data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (اسٹاف رپورٹر) شہر ِقائد کے مختلف علاقوں میں پولیس نے “اسنیپ چیکنگ” کے نام پر شہریوں، بالخصوص موٹر سائیکل سواروں کے لیے مشکلات کا نیا باب کھول دیا ہے۔ دفتری اوقات میں جگہ جگہ ناکے لگا کر بائیو میٹرک تصدیق کا عمل شروع کر دیا گیا ہے جس کے باعث ناصرف ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے بلکہ ملازمت پیشہ افراد کو شدید ذہنی کوفت کا سامنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مومن آباد، ڈسٹرکٹ ویسٹ اور اس کے مضافاتی تھانوں کی حدود میں پولیس اہلکار صبح دفاتر جانے اور شام کو واپسی کے مخصوص اوقات میں متحرک ہو جاتے ہیں۔ ان ناکوں پر خاص طور پر موٹر سائیکل سواروں کو روکا جاتا ہے۔ گزشتہ روز سائٹ میٹروول کے رہائشی علاقے کی طرف جانے والے مرکزی راستے پر پولیس نے ناکہ لگا کر گھروں کو واپس جانے والے شہریوں کو روک کر بائیو میٹرک تصدیق کی۔ اسی طرح نارتھ ناظم آباد اور ناظم آباد کے علاقوں میں بھی اسنیپ چیکنگ کے نام پر لمبی قطاریں لگی رہتی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پولیس کی اس اچانک چیکنگ کی وجہ سے وہ اکثر دفاتر دیر سے پہنچتے ہیں جس کے باعث انہیں انتظامیہ کی جانب سے سخت جملوں اور تلخ کلامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک متاثرہ شہری کا کہنا تھا کہ پہلے صرف تلاشی کے نام پر روکا جاتا تھا، اب بائیو میٹرک مشینوں کے ذریعے ڈیٹا چیک کرنے میں کئی منٹ ضائع کر دیے جاتے ہیں۔ اگر ہم احتجاج کریں تو پولیس کا رویہ مزید سخت ہو جاتا ہے۔ حیرت انگیز طور پر پولیس حکام کی جانب سے اس مہم یا بائیو میٹرک چیکنگ کے حوالے سے اب تک کوئی باضابطہ پریس ریلیز جاری نہیں کی گئی ہے۔ جب مختلف تھانوں سے اس چیکنگ کے بارے میں رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو کوئی واضح بیان سامنے نہیں آیا۔ عوام میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ یہ کارروائیاں جرائم کی بیخ کنی کے بجائے شہریوں کو ہراساں کرنے اور وقت ضائع کرنے کا سبب بن رہی ہیں۔ واضح رہے کہ ماضی میں بھی پولیس مخصوص علاقوں میں ناکے لگا کر فیکٹریوں اور دفاتر جانے والے محنت کشوں کی تلاشی لیتی رہی ہے لیکن اب جدید ٹیکنالوجی (بائیو میٹرک مشینوں) کے استعمال نے اس عمل کو مزید طویل کر دیا ہے۔

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بائیو میٹرک

پڑھیں:

فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان

 اسلان درانی : فیصل آباد میں حکومت اور پٹرول پمپ مالکان کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے، جس کے بعد پٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال کا اعلان کر دیا, ہڑتال کے باعث شہر میں متعدد پٹرول پمپس پر پٹرول کی فراہمی معطل ہو گئی، جس سے شہریوں کو ایندھن کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

اطلاعات کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) اور گو (GO) کے چند پمپس کے علاوہ بیشتر مقامات پر پٹرول دستیاب نہیں، جبکہ کھلے پمپس پر بھی گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول تک رسائی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

شہریوں نے شکایت کی کہ پٹرول پہلے ہی مہنگا ہو چکا ہے اور اب اس کی عدم دستیابی نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول پمپ مالکان سپلائی میں تعطل کو جواز بنا رہے ہیں، جس سے عام صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔

شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کیے جائیں، پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور حکومت و پٹرول پمپ مالکان کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ معمولاتِ زندگی متاثر نہ ہوں۔

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • آزادکشمیرکے ضلع میرپور میں انٹرنیٹ سروسز مرحلہ وار بحال ہونا شروع
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار