شاندار تعلیمی کارکردگی پر 50 طالبات کیلئے فیملی سمیت عمرہ کے انعامات
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
دبئی کے اسلامی امور اور فلاحی سرگرمیوں کے محکمے (IACAD) نے 50 اعلیٰ کارکردگی دکھانے والی خواتین طلبہ کو تعلیمی کامیابی پر انعام کے طور پر خاندان کے ساتھ عمرہ کی زیارت کروانے کا اہتمام کیا۔ یہ انعام دائرۂ کار "Year of the Family 2026" کے تحت دیا گیا۔
یہ طلبہ دبئی کے مختلف کمیونٹی سینٹرز سے منتخب کی گئیں، جن میں المظہر اسلامک کلچرل سینٹر، امہ الشیف اسلامک کلچرل سینٹر اور ندالشیبا وویمنز سینٹر کے طالبات شامل ہیں۔ عمرہ کے سفر میں طلبہ اپنے مرد سرپرستوں کے ہمراہ جائیں گی۔
محکمہ کے ڈائریکٹر جنرل احمد درویش المحیری نے کہا کہ یہ اقدام تعلیم میں نمایاں کامیابی، خاندان کی معاونت اور روحانی ترقی کو یکجا کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کی کوشش طلبہ میں تعلیم کے لیے عزم اور مستقل مزاجی کو فروغ دیتی ہے اور خواتین میں مثبت کردار کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔
احمد المحیری نے بتایا کہ محکمہ مستقبل میں بھی ایسے اقدامات کرے گا جو تعلیمی کامیابی، خواتین کی بااختیاری، خاندان کی مضبوطی اور اسلامی اقدار کو فروغ دیں، تاکہ معاشرے میں باعلم اور مثبت کردار ادا کرنے والی خواتین پیدا ہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔