امریکا پوری دنیا کا معاشی انجن، یورپی ممالک اصلاحات پر توجہ دیں: ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
امریکا پوری دنیا کا معاشی انجن، یورپی ممالک اصلاحات پر توجہ دیں: ٹرمپ WhatsAppFacebookTwitter 0 21 January, 2026 سب نیوز
ڈیوس (آئی پی ایس )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا پوری دنیا کا معاشی انجن ہے، مجھے یورپ سے پیار ہے مگر وہ سیدھے راستے پر نہیں چل رہا، یورپی ممالک امریکا کی طرح اقتصادی اصلاحات کریں۔ڈیوس میں عالمی اقتصادی فورم سے خطاب میں امریکی صدر نے کہا کہ یورپ میں کچھ جگہیں اب قابل شناخت نہیں رہیں، عوامی ہجرت نے یورپ کو نقصان پہنچایا ہے، سبز توانائی پر توجہ ہے، ہم مہنگائی کو ختم کرنے میں کامیاب رہے، میری صدارت میں امریکی معیشت ترقی کررہی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا نے تاریخ میں اتنی معاشی ترقی نہیں دیکھی جتنی اب ہو رہی ہے، امریکا پوری دنیا کا معاشی انجن ہے، ہم وینز ویلا کی مدد کر رہے ہیں، اب وہ بہت شاندار جا رہا ہے، مستقبل میں زیادہ کمائی کرے گا کیونکہ ہر بڑی آئل کمپنی امریکا کے ساتھ وہاں جارہی ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ یورپی ملک اصلاحات پر توجہ دیں، امریکا ترقی کرتا ہے تو دنیا ترقی کرتی ہے، میرے دور میں امریکی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے، بائیں بازو والوں کی وجہ سے یورپی توانائی تباہ کن سطح پر پہنچ چکی ہے، امریکا میں منہگائی کی شرح میں کمی آئی ہے،ٹیرف کی پالیسی نے امریکا کو ترقی کی جانب گامزن کیا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا سے بہتر گرین لینڈ کی کوئی حفاظت نہیں کرسکتا، میں وہاں گولڈن ڈوم بنانا چاہتا ہوں، دوسری جنگ عظیم کے بعد گرین لینڈ خالی کرنا بے وقوفی تھی، اسے واپس ہی نہیں کرنا چاہیے تھا، نیٹو میں شامل ممالک کو اپنا دفاع مضبوط بنانا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ گرین لینڈ پر قبضے کے لیے طاقت استعمال نہیں کرنا چاہتا، 200 سال سے اسے خریدنے کی کوشش کر رہے ہیں، یہ خطہ امریکی سیکیورٹی کیلیے ضروری ہے، نیٹو میں امریکا کے سوا کوئی ملک گرین لینڈ کا دفاع نہیں کرسکتا، نیٹو کیلیے جو کچھ کیا اس کے بدلے گرین لینڈ مانگنا معمولی بات ہے۔امریکی صدر نے کہا کہ 8 جنگیں رکوائیں، پاک بھارت جنگ بھی رکوائی، آئس لینڈ کے لوگ مجھے بہت پسند کرتے ہیں۔دوران تقریر امریکی صدر نے فیڈرل ریزرو کے چیئرمین جیروم پاویل کو ہٹانے کا اشارہ دیا اور کہا کہ موجودہ چیئرمین بے وقوف ہے بہت جلد ہی نیا چیئرمین لاوں گا، یوکرین اور روسی صدر ڈیل کرنا چاہتے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرغزہ بورڈ آف پیس کی دستخطی تقریب؛ ترکیہ بھی شرکت کیلیے رضامند غزہ بورڈ آف پیس کی دستخطی تقریب؛ ترکیہ بھی شرکت کیلیے رضامند طالبان کی شاہ خرچیاں، بجٹ کا 88 فیصد غیرترقیاتی کاموں پراڑا دیا پلیٹ فارم سے امن کے لیے عملی پیش رفت کی امید ,پاکستان ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شامل سی ڈی اے کا ہائوسنگ سوسائٹیز سے ریکوری کا فیصلہ، گلبرگ،بحریہ ٹائون،الحمراء ایونیو،اوور سیز پاکستان فائونڈیشن ہائوسنگ سوسائٹی کو نوٹسز جاری،تفصیلات سب نیوز پر سپریم لیڈر پر حملہ پوری اسلامی دنیا کے خلاف جنگ تصور کیا جائے گا، ایران بلدیاتی الیکشن ، صدارتی آرڈیننس، التوا کیخلاف درخواست پر جواب طلبCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: امریکا پوری دنیا کا معاشی انجن پر توجہ
پڑھیں:
امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان
امریکی کانگریس میں زیرِ غور ایک نئی دفاعی تجویز امریکا اور اسرائیل کے عسکری تعلقات کو غیرمعمولی حد تک مضبوط بنا سکتی ہے۔ اگر یہ شق قانون بن گئی تو دونوں ممالک نہ صرف اسلحہ سازی، تحقیق اور دفاعی ٹیکنالوجی میں مشترکہ طور پر کام کریں گے بلکہ ان کی دفاعی صنعتیں اور عسکری نظام پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے سے جڑ جائیں گے، جسے ماہرین امریکا اسرائیل تعلقات میں ایک تاریخی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔
امریکی کانگریس میں پیش کیے گئے دفاعی بجٹ بل کی ایک اہم شق امریکا اور اسرائیل کے درمیان فوجی اور دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے کی راہ ہموار کر رہی ہے، جس کے تحت دونوں ممالک اسلحہ سازی، دفاعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور عسکری نظاموں کے انضمام میں پہلے سے کہیں زیادہ قریبی شراکت داری قائم کر سکیں گے۔
’امریکا اسرائیل دفاعی ٹیکنالوجی تعاون اقدام‘ کے عنوان سے یہ تجویز مالی سال 2027 کے نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ (این ڈی اے اے) میں شامل کی گئی ہے، جو ہر سال امریکی دفاعی پالیسی، عسکری پروگراموں اور دفاعی اخراجات کے تعین کے لیے منظور کیا جاتا ہے۔ یہ تجویز ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے مسودے میں سیکشن 224 کے طور پر شامل ہے۔
اگر یہ شق حتمی طور پر قانون بن جاتی ہے تو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات محض امریکی فوجی امداد تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دونوں ممالک کی دفاعی صنعتیں اور عسکری ڈھانچے گہرے طور پر ایک دوسرے سے منسلک ہو جائیں گے۔
مجوزہ قانون کے مطابق امریکی وزیر دفاع کو ایک خصوصی ’ایگزیکٹو ایجنٹ‘ مقرر کرنا ہوگا جو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تمام فوجی تعاون کی نگرانی اور رابطہ کاری کا ذمہ دار ہوگا۔ اس کے دائرۂ کار میں مشترکہ تحقیق و ترقی، اسلحے کی مشترکہ تیاری، دفاعی نظاموں کا باہمی انضمام اور عسکری معلومات و ڈیٹا کا تبادلہ شامل ہوگا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے سابق عہدیدار اور ’اے نیو پالیسی‘ نامی تنظیم کے بانی جوش پال نے اس تجویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اب ایسے طریقے تلاش کر رہی ہے جن کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو امریکی دفاعی صنعتی ڈھانچے میں اس قدر گہرائی تک شامل کر دیا جائے کہ مستقبل میں انہیں الگ کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ مجوزہ قانون اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی فراہم کرے گا اور امریکی فوج کو اسرائیلی دفاعی نظام اپنی اہم عسکری سپلائی چین میں شامل کرنے کا پابند بنا دے گا، جس سے اسرائیل کو امریکی دفاعی ترجیحات پر بھی نمایاں اثر و رسوخ حاصل ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ کا غزہ فنڈ خالی، اربوں دینے کا وعدہ کرنے والے ایک ڈالر بھی دینے کو تیار نہیں
امریکا اور اسرائیل اس وقت بھی مشترکہ طور پر کئی دفاعی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، جن میں ’آئرن ڈوم‘ میزائل دفاعی نظام نمایاں ہے۔ تاہم نئی تجویز اس تعاون کو مصنوعی ذہانت (AI)، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر آپریشنز اور جدید جنگی نظاموں سمیت کئی نئے شعبوں تک وسعت دے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ شدید کشیدگی کا شکار ہے۔ رواں سال فروری میں امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کی تھی، جس کے بعد تقریباً پانچ ہفتوں تک جاری رہنے والی جنگ میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی خطے میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ بعد ازاں اپریل میں جنگ بندی عمل میں آئی۔
دوسری جانب اسرائیل کو غزہ میں جاری جنگ کے باعث بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ جنوبی افریقہ نے اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں نسل کشی کا مقدمہ بھی دائر کر رکھا ہے۔
مجوزہ بل کو قانون بننے کے لیے پہلے ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی سے منظوری حاصل کرنا ہوگی، جس پر جون کے اوائل میں غور متوقع ہے۔ اس کے بعد اسے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں سے منظوری درکار ہوگی۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اس تجویز کو کمیٹی کے ریپبلکن چیئرمین مائیک راجرز اور سرکردہ ڈیموکریٹ رکن ایڈم اسمتھ نے مشترکہ طور پر پیش کیا ہے، جس کے باعث اسے دونوں بڑی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم حالیہ رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام، خصوصاً ڈیموکریٹس اور بعض ریپبلکن حلقوں میں اسرائیل کے لیے مزید فوجی حمایت کی مخالفت بڑھ رہی ہے۔
امریکا کئی دہائیوں سے اسرائیل کی فوجی معاونت کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے۔ 2008 سے امریکی قانون واشنگٹن کو اسرائیل کی ’معیاری عسکری برتری‘ برقرار رکھنے کا پابند بناتا ہے تاکہ خطے میں کوئی بھی حریف ملک عسکری اعتبار سے اس پر سبقت حاصل نہ کر سکے۔
سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں طے پانے والے موجودہ معاہدے کے تحت امریکا اسرائیل کو سالانہ تقریباً 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا ہے، جبکہ یہ دس سالہ معاہدہ 2028 تک نافذ العمل ہے۔
یہ بھی پڑھیے صدارت کے بعد وزارت عظمیٰ: اسرائیل میں بیحد مقبول ہوں، وزیراعظم کا انتخاب لڑوں گا، ڈونلڈ ٹرمپ کا ’عندیہ‘
1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے اب تک وہ امریکی غیرملکی امداد کا سب سے بڑا وصول کنندہ رہا ہے۔ افراطِ زر کو مدنظر رکھا جائے تو امریکا کی مجموعی امداد 300 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جس کا بڑا حصہ اب فوجی معاونت پر مشتمل ہے۔
تاہم اب اس تعلق کی نوعیت تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے حال ہی میں کہا تھا کہ ان کا ملک آئندہ دس برسوں میں امریکی فوجی امداد پر انحصار ختم کرنا چاہتا ہے کیونکہ اسرائیل اب ایک بالغ اور خودمختار عسکری قوت بن چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کی دفاعی صنعتوں کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون اور مشترکہ ٹیکنالوجی پروگرام اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتے ہیں، جن کے ذریعے مالی امداد کی جگہ صنعتی اور تکنیکی شراکت داری کو فروغ دیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو