وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی کی سندھ سیکرٹریٹ آمد، اہم اجلاس میں شرکت
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اکراچی(اسٹاف رپورٹر)وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک کی سندھ سیکرٹریٹ آمد پر صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقی سندھ جام خان شورو نے ان کا استقبال کیا۔ مصدق ملک اور صوبائی وزیرجام خان شورو کی مشترکہ صدارت میں کاربن اخراج میں کمی اور ٹرانسفارمنگ کاربن فنانس، پاک فلو منصوبے سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں چیئرمین منصوبہ بندی نجم احمد شاہ، ورلڈ بینک کے نمائندوں، محکمہ ماحولیات اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران سندھ میں جاری مختلف ماحولیاتی منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ سندھ حکومت ماحولیاتی منصوبوں، بالخصوص مینگرووز کے فروغ اور کاربن کریڈٹ کے شعبے میں مؤثر اور قابلِ تحسین اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبے نہ صرف ماحول کے تحفظ میں معاون ثابت ہوں گے بلکہ ملکی معیشت کے لیے بھی فائدہ مند ہوں گے۔علاوہ ازیں مصدق ملک نے سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کی زیر تعمیر سینیٹری انجینئرڈلینڈ فل سائٹ جام چاکروکا دورہ کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری انوائرنمنٹ سندھ زبیر احمد چنہ، منیجنگ ڈائریکٹر سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ طارق علی نظامانی، سیکرٹری نوروز عباسی، ڈائریکٹر انفرااسٹرکچر غلام عباس میمن، کنسلٹنٹ ماحولیات فرحان لودھی، ورلڈ بینک کے عہدیداران اور دیگر متعلقہ افسران موجود تھے۔دورے کے دوران کنسلٹنٹ ماحولیات فرحان لودھی نے لینڈ فل سائٹ پر جاری تعمیری وترقی کے کاموں سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔