کراچی میں فوری طور پر بلا تعطل گیس فراہمی یقینی بنائی جائے‘عباس نجفی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر) مجلس وحدت مسلمین سندھ کے رہنما علامہ حیات عباس نجفی کا کہنا تھا کہ کراچی میں فوری طور پر بلا تعطل گیس فراہمی یقینی بنائی جائے۔شہرکے عوام کے ساتھ سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کا رویہ ناقابلِ قبول، ظالمانہ اور عوام دشمن ہے۔ غیر اعلانیہ گیس لوڈ شیڈنگ، کم پریشر اور کئی علاقوں بشمول ملیر،شاہ فیصل کالونی،لانڈھی،کورنگی، اورنگی ٹاؤن،گلستان جوہر سمیت بیشتر علاقوں میں مکمل بندش نے شہریوں کی روزمرہ زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ سدرن گیس کمپنی بھی کے الیکٹرک کی روش پر چل پڑی ہے۔ عوام کو بھاری بھرکم بلز تھما کر مزید ذہنی اذیت دی جا رہی ہے۔ صبح، دوپہر، رات تینوں اوقات میں گیس کی عدم دستیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ گیس انتظامیہ مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ ادارے کی جانب سے یہ مؤقف کہ گیس کی فراہمی معمول پر آ چکی ہے سراسر زمینی حقائق کے منافی اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو کراچی کے عوام سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے جس کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ اور وفاقی، صوبائی وشہری حکمرانوں پر عائد ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔