Jasarat News:
2026-07-24@03:34:39 GMT

کمزور طبقات کے معاشی چیلنجز

اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان کے حکومتی معاشی ماہرین کا یہ دعویٰ ہے کہ اس وقت معیشت بہت بہتری کی طرف جا رہی ہے۔ لیکن پاکستان میں کوئی بھی سیاست اور معیشت کی سمجھ بوجھ رکھنے والا فرد یا ادارہ حکومت کی جانب سے معاشی بہتری کے دعوئوں کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ان کے بقول حکمران طبقات ماضی میں بھی قوم کو گمراہ کرتے رہے ہیں اور آج کے حکمران بھی قوم کو معاشی ترقی کے نام پر گمراہ کر رہے ہیں۔ کیونکہ آزاد معیشت سے تعلق رکھنے والے بیش تر معاشی دانشور اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ پاکستان کا معاشی بحران غیر معمولی صورتحال سے دوچار ہے۔ اس بحران سے نبٹنے کے لیے ہمیں بہت بڑے پیمانے پر سیاسی، انتظامی اور معاشی ڈھانچوں میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں لانی ہوں گی اور کچھ کڑوی گولیاں کھانی پڑیں گی۔ لیکن پاکستان کا حکمران یا طاقتور طبقہ بڑے فیصلے کرنے سے قاصر ہیں اور اسے لگتا ہے کہ بڑے فیصلوں سے ان کے معاشی مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ حکمران طبقہ بار بار غیر ملکی سرمایہ کاری کی نوید سناتا ہے لیکن جو سرکاری اعداد و شمار ہیں ان کے مطابق نہ تو ملک یا غیر ملکی سرمایہ داروں کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری ہو رہی ہے اور نہ ہی کوئی یہاں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ جن لوگوں کا شمار بڑے کاروباری شخصیات میں ہوتا ہے وہ بھی اب اپنے ملک میں کاروبار کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یہ لوگ بھی بڑی تیزی سے اپنا سرمایہ اور کاروبار پاکستان سے باہر منتقل کر رہے ہیں۔ بعض بڑے صنعت کاروں نے تو یہاں تک کہا ہے کہ پاکستان میں ایف بی آر کی موجودگی میں کوئی فرد کاروبار نہیں کر سکتا اور اگر کاروبار کرنا ہے تو اسے کرپشن اور بدعنوانی کا حصہ بننا پڑے گا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کا کاروباری طبقہ کسی بھی طور پر حکمرانوں پر اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں ہے اور اسی لیے وہ کاروبار میں پیش آنے والی مشکلات کا ذکر فوجی قیادت کے ساتھ کرتا ہے۔ ان کا فوجی قیادت سے مطالبہ ہوتا ہے کہ اگر ملک کی معیشت کو درست کرنا ہے تو آپ کو نظام کی اصلاح کرنی ہوگی اور ہمیں حکمران طبقوں پر کوئی اعتبار نہیں ہے۔ آئی ایم ایف بار بار ہم سے یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ اگر ہم نے معیشت میں بنیادی نوعیت کے فیصلے نہ کیے تو پاکستان کی معیشت بہتر نہیں ہو سکے گی۔ اسی طرح بہت سے عالمی تھنک ٹینک بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ جب تک پاکستان معاشی اصلاحات کے ساتھ ساتھ داخلی استحکام پیدا نہیں کرے گا اس وقت تک معیشت کی بہتری کا کوئی امکان نہیں۔ پاکستان کا حکمران طبقہ اصلاحات کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس کا بڑا نتیجہ بری معیشت کے تناظر میں ہمیں دیکھنے کو مل رہا ہے۔ آمدنی اور اخراجات میں جو عدم توازن پیدا ہوا ہے اس نے عام لوگوں یا کمزور طبقات کے ساتھ ساتھ مڈل کلاس پڑھی لکھی آبادی کو بھی شدید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔اب یہ خبر عام ہے کہ حکومت کی معاشی ٹیم معاشی اہداف کو حاصل کرنے میں بری طرح سے ناکام ہو چکی ہے۔ اس لیے یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ ہمیں فوری طور پر معاشی ٹیم کو تبدیل کر کے نئی معاشی ٹیم کا انتخاب کرنا ہوگا۔ اصل مسئلہ معاشی ٹیم کا نہیں ہے بلکہ ان سیاسی فیصلوں کا ہے جو اس وقت ریاست اور حکومتی سطح پر ہو رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں سیاسی، معاشی اور سیکورٹی کا نظام بری طرح سے متاثر ہو رہا ہے۔ بنیادی طور پر ہمیں بحران کا سامنا ہے اور ہم بڑے مسائل سے نمٹنے کے بجائے سطحی نوعیت کے مسائل میں الجھ کر رہ گئے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس سنگین معاشی دلدل میں حکمران و طاقتور طبقات کی عیاشیاں زوروں پر ہیں۔ بڑے بڑے خاندانوں کی اولادوں کی جو شادیاں ہو رہی ہیں ان میں سرکاری وسائل کو بھی بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے لیکن کوئی ان کو پوچھنے والا نہیں ہے۔ اگرچہ مسلم لیگ ن کی حکومت خراب معیشت کی ذمے داری کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے اور وہ اس بیمار معیشت کا سارا ملبہ سابقہ پی ٹی آئی حکومت پر ڈالتی ہے۔ لیکن یہ طرز عمل کوئی نیا نہیں ہے بلکہ ماضی میں بھی ہم نے تمام حکومتوں کو دیکھا ہے کہ وہ اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے کے بجائے دوسروں پر ملبہ ڈال کر خود بچانے کی کوشش کرتی ہیں۔ لیکن لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ معیشت کی بدحالی کا ذمے دار کون ہے۔ معیشت کی بہتری کے دعوے اپنی جگہ لیکن اصل سوال عام اور کمزور طبقات کی معیشت کا ہے اور جب تک ان کی معیشت بہتر نہیں ہوگی یا ان کے معاشی مسائل حل نہیں ہوں گے اس وقت تک معاشی ترقی کے تمام تر دعوے جذباتیت پر مبنی ہوں گے۔ اس وقت بھی ہمیں حکومتی سطح پر کوئی ایسا معاشی روڈ میپ دیکھنے کو نہیں مل رہا یا ہمیں دکھایا نہیں گیا ہے جو ہمیں اس بات پر قائل کر سکے کہ موجودہ حکمران اگلے چند برسوں میں معیشت کو بہتر کر دیں گے۔ جب ہمارے پاس معیشت کی بہتری کا لانگ ٹرم مڈ ٹرم اور شارٹ ٹرم منصوبہ ہی نہیں ہوگا اور اس پر ملک کے تمام معاشی ماہرین کا اتفاق بھی نہ ہو تو ایسے میں معیشت کی بہتری کے دعوے بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اس حکومت کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ اس نے ملک میں سیاسی استحکام پیدا کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ وہ سب اچھا کی پالیسی کے تحت چل رہے ہیں اور جب ان کی حکومت چل رہی ہے تو ان کو لگتا ہے کہ سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے۔ جو لوگ حکومت کی سیاسی اور معاشی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہیں ان کو سیاسی اور معاشی دہشت گرد یا ریاست دشمن کا خطاب مل جاتا ہے۔ ایسے میں کون سا بڑا سیاسی اتفاق رائے پیدا ہو سکتا ہے خود ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ پاکستان کی معیشت اس وقت صرف بیمار نہیں ہے بلکہ عام آدمی کے لیے بڑی تیزی سے سکڑتی جا رہی ہے۔ ایسے میں عام آدمی کا ریاست سے تعلق کمزور ہو رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ طاقتور طبقے کی معیشت طاقتور ہے اور کمزور طبقے کی معیشت کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ اسی لیے پاکستان سے پڑھے لکھے نوجوانوں کی بڑی تعداد ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گئی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ ملک چھوڑنے والے لوگوں میں انجینئرز اور ڈاکٹر شامل ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ موجودہ حالات میں محض تنقید برائے تنقید مسئلے کا حل نہیں ہے اور نہ ہی حکمرانوں کو گالیاں دے کر معیشت درست ہو سکتی ہے۔ اصل میں تو حکومت کو اپنی ترجیحات تبدیل کرنی ہوگی اور ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جو معاشی میدان میں غیر معمولی مثبت تبدیلیوں کو سامنے لا سکے۔ لیکن جب اس ملک کا حکمران طبقہ خود کاروبار کر رہا ہوگا اور اس کے معاشی مفادات بھی ہوں گے تو ایسے میں وہ ریاست اور عام آدمی کے بارے میں کیوں کر سوچے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری ریاست یا حکمرانی کا نظام کمزور بنیادوں پر کھڑا ہوا ہے۔ لوگوں کو لگتا ہے کہ اس نظام میں ہمارے لیے بہتری کا کوئی پہلو نہیں ہے۔ اسی لیے لوگ ریاست اور حکومت سے لا تعلق ہوتے جا رہے ہیں اور ان میں غیر یقینی کیفیت کا پیدا ہونا فطری امر ہے۔ یہ سوچ و فکر لوگوں کو بغاوت کی طرف بھی مائل کرتی ہے اور اگر ہم نے معاشی درستی کے حوالے سے جلد کوئی بڑے فیصلے نہ کیے یا اس میں کوئی بہتری پیدا نہ کی تو معیشت کی یہ جنگ خود حکمران طبقات کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ اس لیے اب بھی وقت ہے اس ملک کے طاقتور طبقات کو اپنی معیشت کے مقابلے میں عام آدمی کی معیشت پر یا اس کی بہتری پر توجہ دینی ہوگی۔ کیونکہ جس تیزی سے ان لوگوں میں رد عمل پیدا ہو رہا ہے یہ خاموش انقلاب ہے اور اگر یہ انقلاب لوگوں کو بغاوت پر مجبور کر دے تو اس سے خود حکمرانوں کے سیاسی مفادات کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

اداریہ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کرنے کے لیے تیار نہیں کے لیے تیار نہیں ہے معیشت کی بہتری رہے ہیں اور پاکستان کا معاشی ٹیم ہیں اور ا ایسے میں کے معاشی کی معیشت نہیں ہو پیدا ہو اور اس رہا ہے ہے اور ہیں کہ ہوں گے رہی ہے

پڑھیں:

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔

یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔

ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔

خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔

وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔

زیارت کیوں بھیجا گیا

اصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔

شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔

تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے

36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔

کراچی، وہ بھی ستمبر میں

اب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔

اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔

ایمبولینس کا قصہ

اب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟

اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔

یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے

مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟

میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔

کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائد

ہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔

سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔

حرفِ آخر

صاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔

مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔

ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔

میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عامر خاکوانی

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی