شرح نمو میں کمی اور خسارے میں اضافہ غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (کامرس رپورٹر)اسلام آباد ایوانِ تجارت و صنعت کے سابق صدر اور کاروباری رہنما شاہد رشید بٹ نے کہا کہ آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستانی معیشت کے ڈائون گریڈ اور کرنٹ اکاونٹ خسارے میں اضافہ تشویشناک ہے جس کی بنیادی وجہ غلط پالیسیاں ہیں۔ ان پالیسیوں کی وجہ سے عوام اور معیشت پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔شاہد رشید بٹ نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے کی جانب سے پاکستان کی معاشی نمو کے اندازے میں کمی اور دسمبر میں جاری کھاتہ کے دوبارہ خسارے میں جانے سے اہم پالیسیوں میں کمزوریوں کا پتہ چلتا ہے۔ غلط ٹیکس اور توانائی پالیسیاں معیشت کو نقصان پہنچا رہی ہیں کیونکہ ان کے نتیجے میں مجموعی لاگت میں اضافہ اور سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہو رہی ہے۔ان پالیسیوں کی وجہ سے پائیدار معاشی توسیع کے لیے سازگار حالات پیدا نہیں کیے جا سکے ہیں انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس کے بلند نرخ بدستور ایک بڑا مسئلہ ہیں خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے لیے جو محدود منافع پر کام کرتے ہیں۔ بہت سے کاروبار پیداوار کم کر رہے ہیں یا غیر دستاویزی معیشت کا رخ کر رہے ہیں جس سے روزگار کے مواقع محدود ہو رہے ہیں۔کرنٹ اکاونٹ خسارے کی بنیادی وجہ درآمدات میں اضافہ تھا۔ برآمدات کی سست رفتاری اس عدم توازن کو مزید بڑھا رہی ہے۔شاہد رشید بٹ نے کہا کہ ترسیلات زر اب بھی معیشت کو اہم سہارا فراہم کر رہی ہیں تاہم ان پر انحصار برآمدات پر مبنی معاشی نمو کا متبادل نہیں ہو سکتا۔نہوں نے ٹیکس اور توانائی پالیسی میں ازسرنو ترتیب کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے عوام پریشان جبکہ کاروباری مسابقت مزید متاثر ہو رہی ہے۔حکومت قلیل مدتی اقدامات کے بجائے ٹیکس نظام کو سادہ بنانیاور اصلاحات پر توجہ دے تاکہ معاشی نمو کو مستحکم کیا جا سکے اور بار بار ادائیگیوں کے توازن کے بحران سے بچا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔
اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔
قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔