک محدود نہیں رہتے بلکہ self actualizationکی طرف قدم بڑھاتے،منظم سیاسی،معاشی،سماجی،علمی،مذہبی اور کلچرل ادارے تشکیل دیتے ہیں۔تہذیب دراصل انسانی زندگی کے اس منظم اور ترقی یافتہ نظام کا نام ہے جس میں علم،فن، قانون، ریاست، عدالت، تجارت، شہروں کا بسایا جانا،نمایندہ عمارتوں کی تعمیر،روزافزوں ترقی کرتی ٹیکنالوجی اور اعلیٰ اخلاقی اقدار سب ایک دوسرے سے مل کر ایک مستحکم معاشرہ وجود میں لاتے ہیں۔لفظ سویلائزیشن لاطینی لفظ Civisیعنی شہری سے نکلا ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہذیب کا شہری زندگی،منظم حکومت اور اجتماعی اداروں سے گہرا تعلق ہے۔تہذیب کلچر کا منظم،ترقی یافتہ اور ادارہ جاتی Institutionalizedروپ ہے جس میں حکومت،قانون،عدالت،شہروں کی منصوبہ بندی،تجارت،سائنس اور ٹیکنالوجی شامل ہو جاتے ہیں۔

آرنلڈ ٹائن بی کے مطابق Civilization rise where societies successfully respond to challenges..ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر کلچر تہذیب میں نہیں ڈھلتا لیکن جب اس کے اندر یہ عناصر جیسے خانہ بدوشی کے بجائے مستقل آبادیاں قائم ہو جائیں،زراعت فوڈ سیکیورٹی کی ضامن بن جائے،منظم حکومت ،معاشی نظام ہو،سماجی ادارے بن جائیں،سائنس اور ٹیکنالوجی،فنونِ لطیفہ،مذہب، فلسفہ اور محنت کی تقسیم ہو تو کلچر، تہذیب کہلا سکتا ہے۔

تہذیبوں کے زوال کے عمومی اسباب کا جائزہ لیں تو یہ سامنے آتا ہے کہ یہ عظیم تہذیبیں جب اخلاقی انحطاط کا شکار ہوئیں،سیاسی بدعنوانی حد کو چھونے لگی،معاشی بحران نے جنم لے لیا،بیرونی حملے روکے نہ جا سکے،باہم اختلافات بہت بری صورت اختیار کر گئے،علمی و فکری جمود طاری ہوا اورماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے قابل نہ رہیں تو یہ تہذیبیں زوال آشنا ہو کر مٹ گئیں۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف