کارٹل بنانے پر 20 کروڑ روپے جرمانہ برقرار ‘ بینکوں کی اپیلیں مسترد
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (کامرس رپورٹر) کمپٹیشن اپیلیٹ ٹربیونل نے 7بڑے بینکوں اور پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن کی کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے عائد جرمانے کے خلاف دائر اپیلیں مسترد کر دیں ہیں۔ ٹربیونل نے کمپٹیشن کمیشن کے بینکوں کے کارٹل تشکیل دینے پر عائد کیے گئے 20 کروڑ روپے جرمانے کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے کمیشن کے فیصلے کی تو ثیق کی ہے۔ واضح رہے کہ یہ کمپٹیشن کمیشن کے خلاف طویل ترین زیر التوا کیس تھا۔ کمپٹیشن کمیشن نے اپریل 2008 میں پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن اور 7بڑے بینکوں پر اینہانسڈ سیونگز اکائونٹ کے مارک اپ ریٹ مل کر فکس کرنے پر کارٹل تشکیل دینے کا مرتکب قرار دیا تھا۔ کمیشن نے قرار دیا تھا کہ اس مربوط اقدام سے بینک ڈپازٹرز کے مناسب نہیں تھا۔ کارٹل تشکیل دینے پر کمپٹیشن کمیشن نے پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن پر 3کروڑ روپے جبکہ حبیب بینک لمیٹڈ، الائیڈ بینک لمیٹڈ، ایم سی بی بینک لمیٹڈ، یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ، سعودی پاک بینک لمیٹڈ، اٹلس بینک لمیٹڈ اور نیشنل بینک لمیٹڈ، ہر ایک بینک پر ڈھائی کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا تھا۔ تفصیلی دلائل سننے کے بعد ٹربیونل نے مختصر حکم کے ذریعے تمام اپیلیں مسترد کر دیں اور جرمانوں کو برقرار رکھا۔ یہ کیس کمیشن کے قیام کے بعد اس کا پہلا انفورسمنٹ ایکشن تھا اور طویل عرصے سے زیر التوا تھا۔ اس موقع پر کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر سدھو نے کہا کہ یہ فیصلہ اس اصول کی توثیق ہے کہ انصاف میں تاخیر تو ہو سکتی ہے مگر اس سے بچا نہیں جا سکتا، اور کوئی بھی ادارہ اپنے غیر مسابقتی طرزِ عمل پر ہمیشہ کے لیے بھاگ نہیں سکتا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کمپٹیشن کمیشن بینک لمیٹڈ کمیشن کے
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔