data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260121-11-6
بدین(نمائندہ جسارت )بدین میں دی لیجنڈ لا کالج کا افتتاح، نوجوانوں کے لیے معیاری قانونی تعلیم کا آغاز، نوجوانوں کو قانون کی تعلیم کے لیے بڑے شہروں کا رخ نہیں کرنا پڑے گا، افتتاحی تقریب سے قانونی ماہرین کا خطاب ۔بدین میں قانونی تعلیم کے فروغ کی جانب ایک اہم پیشرفت کے طور پر دی لیجنڈ لا کالج بدین کا باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا۔ افتتاحی تقریب میں وکلا، بار ایسوسی ایشن کے عہدیداران، سماجی و سیاسی شخصیات، صحافیوں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی ماہر قانون خالد رشید آرائیں، سی ای او وقاص آرائیں، صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ایڈووکیٹ دلدار خان پٹھان ، جنرل سیکرٹری ایڈووکیٹ امیر آزاد پھنور ، ایڈووکیٹ علی رضا آرائیں، ایڈووکیٹ وسیم شاہ، ایڈووکیٹ شیراز دودپوٹو اور دیگر مقررین نے کہا کہ بدین میں لا کالج کا قیام وقت کی ایک اہم ضرورت تھا، جس سے علاقے کے نوجوانوں کو قانونی تعلیم کے حصول کے لیے بڑے شہروں کا رخ نہیں کرنا پڑے گا۔ مقررین نے کہا کہ ماضی میں بدین اور گردونواح کے طلبہ، خصوصاً طالبات کو کراچی، حیدرآباد اور دیگر شہروں میں جا کر قانون کی تعلیم حاصل کرنا پڑتی تھی، جس کے باعث انہیں مالی، سفری اور سماجی مشکلات کا سامنا رہتا تھا۔ دی لیجنڈ لا کالج بدین کے قیام سے اب طلبہ اپنے ہی شہر اور ضلع میں معیاری اور منظم قانونی تعلیم حاصل کر سکیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ کالج میں انٹرمیڈیٹ پاس طلبہ کے لیے قانون کے تعلیمی پروگرامز متعارف کرائے گئے ہیں، جہاں آئین پاکستان، فوجداری و دیوانی قوانین، قانونی مسودہ نویسی ، عدالتی طریقہ کار اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کی تعلیم دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ طلبہ کو عملی تربیت کے لیے موٹ کورٹس اور سینئر وکلا کی رہنمائی بھی فراہم کی جائے گی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ قانون کی تعلیم کو محض ایک پیشہ نہیں بلکہ معاشرے میں انصاف، قانون کی بالادستی اور انسانی حقوق کے تحفظ کی ذمہ داری سمجھ کر اپنائیں۔ انہوں نے کہا کہ دی لیجنڈ لا کالج بدین مستقبل میں باصلاحیت و باکردار قانون دان تیار کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا، جو عدالتی نظام کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوں گے۔ تقریب کے اختتام پر شرکا نے کالج کی تعلیمی سہولیات، کلاس رومز اور لائبریری کا دورہ کیا اور ادارے کے قیام کو بدین کے تعلیمی و قانونی مستقبل کے لیے خوش آئند قرار دیا۔ کالج انتظامیہ نے بتایا کہ داخلہ کے خواہشمند طلبہ و طالبات کالج سے رابطہ کر کے داخلہ کے عمل اور رہنمائی سے استفادہ کر سکتے ہیں۔

نمائندہ جسارت سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: دی لیجنڈ لا کالج قانونی تعلیم قانون کی کی تعلیم کے لیے

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار

پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری

8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔

وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔

????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣

Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States

????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026

آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے

بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل