Jasarat News:
2026-07-24@04:51:19 GMT

کمزور طبقات کے معاشی چیلنجز

اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان کے حکومتی معاشی ماہرین کا یہ دعویٰ ہے کہ اس وقت معیشت بہت بہتری کی طرف جا رہی ہے۔ لیکن پاکستان میں کوئی بھی سیاست اور معیشت کی سمجھ بوجھ رکھنے والا فرد یا ادارہ حکومت کی جانب سے معاشی بہتری کے دعوئوں کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ان کے بقول حکمران طبقات ماضی میں بھی قوم کو گمراہ کرتے رہے ہیں اور آج کے حکمران بھی قوم کو معاشی ترقی کے نام پر گمراہ کر رہے ہیں۔ کیونکہ آزاد معیشت سے تعلق رکھنے والے بیش تر معاشی دانشور اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ پاکستان کا معاشی بحران غیر معمولی صورتحال سے دوچار ہے۔ اس بحران سے نبٹنے کے لیے ہمیں بہت بڑے پیمانے پر سیاسی، انتظامی اور معاشی ڈھانچوں میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں لانی ہوں گی اور کچھ کڑوی گولیاں کھانی پڑیں گی۔ لیکن پاکستان کا حکمران یا طاقتور طبقہ بڑے فیصلے کرنے سے قاصر ہیں اور اسے لگتا ہے کہ بڑے فیصلوں سے ان کے معاشی مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ حکمران طبقہ بار بار غیر ملکی سرمایہ کاری کی نوید سناتا ہے لیکن جو سرکاری اعداد و شمار ہیں ان کے مطابق نہ تو ملک یا غیر ملکی سرمایہ داروں کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری ہو رہی ہے اور نہ ہی کوئی یہاں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ جن لوگوں کا شمار بڑے کاروباری شخصیات میں ہوتا ہے وہ بھی اب اپنے ملک میں کاروبار کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یہ لوگ بھی بڑی تیزی سے اپنا سرمایہ اور کاروبار پاکستان سے باہر منتقل کر رہے ہیں۔ بعض بڑے صنعت کاروں نے تو یہاں تک کہا ہے کہ پاکستان میں ایف بی آر کی موجودگی میں کوئی فرد کاروبار نہیں کر سکتا اور اگر کاروبار کرنا ہے تو اسے کرپشن اور بدعنوانی کا حصہ بننا پڑے گا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کا کاروباری طبقہ کسی بھی طور پر حکمرانوں پر اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں ہے اور اسی لیے وہ کاروبار میں پیش آنے والی مشکلات کا ذکر فوجی قیادت کے ساتھ کرتا ہے۔ ان کا فوجی قیادت سے مطالبہ ہوتا ہے کہ اگر ملک کی معیشت کو درست کرنا ہے تو آپ کو نظام کی اصلاح کرنی ہوگی اور ہمیں حکمران طبقوں پر کوئی اعتبار نہیں ہے۔ آئی ایم ایف بار بار ہم سے یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ اگر ہم نے معیشت میں بنیادی نوعیت کے فیصلے نہ کیے تو پاکستان کی معیشت بہتر نہیں ہو سکے گی۔ اسی طرح بہت سے عالمی تھنک ٹینک بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ جب تک پاکستان معاشی اصلاحات کے ساتھ ساتھ داخلی استحکام پیدا نہیں کرے گا اس وقت تک معیشت کی بہتری کا کوئی امکان نہیں۔ پاکستان کا حکمران طبقہ اصلاحات کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس کا بڑا نتیجہ بری معیشت کے تناظر میں ہمیں دیکھنے کو مل رہا ہے۔ آمدنی اور اخراجات میں جو عدم توازن پیدا ہوا ہے اس نے عام لوگوں یا کمزور طبقات کے ساتھ ساتھ مڈل کلاس پڑھی لکھی آبادی کو بھی شدید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔اب یہ خبر عام ہے کہ حکومت کی معاشی ٹیم معاشی اہداف کو حاصل کرنے میں بری طرح سے ناکام ہو چکی ہے۔ اس لیے یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ ہمیں فوری طور پر معاشی ٹیم کو تبدیل کر کے نئی معاشی ٹیم کا انتخاب کرنا ہوگا۔ اصل مسئلہ معاشی ٹیم کا نہیں ہے بلکہ ان سیاسی فیصلوں کا ہے جو اس وقت ریاست اور حکومتی سطح پر ہو رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں سیاسی، معاشی اور سیکورٹی کا نظام بری طرح سے متاثر ہو رہا ہے۔ بنیادی طور پر ہمیں بحران کا سامنا ہے اور ہم بڑے مسائل سے نمٹنے کے بجائے سطحی نوعیت کے مسائل میں الجھ کر رہ گئے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس سنگین معاشی دلدل میں حکمران و طاقتور طبقات کی عیاشیاں زوروں پر ہیں۔ بڑے بڑے خاندانوں کی اولادوں کی جو شادیاں ہو رہی ہیں ان میں سرکاری وسائل کو بھی بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے لیکن کوئی ان کو پوچھنے والا نہیں ہے۔ اگرچہ مسلم لیگ ن کی حکومت خراب معیشت کی ذمے داری کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے اور وہ اس بیمار معیشت کا سارا ملبہ سابقہ پی ٹی آئی حکومت پر ڈالتی ہے۔ لیکن یہ طرز عمل کوئی نیا نہیں ہے بلکہ ماضی میں بھی ہم نے تمام حکومتوں کو دیکھا ہے کہ وہ اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے کے بجائے دوسروں پر ملبہ ڈال کر خود بچانے کی کوشش کرتی ہیں۔ لیکن لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ معیشت کی بدحالی کا ذمے دار کون ہے۔ معیشت کی بہتری کے دعوے اپنی جگہ لیکن اصل سوال عام اور کمزور طبقات کی معیشت کا ہے اور جب تک ان کی معیشت بہتر نہیں ہوگی یا ان کے معاشی مسائل حل نہیں ہوں گے اس وقت تک معاشی ترقی کے تمام تر دعوے جذباتیت پر مبنی ہوں گے۔ اس وقت بھی ہمیں حکومتی سطح پر کوئی ایسا معاشی روڈ میپ دیکھنے کو نہیں مل رہا یا ہمیں دکھایا نہیں گیا ہے جو ہمیں اس بات پر قائل کر سکے کہ موجودہ حکمران اگلے چند برسوں میں معیشت کو بہتر کر دیں گے۔ جب ہمارے پاس معیشت کی بہتری کا لانگ ٹرم مڈ ٹرم اور شارٹ ٹرم منصوبہ ہی نہیں ہوگا اور اس پر ملک کے تمام معاشی ماہرین کا اتفاق بھی نہ ہو تو ایسے میں معیشت کی بہتری کے دعوے بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اس حکومت کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ اس نے ملک میں سیاسی استحکام پیدا کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ وہ سب اچھا کی پالیسی کے تحت چل رہے ہیں اور جب ان کی حکومت چل رہی ہے تو ان کو لگتا ہے کہ سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے۔ جو لوگ حکومت کی سیاسی اور معاشی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہیں ان کو سیاسی اور معاشی دہشت گرد یا ریاست دشمن کا خطاب مل جاتا ہے۔ ایسے میں کون سا بڑا سیاسی اتفاق رائے پیدا ہو سکتا ہے خود ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ پاکستان کی معیشت اس وقت صرف بیمار نہیں ہے بلکہ عام آدمی کے لیے بڑی تیزی سے سکڑتی جا رہی ہے۔ ایسے میں عام آدمی کا ریاست سے تعلق کمزور ہو رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ طاقتور طبقے کی معیشت طاقتور ہے اور کمزور طبقے کی معیشت کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ اسی لیے پاکستان سے پڑھے لکھے نوجوانوں کی بڑی تعداد ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گئی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ ملک چھوڑنے والے لوگوں میں انجینئرز اور ڈاکٹر شامل ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ موجودہ حالات میں محض تنقید برائے تنقید مسئلے کا حل نہیں ہے اور نہ ہی حکمرانوں کو گالیاں دے کر معیشت درست ہو سکتی ہے۔ اصل میں تو حکومت کو اپنی ترجیحات تبدیل کرنی ہوگی اور ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جو معاشی میدان میں غیر معمولی مثبت تبدیلیوں کو سامنے لا سکے۔ لیکن جب اس ملک کا حکمران طبقہ خود کاروبار کر رہا ہوگا اور اس کے معاشی مفادات بھی ہوں گے تو ایسے میں وہ ریاست اور عام آدمی کے بارے میں کیوں کر سوچے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری ریاست یا حکمرانی کا نظام کمزور بنیادوں پر کھڑا ہوا ہے۔ لوگوں کو لگتا ہے کہ اس نظام میں ہمارے لیے بہتری کا کوئی پہلو نہیں ہے۔ اسی لیے لوگ ریاست اور حکومت سے لا تعلق ہوتے جا رہے ہیں اور ان میں غیر یقینی کیفیت کا پیدا ہونا فطری امر ہے۔ یہ سوچ و فکر لوگوں کو بغاوت کی طرف بھی مائل کرتی ہے اور اگر ہم نے معاشی درستی کے حوالے سے جلد کوئی بڑے فیصلے نہ کیے یا اس میں کوئی بہتری پیدا نہ کی تو معیشت کی یہ جنگ خود حکمران طبقات کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ اس لیے اب بھی وقت ہے اس ملک کے طاقتور طبقات کو اپنی معیشت کے مقابلے میں عام آدمی کی معیشت پر یا اس کی بہتری پر توجہ دینی ہوگی۔ کیونکہ جس تیزی سے ان لوگوں میں رد عمل پیدا ہو رہا ہے یہ خاموش انقلاب ہے اور اگر یہ انقلاب لوگوں کو بغاوت پر مجبور کر دے تو اس سے خود حکمرانوں کے سیاسی مفادات کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

اداریہ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کرنے کے لیے تیار نہیں کے لیے تیار نہیں ہے معیشت کی بہتری رہے ہیں اور پاکستان کا معاشی ٹیم ہیں اور ا ایسے میں کے معاشی کی معیشت نہیں ہو پیدا ہو اور اس رہا ہے ہے اور ہیں کہ ہوں گے رہی ہے

پڑھیں:

بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی

سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی