تولیدی صحت کی تعلیم نصاب میں شامل کی جائے گی، پاکستان سینیٹ نے بل پاس کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
سینیٹ نے قومی نصاب میں تولیدی صحت (ری پروڈکٹیو ہیلتھ) کی تعلیم شامل کرنے سے متعلق بل منظور کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: جنسی و تولیدی صحت تک عام رسائی کیوں ضروری ہے؟
نئے قانون کے تحت 14 سال اور اس سے زائد عمر کے طلبہ کو اسکولوں میں تولیدی صحت کے بارے میں منظم اور باقاعدہ تعلیم دی جائے گی۔
بل کے مطابق تولیدی صحت کی تعلیم میں جسمانی، ذہنی اور سماجی صحت سے متعلق آگاہی شامل ہوگی تاکہ طلبہ کو اپنی مجموعی صحت اور فلاح و بہبود کے حوالے سے بہتر سمجھ فراہم کی جا سکے۔
نئے قانون کے تحت اسکولوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ طلبہ کو تولیدی صحت سے متعلق کوئی بھی تعلیم فراہم کرنے سے قبل والدین کی تحریری رضامندی حاصل کریں۔
علاوہ ازیں نصاب کی تیاری کے دوران درسی کتب میں عمر کے لحاظ سے مناسب اور محتاط مواد شامل کرنا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان میں سالانہ ہزاروں مائیں اور لاکھوں بچے کیوں مر رہے ہیں؟
ارکان پارلیمنٹ نے اس اقدام کو نوجوانوں میں آگاہی بڑھانے، ذمہ دارانہ رویے کو فروغ دینے اور ان کی مجموعی صحت و فلاح کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔
بل میں واضح کیا گیا ہے کہ تولیدی صحت کی تعلیم میں جسمانی، ذہنی اور سماجی صحت سے متعلق آگاہی فراہم کی جائے گی تاکہ طلبہ کی مجموعی بہبود کو یقینی بنایا جا سکے۔
قانون کے تحت اسکول انتظامیہ پر لازم ہوگا کہ وہ تولیدی صحت سے متعلق کسی بھی قسم کی تعلیم دینے سے قبل والدین کی باقاعدہ اور تحریری اجازت حاصل کرے۔
مزید پڑھیں: سائنسدانوں نے رحم کے کینسر پر قابو پانے کا اہم عنصر دریافت کرلیا
بل کے مطابق نصابی کتب کی تیاری کے دوران متعلقہ ادارہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ تولیدی صحت سے متعلق مواد طلبہ کی عمر اور فہم کے مطابق شامل کیا جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان سینیٹ تولیدی صحت تولیدی صحت کا بل پاس تولیدی صحت نصاب میں شامل سینیٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان سینیٹ تولیدی صحت تولیدی صحت نصاب میں شامل سینیٹ تولیدی صحت کی تعلیم
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک