کمزور طبقات کے معاشی چیلنجز
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان کے حکومتی معاشی ماہرین کا یہ دعویٰ ہے کہ اس وقت معیشت بہت بہتری کی طرف جا رہی ہے۔ لیکن پاکستان میں کوئی بھی سیاست اور معیشت کی سمجھ بوجھ رکھنے والا فرد یا ادارہ حکومت کی جانب سے معاشی بہتری کے دعوئوں کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ان کے بقول حکمران طبقات ماضی میں بھی قوم کو گمراہ کرتے رہے ہیں اور آج کے حکمران بھی قوم کو معاشی ترقی کے نام پر گمراہ کر رہے ہیں۔ کیونکہ آزاد معیشت سے تعلق رکھنے والے بیش تر معاشی دانشور اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ پاکستان کا معاشی بحران غیر معمولی صورتحال سے دوچار ہے۔ اس بحران سے نبٹنے کے لیے ہمیں بہت بڑے پیمانے پر سیاسی، انتظامی اور معاشی ڈھانچوں میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں لانی ہوں گی اور کچھ کڑوی گولیاں کھانی پڑیں گی۔ لیکن پاکستان کا حکمران یا طاقتور طبقہ بڑے فیصلے کرنے سے قاصر ہیں اور اسے لگتا ہے کہ بڑے فیصلوں سے ان کے معاشی مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ حکمران طبقہ بار بار غیر ملکی سرمایہ کاری کی نوید سناتا ہے لیکن جو سرکاری اعداد و شمار ہیں ان کے مطابق نہ تو ملک یا غیر ملکی سرمایہ داروں کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری ہو رہی ہے اور نہ ہی کوئی یہاں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ جن لوگوں کا شمار بڑے کاروباری شخصیات میں ہوتا ہے وہ بھی اب اپنے ملک میں کاروبار کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یہ لوگ بھی بڑی تیزی سے اپنا سرمایہ اور کاروبار پاکستان سے باہر منتقل کر رہے ہیں۔ بعض بڑے صنعت کاروں نے تو یہاں تک کہا ہے کہ پاکستان میں ایف بی آر کی موجودگی میں کوئی فرد کاروبار نہیں کر سکتا اور اگر کاروبار کرنا ہے تو اسے کرپشن اور بدعنوانی کا حصہ بننا پڑے گا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کا کاروباری طبقہ کسی بھی طور پر حکمرانوں پر اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں ہے اور اسی لیے وہ کاروبار میں پیش آنے والی مشکلات کا ذکر فوجی قیادت کے ساتھ کرتا ہے۔ ان کا فوجی قیادت سے مطالبہ ہوتا ہے کہ اگر ملک کی معیشت کو درست کرنا ہے تو آپ کو نظام کی اصلاح کرنی ہوگی اور ہمیں حکمران طبقوں پر کوئی اعتبار نہیں ہے۔ آئی ایم ایف بار بار ہم سے یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ اگر ہم نے معیشت میں بنیادی نوعیت کے فیصلے نہ کیے تو پاکستان کی معیشت بہتر نہیں ہو سکے گی۔ اسی طرح بہت سے عالمی تھنک ٹینک بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ جب تک پاکستان معاشی اصلاحات کے ساتھ ساتھ داخلی استحکام پیدا نہیں کرے گا اس وقت تک معیشت کی بہتری کا کوئی امکان نہیں۔ پاکستان کا حکمران طبقہ اصلاحات کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس کا بڑا نتیجہ بری معیشت کے تناظر میں ہمیں دیکھنے کو مل رہا ہے۔ آمدنی اور اخراجات میں جو عدم توازن پیدا ہوا ہے اس نے عام لوگوں یا کمزور طبقات کے ساتھ ساتھ مڈل کلاس پڑھی لکھی آبادی کو بھی شدید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔اب یہ خبر عام ہے کہ حکومت کی معاشی ٹیم معاشی اہداف کو حاصل کرنے میں بری طرح سے ناکام ہو چکی ہے۔ اس لیے یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ ہمیں فوری طور پر معاشی ٹیم کو تبدیل کر کے نئی معاشی ٹیم کا انتخاب کرنا ہوگا۔ اصل مسئلہ معاشی ٹیم کا نہیں ہے بلکہ ان سیاسی فیصلوں کا ہے جو اس وقت ریاست اور حکومتی سطح پر ہو رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں سیاسی، معاشی اور سیکورٹی کا نظام بری طرح سے متاثر ہو رہا ہے۔ بنیادی طور پر ہمیں بحران کا سامنا ہے اور ہم بڑے مسائل سے نمٹنے کے بجائے سطحی نوعیت کے مسائل میں الجھ کر رہ گئے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس سنگین معاشی دلدل میں حکمران و طاقتور طبقات کی عیاشیاں زوروں پر ہیں۔ بڑے بڑے خاندانوں کی اولادوں کی جو شادیاں ہو رہی ہیں ان میں سرکاری وسائل کو بھی بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے لیکن کوئی ان کو پوچھنے والا نہیں ہے۔ اگرچہ مسلم لیگ ن کی حکومت خراب معیشت کی ذمے داری کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے اور وہ اس بیمار معیشت کا سارا ملبہ سابقہ پی ٹی آئی حکومت پر ڈالتی ہے۔ لیکن یہ طرز عمل کوئی نیا نہیں ہے بلکہ ماضی میں بھی ہم نے تمام حکومتوں کو دیکھا ہے کہ وہ اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے کے بجائے دوسروں پر ملبہ ڈال کر خود بچانے کی کوشش کرتی ہیں۔ لیکن لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ معیشت کی بدحالی کا ذمے دار کون ہے۔ معیشت کی بہتری کے دعوے اپنی جگہ لیکن اصل سوال عام اور کمزور طبقات کی معیشت کا ہے اور جب تک ان کی معیشت بہتر نہیں ہوگی یا ان کے معاشی مسائل حل نہیں ہوں گے اس وقت تک معاشی ترقی کے تمام تر دعوے جذباتیت پر مبنی ہوں گے۔ اس وقت بھی ہمیں حکومتی سطح پر کوئی ایسا معاشی روڈ میپ دیکھنے کو نہیں مل رہا یا ہمیں دکھایا نہیں گیا ہے جو ہمیں اس بات پر قائل کر سکے کہ موجودہ حکمران اگلے چند برسوں میں معیشت کو بہتر کر دیں گے۔ جب ہمارے پاس معیشت کی بہتری کا لانگ ٹرم مڈ ٹرم اور شارٹ ٹرم منصوبہ ہی نہیں ہوگا اور اس پر ملک کے تمام معاشی ماہرین کا اتفاق بھی نہ ہو تو ایسے میں معیشت کی بہتری کے دعوے بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اس حکومت کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ اس نے ملک میں سیاسی استحکام پیدا کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ وہ سب اچھا کی پالیسی کے تحت چل رہے ہیں اور جب ان کی حکومت چل رہی ہے تو ان کو لگتا ہے کہ سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے۔ جو لوگ حکومت کی سیاسی اور معاشی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہیں ان کو سیاسی اور معاشی دہشت گرد یا ریاست دشمن کا خطاب مل جاتا ہے۔ ایسے میں کون سا بڑا سیاسی اتفاق رائے پیدا ہو سکتا ہے خود ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ پاکستان کی معیشت اس وقت صرف بیمار نہیں ہے بلکہ عام آدمی کے لیے بڑی تیزی سے سکڑتی جا رہی ہے۔ ایسے میں عام آدمی کا ریاست سے تعلق کمزور ہو رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ طاقتور طبقے کی معیشت طاقتور ہے اور کمزور طبقے کی معیشت کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ اسی لیے پاکستان سے پڑھے لکھے نوجوانوں کی بڑی تعداد ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گئی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ ملک چھوڑنے والے لوگوں میں انجینئرز اور ڈاکٹر شامل ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ موجودہ حالات میں محض تنقید برائے تنقید مسئلے کا حل نہیں ہے اور نہ ہی حکمرانوں کو گالیاں دے کر معیشت درست ہو سکتی ہے۔ اصل میں تو حکومت کو اپنی ترجیحات تبدیل کرنی ہوگی اور ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جو معاشی میدان میں غیر معمولی مثبت تبدیلیوں کو سامنے لا سکے۔ لیکن جب اس ملک کا حکمران طبقہ خود کاروبار کر رہا ہوگا اور اس کے معاشی مفادات بھی ہوں گے تو ایسے میں وہ ریاست اور عام آدمی کے بارے میں کیوں کر سوچے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری ریاست یا حکمرانی کا نظام کمزور بنیادوں پر کھڑا ہوا ہے۔ لوگوں کو لگتا ہے کہ اس نظام میں ہمارے لیے بہتری کا کوئی پہلو نہیں ہے۔ اسی لیے لوگ ریاست اور حکومت سے لا تعلق ہوتے جا رہے ہیں اور ان میں غیر یقینی کیفیت کا پیدا ہونا فطری امر ہے۔ یہ سوچ و فکر لوگوں کو بغاوت کی طرف بھی مائل کرتی ہے اور اگر ہم نے معاشی درستی کے حوالے سے جلد کوئی بڑے فیصلے نہ کیے یا اس میں کوئی بہتری پیدا نہ کی تو معیشت کی یہ جنگ خود حکمران طبقات کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ اس لیے اب بھی وقت ہے اس ملک کے طاقتور طبقات کو اپنی معیشت کے مقابلے میں عام آدمی کی معیشت پر یا اس کی بہتری پر توجہ دینی ہوگی۔ کیونکہ جس تیزی سے ان لوگوں میں رد عمل پیدا ہو رہا ہے یہ خاموش انقلاب ہے اور اگر یہ انقلاب لوگوں کو بغاوت پر مجبور کر دے تو اس سے خود حکمرانوں کے سیاسی مفادات کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کرنے کے لیے تیار نہیں کے لیے تیار نہیں ہے معیشت کی بہتری رہے ہیں اور پاکستان کا معاشی ٹیم ہیں اور ا ایسے میں کے معاشی کی معیشت نہیں ہو پیدا ہو اور اس رہا ہے ہے اور ہیں کہ ہوں گے رہی ہے
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس