غزہ بورڈ آف پیس کو اقوام متحدہ کا متبادل بنانے کا ارادہ نہیں: امریکی صدر ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ غزہ بورڈ آف پیس کو اقوام متحدہ کے متبادل کے طور پر قائم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، اور اقوام متحدہ کو اپنا کردار ادا کرتے رہنا چاہیے۔
عہدۂ صدارت کو ایک سال مکمل ہونے پر منعقدہ پریس کانفرنس میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ نیٹو کے لیے انہوں نے جتنا کام کیا، اتنا کسی اور صدر یا شخصیت نے نہیں کیا۔ ان کے مطابق اگر وہ نیٹو کے ساتھ کھڑے نہ ہوتے تو آج یہ اتحاد وجود میں نہ رہتا اور ماضی کا حصہ بن چکا ہوتا، چاہے یہ بات افسوسناک ہی کیوں نہ ہو۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ گرین لینڈ کے معاملے پر ایسا حل نکالا جائے گا جس سے نیٹو بھی مطمئن ہو اور امریکہ بھی۔
انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ غزہ بورڈ آف پیس کو اقوام متحدہ کا متبادل بنانے کی بات درست نہیں، اور اقوام متحدہ کو اپنا کام جاری رکھنے دینا چاہیے۔
اس موقع پر امریکی صدر نے پیرس میں ہونے والے جی سیون اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا بھی اعلان کیا۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انہیں سابق وینزویلا کے صدر نکولس مادورو سے جیل میں ملاقات میں کوئی دلچسپی نہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران صدر ٹرمپ نے پاک بھارت کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ کی صورت میں لاکھوں جانیں ضائع ہو سکتی تھیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے پاک بھارت جنگ رکوانے میں کردار ادا کیا، بصورت دیگر 10 سے 20 ملین افراد مارے جا سکتے تھے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے بھی کہا کہ آپ نے کروڑوں جانیں بچائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ کہا کہ
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔