Jasarat News:
2026-06-02@23:16:12 GMT

کمزور طبقات کے معاشی چیلنجز

اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان کے حکومتی معاشی ماہرین کا یہ دعویٰ ہے کہ اس وقت معیشت بہت بہتری کی طرف جا رہی ہے۔ لیکن پاکستان میں کوئی بھی سیاست اور معیشت کی سمجھ بوجھ رکھنے والا فرد یا ادارہ حکومت کی جانب سے معاشی بہتری کے دعوئوں کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ان کے بقول حکمران طبقات ماضی میں بھی قوم کو گمراہ کرتے رہے ہیں اور آج کے حکمران بھی قوم کو معاشی ترقی کے نام پر گمراہ کر رہے ہیں۔ کیونکہ آزاد معیشت سے تعلق رکھنے والے بیش تر معاشی دانشور اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ پاکستان کا معاشی بحران غیر معمولی صورتحال سے دوچار ہے۔ اس بحران سے نبٹنے کے لیے ہمیں بہت بڑے پیمانے پر سیاسی، انتظامی اور معاشی ڈھانچوں میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں لانی ہوں گی اور کچھ کڑوی گولیاں کھانی پڑیں گی۔ لیکن پاکستان کا حکمران یا طاقتور طبقہ بڑے فیصلے کرنے سے قاصر ہیں اور اسے لگتا ہے کہ بڑے فیصلوں سے ان کے معاشی مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ حکمران طبقہ بار بار غیر ملکی سرمایہ کاری کی نوید سناتا ہے لیکن جو سرکاری اعداد و شمار ہیں ان کے مطابق نہ تو ملک یا غیر ملکی سرمایہ داروں کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری ہو رہی ہے اور نہ ہی کوئی یہاں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ جن لوگوں کا شمار بڑے کاروباری شخصیات میں ہوتا ہے وہ بھی اب اپنے ملک میں کاروبار کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یہ لوگ بھی بڑی تیزی سے اپنا سرمایہ اور کاروبار پاکستان سے باہر منتقل کر رہے ہیں۔ بعض بڑے صنعت کاروں نے تو یہاں تک کہا ہے کہ پاکستان میں ایف بی آر کی موجودگی میں کوئی فرد کاروبار نہیں کر سکتا اور اگر کاروبار کرنا ہے تو اسے کرپشن اور بدعنوانی کا حصہ بننا پڑے گا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کا کاروباری طبقہ کسی بھی طور پر حکمرانوں پر اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں ہے اور اسی لیے وہ کاروبار میں پیش آنے والی مشکلات کا ذکر فوجی قیادت کے ساتھ کرتا ہے۔ ان کا فوجی قیادت سے مطالبہ ہوتا ہے کہ اگر ملک کی معیشت کو درست کرنا ہے تو آپ کو نظام کی اصلاح کرنی ہوگی اور ہمیں حکمران طبقوں پر کوئی اعتبار نہیں ہے۔ آئی ایم ایف بار بار ہم سے یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ اگر ہم نے معیشت میں بنیادی نوعیت کے فیصلے نہ کیے تو پاکستان کی معیشت بہتر نہیں ہو سکے گی۔ اسی طرح بہت سے عالمی تھنک ٹینک بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ جب تک پاکستان معاشی اصلاحات کے ساتھ ساتھ داخلی استحکام پیدا نہیں کرے گا اس وقت تک معیشت کی بہتری کا کوئی امکان نہیں۔ پاکستان کا حکمران طبقہ اصلاحات کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس کا بڑا نتیجہ بری معیشت کے تناظر میں ہمیں دیکھنے کو مل رہا ہے۔ آمدنی اور اخراجات میں جو عدم توازن پیدا ہوا ہے اس نے عام لوگوں یا کمزور طبقات کے ساتھ ساتھ مڈل کلاس پڑھی لکھی آبادی کو بھی شدید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔اب یہ خبر عام ہے کہ حکومت کی معاشی ٹیم معاشی اہداف کو حاصل کرنے میں بری طرح سے ناکام ہو چکی ہے۔ اس لیے یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ ہمیں فوری طور پر معاشی ٹیم کو تبدیل کر کے نئی معاشی ٹیم کا انتخاب کرنا ہوگا۔ اصل مسئلہ معاشی ٹیم کا نہیں ہے بلکہ ان سیاسی فیصلوں کا ہے جو اس وقت ریاست اور حکومتی سطح پر ہو رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں سیاسی، معاشی اور سیکورٹی کا نظام بری طرح سے متاثر ہو رہا ہے۔ بنیادی طور پر ہمیں بحران کا سامنا ہے اور ہم بڑے مسائل سے نمٹنے کے بجائے سطحی نوعیت کے مسائل میں الجھ کر رہ گئے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس سنگین معاشی دلدل میں حکمران و طاقتور طبقات کی عیاشیاں زوروں پر ہیں۔ بڑے بڑے خاندانوں کی اولادوں کی جو شادیاں ہو رہی ہیں ان میں سرکاری وسائل کو بھی بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے لیکن کوئی ان کو پوچھنے والا نہیں ہے۔ اگرچہ مسلم لیگ ن کی حکومت خراب معیشت کی ذمے داری کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے اور وہ اس بیمار معیشت کا سارا ملبہ سابقہ پی ٹی آئی حکومت پر ڈالتی ہے۔ لیکن یہ طرز عمل کوئی نیا نہیں ہے بلکہ ماضی میں بھی ہم نے تمام حکومتوں کو دیکھا ہے کہ وہ اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے کے بجائے دوسروں پر ملبہ ڈال کر خود بچانے کی کوشش کرتی ہیں۔ لیکن لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ معیشت کی بدحالی کا ذمے دار کون ہے۔ معیشت کی بہتری کے دعوے اپنی جگہ لیکن اصل سوال عام اور کمزور طبقات کی معیشت کا ہے اور جب تک ان کی معیشت بہتر نہیں ہوگی یا ان کے معاشی مسائل حل نہیں ہوں گے اس وقت تک معاشی ترقی کے تمام تر دعوے جذباتیت پر مبنی ہوں گے۔ اس وقت بھی ہمیں حکومتی سطح پر کوئی ایسا معاشی روڈ میپ دیکھنے کو نہیں مل رہا یا ہمیں دکھایا نہیں گیا ہے جو ہمیں اس بات پر قائل کر سکے کہ موجودہ حکمران اگلے چند برسوں میں معیشت کو بہتر کر دیں گے۔ جب ہمارے پاس معیشت کی بہتری کا لانگ ٹرم مڈ ٹرم اور شارٹ ٹرم منصوبہ ہی نہیں ہوگا اور اس پر ملک کے تمام معاشی ماہرین کا اتفاق بھی نہ ہو تو ایسے میں معیشت کی بہتری کے دعوے بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اس حکومت کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ اس نے ملک میں سیاسی استحکام پیدا کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ وہ سب اچھا کی پالیسی کے تحت چل رہے ہیں اور جب ان کی حکومت چل رہی ہے تو ان کو لگتا ہے کہ سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے۔ جو لوگ حکومت کی سیاسی اور معاشی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہیں ان کو سیاسی اور معاشی دہشت گرد یا ریاست دشمن کا خطاب مل جاتا ہے۔ ایسے میں کون سا بڑا سیاسی اتفاق رائے پیدا ہو سکتا ہے خود ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ پاکستان کی معیشت اس وقت صرف بیمار نہیں ہے بلکہ عام آدمی کے لیے بڑی تیزی سے سکڑتی جا رہی ہے۔ ایسے میں عام آدمی کا ریاست سے تعلق کمزور ہو رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ طاقتور طبقے کی معیشت طاقتور ہے اور کمزور طبقے کی معیشت کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ اسی لیے پاکستان سے پڑھے لکھے نوجوانوں کی بڑی تعداد ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گئی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ ملک چھوڑنے والے لوگوں میں انجینئرز اور ڈاکٹر شامل ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ موجودہ حالات میں محض تنقید برائے تنقید مسئلے کا حل نہیں ہے اور نہ ہی حکمرانوں کو گالیاں دے کر معیشت درست ہو سکتی ہے۔ اصل میں تو حکومت کو اپنی ترجیحات تبدیل کرنی ہوگی اور ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جو معاشی میدان میں غیر معمولی مثبت تبدیلیوں کو سامنے لا سکے۔ لیکن جب اس ملک کا حکمران طبقہ خود کاروبار کر رہا ہوگا اور اس کے معاشی مفادات بھی ہوں گے تو ایسے میں وہ ریاست اور عام آدمی کے بارے میں کیوں کر سوچے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری ریاست یا حکمرانی کا نظام کمزور بنیادوں پر کھڑا ہوا ہے۔ لوگوں کو لگتا ہے کہ اس نظام میں ہمارے لیے بہتری کا کوئی پہلو نہیں ہے۔ اسی لیے لوگ ریاست اور حکومت سے لا تعلق ہوتے جا رہے ہیں اور ان میں غیر یقینی کیفیت کا پیدا ہونا فطری امر ہے۔ یہ سوچ و فکر لوگوں کو بغاوت کی طرف بھی مائل کرتی ہے اور اگر ہم نے معاشی درستی کے حوالے سے جلد کوئی بڑے فیصلے نہ کیے یا اس میں کوئی بہتری پیدا نہ کی تو معیشت کی یہ جنگ خود حکمران طبقات کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ اس لیے اب بھی وقت ہے اس ملک کے طاقتور طبقات کو اپنی معیشت کے مقابلے میں عام آدمی کی معیشت پر یا اس کی بہتری پر توجہ دینی ہوگی۔ کیونکہ جس تیزی سے ان لوگوں میں رد عمل پیدا ہو رہا ہے یہ خاموش انقلاب ہے اور اگر یہ انقلاب لوگوں کو بغاوت پر مجبور کر دے تو اس سے خود حکمرانوں کے سیاسی مفادات کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

اداریہ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کرنے کے لیے تیار نہیں کے لیے تیار نہیں ہے معیشت کی بہتری رہے ہیں اور پاکستان کا معاشی ٹیم ہیں اور ا ایسے میں کے معاشی کی معیشت نہیں ہو پیدا ہو اور اس رہا ہے ہے اور ہیں کہ ہوں گے رہی ہے

پڑھیں:

وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت سرمایہ کاری میں اضافہ اور معیشت کی مجموعی ترقی کے لئے شعبہ جاتی اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر جائزہ اجلاس ہوا۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لئے صنعت وحرفت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ صنعتی مصنوعات کی ملکی پیداور اضافے کے ساتھ ساتھ برآمدات بڑھانے کے لیے موٴثر پالیسی اقدامات حکومتی ترجیحات کا حصہ ہیں، صنعت و تجارت اور معیشت کے مختلف شعبہ جات میں اصلاحات کا مقصد طویل المدتی معاشی افادیت اور عوامی فلاح ہونا چاہئے۔ 

ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار

وزیراعظم نے کہا کہ مستقبل کی توانائی کی ضروریات کو متبادل توانائی کے ذرائع سے پورا کرنے کے لیے جامع حکمت عملی پر بھرپور انداز میں کام ہو رہا ہے، توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے جامع اور موثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کی مختلف شعبوں میں شمولیت کے لئے تمام وزارتیں اور ماہرین کی بامعنی مشاورت کو یقینی بنائیں، موثر ترقیاتی پالیسیز کی تشکیل و نفاذ کے لیۓ تمام وزراتیں باہمی تعاون اور ہم آہنگی سے کام کریں، تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اور بہترین کارکردگی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر

اجلاس میں متعلقہ وزارتوں کی جانب سی مختلف زیر غور پالیسی تجاویز پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر پاور ڈیویژن سردار اویس لغاری، وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، کے معاون خصوصی ہارون اختر اور ڈائریکٹر جنرل ایس آئی ایف سی میجر جنرل اسد الرحمن چیمہ اور متعلقہ اداروں کے عہدے داران نے شرکت کی۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ