جامشورو: جی ایم سید کی سالگرہ منانے کے جرم میں رہنمائوں کی گرفتاریاں
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جامشورو(نمائندہ جسارت) جامشورو میں سائیں جی ایم سید سالگرہ کی تقریب منانے کے جْرم میں رہنماؤں کی گرفتاریوں کے خلاف جسقم کی کال پر جسقم کے چیئرمین صنعان قریشی اور جساف ضلع دادو کے صدر سالار سندھی جساف کے رہنما اسد سیال، جسقم تعلقہ دادو کے صدر نیاز چنا اور قومی کارکنوں کے خلاف مقدمات کے اندراج پر جسقم جا مشورو کے صدر سومر خان جمالی، جنرل سیکرٹری محبوب اوٹھو اور پریس سیکرٹری کامریڈ عابد علی جمالی، ریلی میں جسقم کارکنان نیاز حسین جمالی، شاہد برمانی، ارشاد لغاری، صناف رہنما مہران جویو، سندِھی نیشنل کانگریس کے رہنما شعیب جوئے، صدام کھوسو اور کارکنوں کے علاوہ اور دیگر کی قیادت میں احتجاجی ریلی نکال کر شہر کا گشت کرنے کے بعد ڈسٹرکٹ پریس کلب جامشورو پر پہنچ کر احتجاجی مظاہرہ کیا اور مذکورہ گرفتار یو ں کے خلاف نعرے بازی کی۔اِس موقع پر میڈ یا سے گفتگو کرتے ہوئے JSQM ضلع جامشورو کے صدر کامریڈ سومر خان جمالی نے کہا کہ ہم سندھی اپنی دھرتی کے وارث ہیں، ہم اپنی زمین کا مالک ہونا دِفاع کرناجانتے ہیں۔ اْنہوں نے رہنماؤں پر دائر کردہ تمام جھوٹے مقد مات کی سخت الفاظوں میں مذمت کی،جسقم ضلع جامشورو کے جنرل سیکرٹری محبوب اوٹھو نے کہا کہ سید اعظم سائیں جی ایم سید کی سالگرہ منانا بھی جرْم بنا دیا گیا ہے،اور اِس جْرم میں کے چیئرمین صنعا ن خان قریشی اور قومی کارکنوں کے خلاف سندھ کی ملکیت کے مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ ہم اچھی طرح جانتے ہیں اور جدوجہد جاری ر ہے گی.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔