حیدرآباد میں ٹراما سینٹر کی بحالی کے احکامات خوش آئند ہیں
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد (کامرس ڈیسک) حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے قائم مقام صدر احمد ادریس چوہان نے وزیراعلیٰ سندھ، وزیر صحت سندھ اور محکمہ صحت سندھ کی جانب سے حیدرآباد ٹراما سینٹر کی فوری بحالی اور فعال بنانے کے لیے جاری کیے گئے احکامات پر دلی تشکر اور قدردانی کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک نہایت خوش آئند اور عوام دوست اقدام ہے، جس سے نہ صرف قیمتی انسانی جانیں بچائی جا سکیں گی بلکہ سول اسپتال حیدرآباد پر بڑھتے ہوئے دباؤ میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔ احمد ادریس چوہان نے کہا کہ اس معاملے پر صدر چیمبر محمد سلیم میمن نے وزیراعلیٰ سندھ اور وزیر صحت کو باقاعدہ خط لکھ کر حیدرآباد ٹراما سینٹر کی بحالی کا مطالبہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں محکمہ صحت سندھ نے فوری طور پر اس معاملے کو’’ٹاپ پرائرٹی‘‘پر لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو احکامات جاری کیے ہیں۔قائم مقام صدر نے کہا کہ حیدرآباد نیشنل ہائی وے اور شہر کے داخلی راستوں پر ٹریفک حادثات کی شرح زیادہ ہے، ایسے میں ٹراما سینٹر کا فعال ہونا شہریوں کے لیے زندگی اور موت کا سوال ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ اور محکمہ صحت کی اس بروقت توجہ اور عملی اقدام کو عوامی فلاح و بہبود کے لیے ایک بہترین مثال قرار دیا۔ احمد ادریس چوہان نے حکومت سندھ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ چیف ایگزیکٹو ڈائریکٹر، شہید محترمہ بینظیر بھٹو انسٹی ٹیوٹ آف ٹراما، کراچی، ان ہدایات کو مدنظر رکھتے ہوئے جلد از جلد عمل درآمد کرکے حیدرآباد ٹراما سینٹر کو فعال کریں گے۔انہوں نے کہا کہ حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری عوامی مفاد کے تمام منصوبوں میں حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون جاری رکھے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔