Jasarat News:
2026-07-24@02:25:36 GMT

کمزور طبقات کے معاشی چیلنجز

اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان کے حکومتی معاشی ماہرین کا یہ دعویٰ ہے کہ اس وقت معیشت بہت بہتری کی طرف جا رہی ہے۔ لیکن پاکستان میں کوئی بھی سیاست اور معیشت کی سمجھ بوجھ رکھنے والا فرد یا ادارہ حکومت کی جانب سے معاشی بہتری کے دعوئوں کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ان کے بقول حکمران طبقات ماضی میں بھی قوم کو گمراہ کرتے رہے ہیں اور آج کے حکمران بھی قوم کو معاشی ترقی کے نام پر گمراہ کر رہے ہیں۔ کیونکہ آزاد معیشت سے تعلق رکھنے والے بیش تر معاشی دانشور اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ پاکستان کا معاشی بحران غیر معمولی صورتحال سے دوچار ہے۔ اس بحران سے نبٹنے کے لیے ہمیں بہت بڑے پیمانے پر سیاسی، انتظامی اور معاشی ڈھانچوں میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں لانی ہوں گی اور کچھ کڑوی گولیاں کھانی پڑیں گی۔ لیکن پاکستان کا حکمران یا طاقتور طبقہ بڑے فیصلے کرنے سے قاصر ہیں اور اسے لگتا ہے کہ بڑے فیصلوں سے ان کے معاشی مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ حکمران طبقہ بار بار غیر ملکی سرمایہ کاری کی نوید سناتا ہے لیکن جو سرکاری اعداد و شمار ہیں ان کے مطابق نہ تو ملک یا غیر ملکی سرمایہ داروں کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری ہو رہی ہے اور نہ ہی کوئی یہاں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ جن لوگوں کا شمار بڑے کاروباری شخصیات میں ہوتا ہے وہ بھی اب اپنے ملک میں کاروبار کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یہ لوگ بھی بڑی تیزی سے اپنا سرمایہ اور کاروبار پاکستان سے باہر منتقل کر رہے ہیں۔ بعض بڑے صنعت کاروں نے تو یہاں تک کہا ہے کہ پاکستان میں ایف بی آر کی موجودگی میں کوئی فرد کاروبار نہیں کر سکتا اور اگر کاروبار کرنا ہے تو اسے کرپشن اور بدعنوانی کا حصہ بننا پڑے گا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کا کاروباری طبقہ کسی بھی طور پر حکمرانوں پر اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں ہے اور اسی لیے وہ کاروبار میں پیش آنے والی مشکلات کا ذکر فوجی قیادت کے ساتھ کرتا ہے۔ ان کا فوجی قیادت سے مطالبہ ہوتا ہے کہ اگر ملک کی معیشت کو درست کرنا ہے تو آپ کو نظام کی اصلاح کرنی ہوگی اور ہمیں حکمران طبقوں پر کوئی اعتبار نہیں ہے۔ آئی ایم ایف بار بار ہم سے یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ اگر ہم نے معیشت میں بنیادی نوعیت کے فیصلے نہ کیے تو پاکستان کی معیشت بہتر نہیں ہو سکے گی۔ اسی طرح بہت سے عالمی تھنک ٹینک بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ جب تک پاکستان معاشی اصلاحات کے ساتھ ساتھ داخلی استحکام پیدا نہیں کرے گا اس وقت تک معیشت کی بہتری کا کوئی امکان نہیں۔ پاکستان کا حکمران طبقہ اصلاحات کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس کا بڑا نتیجہ بری معیشت کے تناظر میں ہمیں دیکھنے کو مل رہا ہے۔ آمدنی اور اخراجات میں جو عدم توازن پیدا ہوا ہے اس نے عام لوگوں یا کمزور طبقات کے ساتھ ساتھ مڈل کلاس پڑھی لکھی آبادی کو بھی شدید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔اب یہ خبر عام ہے کہ حکومت کی معاشی ٹیم معاشی اہداف کو حاصل کرنے میں بری طرح سے ناکام ہو چکی ہے۔ اس لیے یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ ہمیں فوری طور پر معاشی ٹیم کو تبدیل کر کے نئی معاشی ٹیم کا انتخاب کرنا ہوگا۔ اصل مسئلہ معاشی ٹیم کا نہیں ہے بلکہ ان سیاسی فیصلوں کا ہے جو اس وقت ریاست اور حکومتی سطح پر ہو رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں سیاسی، معاشی اور سیکورٹی کا نظام بری طرح سے متاثر ہو رہا ہے۔ بنیادی طور پر ہمیں بحران کا سامنا ہے اور ہم بڑے مسائل سے نمٹنے کے بجائے سطحی نوعیت کے مسائل میں الجھ کر رہ گئے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس سنگین معاشی دلدل میں حکمران و طاقتور طبقات کی عیاشیاں زوروں پر ہیں۔ بڑے بڑے خاندانوں کی اولادوں کی جو شادیاں ہو رہی ہیں ان میں سرکاری وسائل کو بھی بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے لیکن کوئی ان کو پوچھنے والا نہیں ہے۔ اگرچہ مسلم لیگ ن کی حکومت خراب معیشت کی ذمے داری کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے اور وہ اس بیمار معیشت کا سارا ملبہ سابقہ پی ٹی آئی حکومت پر ڈالتی ہے۔ لیکن یہ طرز عمل کوئی نیا نہیں ہے بلکہ ماضی میں بھی ہم نے تمام حکومتوں کو دیکھا ہے کہ وہ اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے کے بجائے دوسروں پر ملبہ ڈال کر خود بچانے کی کوشش کرتی ہیں۔ لیکن لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ معیشت کی بدحالی کا ذمے دار کون ہے۔ معیشت کی بہتری کے دعوے اپنی جگہ لیکن اصل سوال عام اور کمزور طبقات کی معیشت کا ہے اور جب تک ان کی معیشت بہتر نہیں ہوگی یا ان کے معاشی مسائل حل نہیں ہوں گے اس وقت تک معاشی ترقی کے تمام تر دعوے جذباتیت پر مبنی ہوں گے۔ اس وقت بھی ہمیں حکومتی سطح پر کوئی ایسا معاشی روڈ میپ دیکھنے کو نہیں مل رہا یا ہمیں دکھایا نہیں گیا ہے جو ہمیں اس بات پر قائل کر سکے کہ موجودہ حکمران اگلے چند برسوں میں معیشت کو بہتر کر دیں گے۔ جب ہمارے پاس معیشت کی بہتری کا لانگ ٹرم مڈ ٹرم اور شارٹ ٹرم منصوبہ ہی نہیں ہوگا اور اس پر ملک کے تمام معاشی ماہرین کا اتفاق بھی نہ ہو تو ایسے میں معیشت کی بہتری کے دعوے بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اس حکومت کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ اس نے ملک میں سیاسی استحکام پیدا کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ وہ سب اچھا کی پالیسی کے تحت چل رہے ہیں اور جب ان کی حکومت چل رہی ہے تو ان کو لگتا ہے کہ سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے۔ جو لوگ حکومت کی سیاسی اور معاشی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہیں ان کو سیاسی اور معاشی دہشت گرد یا ریاست دشمن کا خطاب مل جاتا ہے۔ ایسے میں کون سا بڑا سیاسی اتفاق رائے پیدا ہو سکتا ہے خود ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ پاکستان کی معیشت اس وقت صرف بیمار نہیں ہے بلکہ عام آدمی کے لیے بڑی تیزی سے سکڑتی جا رہی ہے۔ ایسے میں عام آدمی کا ریاست سے تعلق کمزور ہو رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ طاقتور طبقے کی معیشت طاقتور ہے اور کمزور طبقے کی معیشت کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ اسی لیے پاکستان سے پڑھے لکھے نوجوانوں کی بڑی تعداد ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گئی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ ملک چھوڑنے والے لوگوں میں انجینئرز اور ڈاکٹر شامل ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ موجودہ حالات میں محض تنقید برائے تنقید مسئلے کا حل نہیں ہے اور نہ ہی حکمرانوں کو گالیاں دے کر معیشت درست ہو سکتی ہے۔ اصل میں تو حکومت کو اپنی ترجیحات تبدیل کرنی ہوگی اور ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جو معاشی میدان میں غیر معمولی مثبت تبدیلیوں کو سامنے لا سکے۔ لیکن جب اس ملک کا حکمران طبقہ خود کاروبار کر رہا ہوگا اور اس کے معاشی مفادات بھی ہوں گے تو ایسے میں وہ ریاست اور عام آدمی کے بارے میں کیوں کر سوچے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری ریاست یا حکمرانی کا نظام کمزور بنیادوں پر کھڑا ہوا ہے۔ لوگوں کو لگتا ہے کہ اس نظام میں ہمارے لیے بہتری کا کوئی پہلو نہیں ہے۔ اسی لیے لوگ ریاست اور حکومت سے لا تعلق ہوتے جا رہے ہیں اور ان میں غیر یقینی کیفیت کا پیدا ہونا فطری امر ہے۔ یہ سوچ و فکر لوگوں کو بغاوت کی طرف بھی مائل کرتی ہے اور اگر ہم نے معاشی درستی کے حوالے سے جلد کوئی بڑے فیصلے نہ کیے یا اس میں کوئی بہتری پیدا نہ کی تو معیشت کی یہ جنگ خود حکمران طبقات کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ اس لیے اب بھی وقت ہے اس ملک کے طاقتور طبقات کو اپنی معیشت کے مقابلے میں عام آدمی کی معیشت پر یا اس کی بہتری پر توجہ دینی ہوگی۔ کیونکہ جس تیزی سے ان لوگوں میں رد عمل پیدا ہو رہا ہے یہ خاموش انقلاب ہے اور اگر یہ انقلاب لوگوں کو بغاوت پر مجبور کر دے تو اس سے خود حکمرانوں کے سیاسی مفادات کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

اداریہ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کرنے کے لیے تیار نہیں کے لیے تیار نہیں ہے معیشت کی بہتری رہے ہیں اور پاکستان کا معاشی ٹیم ہیں اور ا ایسے میں کے معاشی کی معیشت نہیں ہو پیدا ہو اور اس رہا ہے ہے اور ہیں کہ ہوں گے رہی ہے

پڑھیں:

عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار

وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔

ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف