Jasarat News:
2026-07-24@00:51:41 GMT

گل پلازہ: آتش زدگی، کراچی کے ساتھ سوتیلا سلوک کیوں؟

اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں 17 جنوری 2026 کی رات شدید آتشزدگی نے شہر کو ہلا کر رکھ دیا۔ چار منزلہ اس کمرشل عمارت میں آگ لگنے سے کم از کم 21 افراد جاں بحق ہوئے، درجنوں زخمی اور 75 سے زائد لاپتا ہو گئے، جن کی تلاش ابھی جاری ہے۔ ریسکیو 1122 اور ایدھی کی ٹیموں نے 26 فائر ٹینڈرز سے 24 گھنٹے کی جدوجہد کی، مگر عمارت کا بڑا حصہ منہدم ہو گیا۔ اصل میں 400 دکانوں کی جگہ پر 1200 سے زائد دکانیں بنائی گئی تھیں، جن میں پلاسٹک، کاسمیٹکس اور الیکٹرونکس کے سامان موجود تھے جو آگ میں شدت کا باعث بنے۔ کہا جاتا ہے کہ شارٹ سرکٹ سے شروع ہونے والی آگ تیزی سے پھیلی کیونکہ وینٹی لیشن ناکافی اور حفاظتی اقدامات غیر موجود تھے۔ یہ واقعہ کراچی کی کمرشل بلڈنگوں کی حفاظتی کمزوریوں کو عیاں کرتا ہے۔

دکانداروں کا بڑا نقصان: مالک کی خاموشی! دلچسپ بات یہ ہے کہ گل پلازہ کے مالک کا مالی نقصان تو ہوا، مگر اصل تباہی تو ان دکانداروں کی ہوئی جن کی زندگی بھر کی محنت آگ میں جل گئی۔ دکانداروں نے ہی سب سے زیادہ شور مچایا، احتجاج کیا اور حکومتی خاموشی پر سوال اٹھائے، جبکہ مالک نسبتاً خاموش رہے۔ ان دکانداروں کی دکانیں، سامان اور روزگار ختم ہو گیا، جبکہ مالک شاید انشورنس یا دیگر ذرائع سے بحال ہو جائیں گے۔ یہ صورتحال بالکل اسی طرح ہے جیسے سپریم کورٹ کے جسٹس گلزار نے نسلہ ٹاور گرانے کا حکم دیا۔ نسلہ ٹاور ناجائز نہیں بنا تھا، بلکہ یہ جسٹس گلزار کی انا کا شکار ہوا، جہاں عدالتی حکم ایک عمارت کے بجائے شہریوں کی زندگیوں کو نشانہ بنایا۔ کیا گل پلازہ بھی کسی اعلیٰ افسر یا جج کی انا کا شکار ہو رہا ہے؟ کیا اس کی تباہی محض اتفاقیہ ہے یا کسی طاقتور کی مرضی؟ یہ سوال اٹھانا ضروری ہے۔

کراچی میں بار بار آتش زدگیاں: نظام کی ناکامی؛ کراچی میں کمرشل بلڈنگوں میں آگ لگنے کے واقعات سلسلہ وار ہو رہے ہیں۔ 2008 اور 2016 میں گل پلازہ ہی میں آگ لگی تھی، ملینیئم مال جیسے گنجان آباد علاقوں میں بھی درجنوں واقعات رپورٹ ہوئے۔ ناقص وائرنگ، بلاک فائر ایگزٹس اور غیر فعال سموک ڈیٹیکٹرز ہر بار وجہ بنتے ہیں۔ سندھ ہائی کورٹ نے 2023 میں فائر سیفٹی قوانین نافذ کرنے کا حکم دیا، مگر کوئی پیش رفت نہ ہوئی۔ ان بلڈنگوں میں فائر ایکسٹنگوشرز ناکافی اور ناکارہ ہوتے ہیں، ایمرجنسی ایگزٹس بند اور کوئی ڈرل نہیں ہوتیں۔ گل پلازہ کی طرح پرانی عمارتیں اوور لوڈ ہوتی جاتی ہیں، مگر انسپیکشن کا فقدان ہے۔ یہ ناکامی صرف حادثاتی نہیں، انتظامی ہے۔

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی: سوال بڑھ رہے ہیں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) بلڈنگ پلانز کی منظوری، فائر سیفٹی چیکس اور خطرناک عمارتوں کی نشاندہی کی ذمے دار ہے۔ کراچی بلڈنگ ریگولیشن 2002 اور فائر سیفٹی کوڈ 2016 کے تحت باقاعدہ انسپیکشن لازمی ہیں، جیسے فائر ایگزٹس، الارمز اور اسٹرکچرل سیفٹی۔ پرفارمنس آڈٹ سے ثابت ہے کہ ایس بی سی اے 596 غیر قانونی کیسز میں خاموش رہی، صرف 2024 میں 1500 عمارتوں پر دعویٰ ایکشن کا ہے مگر گل پلازہ جیسی مثالیں ناکامی دکھاتی ہیں۔ فائر ڈیپارٹمنٹ اور بلڈنگ کنٹرول چیک کیوں نہیں کرتے؟ ان کی کارکردگی کاغذوں تک محدود ہے، جہاں رشوت اور غفلت عام ہے۔ وزیر اعلیٰ نے آگ کے بعد آڈٹ کا حکم دیا، مگر ماضی کے احکامات فائلوں میں بند ہو کر رہ گئے۔

معاشی استحصال: ٹیکس، بجلی اور قبضے؛ کراچی پاکستان کی معیشت کا انجن ہے، FY24 میں FBR ریونیو کا 46 فی صد (4253 ارب روپے) ادا کیا، جو بعض دعوؤں میں 80 فی صد تک ہے۔ اس کے باوجود شہر غیر محفوظ ہے، جہاں بجلی مہنگی ترین: صنعت کے لیے بجلی 13 سینٹ فی یونٹ، ہمسایہ ممالک سے دگنی۔ نیپرا کا Rs4.

03 تخفیف معمولی ہے، ڈومیسٹک بلوں پر Rs47 فی یونٹ اور ٹیکس کاروبار تباہ کر رہے۔ پیداواری لاگت کم کرنے کو بجلی سستی اور ٹیکس فری ہونی چاہیے۔ قیمتی زمینوں پر قبضے مافیا کرتے ہیں، کے پی ٹی نے 50 ایکڑ (36 ارب) واپس لیے مگر مسئلہ برقرار ہے۔ یہ سب کاروبار ختم کرنے اور قبضے کی سازش ہے۔

سوتیلا سلوک: حکومتیں جواب دیں! کراچی جو اتنا ٹیکس دیتا ہے، اسے یہ سلوک کیوں؟ وفاق، سندھ حکومت اور کراچی بلدیہ سے سوال: فائر چیکس کیوں نہیں؟ نسلہ ٹاور کی طرح کیا گل پلازہ بھی انا کا شکار؟ دکانداروں کا نقصان دیکھ کر خاموشی کیوں؟ بجلی مہنگی رکھ کر تباہی اور قبضوں کی اجازت کیوں؟ حکومتیں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو متحرک کریں، بجلی سستی کریں، انکروچمنٹ ختم کریں۔ ورنہ عوام کا غم و غصہ بھڑک اٹھے گا۔ کراچی کا مطالبہ ہے: انصاف اور تحفظ!

وجیہ احمد صدیقی سیف اللہ

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بلڈنگ کنٹرول گل پلازہ

پڑھیں:

پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ تحریک انصاف کے بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے۔

جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں بات کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے تحریک انصاف کے فارم 47 والے بیانیے کو مانا ہے اس کے بعد پیپلز پارٹی کو چاہیے کہ وہ تمام عہدوں سے استعفے دے اور ہمارے ساتھ اپوزیشن میں بیٹھے۔

پروگرام میں شریک پیپلز پارٹی کے رہنما سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ہم مسلم لیگ ن کے ساتھ پاکستان کی خاطر حکومت میں بیٹھے ہیں۔

 ن لیگ کے بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ پیپلز پارٹی ان کے ساتھ ہی رہے گی اور اسی تنخواہ پر دونوں ایک دوسرے کے ساتھ چلتے رہيں گے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران