کمسن بچے کی شکایت پر وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کا لیڈی ریڈنگ اسپتال کا ہنگامی دورہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سُہیل خان آفریدی نے سوشل میڈیا پر ایک کمسن بچے کی سنگین حالت سے متعلق شکایت کا فوری نوٹس لیتے ہوئے لیڈی ریڈنگ اسپتال کے ایمرجنسی چلڈرن وارڈ کا دورہ کیا۔ وزیرِ اعلیٰ نے بچے کے اہلِ خانہ سے ملاقات کی اور معاملے کی مکمل انکوائری کی۔
متعلقہ ڈاکٹروں نے آگاہ کیا کہ بچوں کے آئی سی یو میں بیڈ کی کمی کے باعث مریض کو خیبر ٹیچنگ اسپتال منتقل کیا جانا ضروری ہے، جہاں بیڈ دستیاب ہے۔ وزیرِ اعلیٰ نے فوری طور پر ایمبولینس کی فراہمی اور مریض کی بروقت منتقلی کے احکامات جاری کیے۔
وزیرِ اعلیٰ نے بچوں کے آئی سی یو کے لیے نئے بیڈز کی فراہمی، فوری طور پر فیبری کیٹڈ ایکسٹینشن رومز کے قیام، اور ہنگامی بنیادوں پر صلاحیت بڑھانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر سرکاری اسپتالوں میں بیڈ دستیاب نہ ہوں تو نجی اسپتالوں میں علاج کا بندوبست کیا جائے گا اور اخراجات حکومت برداشت کرے گی۔
مزید پڑھیںعمران خان کی ہدایت پر اسٹریٹ مومنٹ شروع کردی، سہیل آفریدی
وزیرِ اعلیٰ نے اسپتالوں میں بیڈ کی دستیابی جانچنے کے لیے سنٹرلائزڈ اسپتال سسٹم کو مؤثر بنانے، پرائمری ہیلتھ کیئر سسٹم کی ازسرِنو بہتری، اور ڈاکٹروں کے ہاسٹلز میں کمروں کی کمی کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو فوری اقدامات کی ہدایت کی۔ دیگر مریضوں کے مسائل بھی موقع پر حل کرنے کے احکامات جاری کیے گئے۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت ڈاکٹرز اور اساتذہ برادری کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کی فلاح و سہولت حکومت کی ترجیح ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔