6ماہ بعد بھی سندھ سروس ٹریبونل کے چیئرمین کا عہدہ خالی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260122-08-4
کراچی (اسٹاف رپورٹر ) سندھ سروس ٹریبونل میں 6ماہ بعد بھی چیئرمین کا تقررنہ ہو سکاجس کی وجہ سے صوبے کے 40 سے زاید سرکاری محکموں کے ملازمین کی اپیلیں فیصلے کی منتظر ہیں۔سندھ سروس ٹریبول کے چیئرمین صادق حسین بھٹی 18 جولائی 2025 ء کو ریٹائرہو گئے تھے اور6ماہ پوریہونے کے باوجود سندھ سروس ٹریبول میں چیئرمین تعینات نہ ہو سکاجس کی وجہ سندھ سروس ٹریبونل میں تقرری ،ترقی،سنیارٹی ،تبادلے پینشن اور ریٹائرمنٹ ،کنٹریکٹ اور ریٹائرمنٹ،محکمانہ انکوائری کے کارروائی پر اعتراض کیخلاف سیکڑوں اپیلوں کے فیصلے التواء کا شکار ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ سندھ سروس ٹریبونل کے ممبران چیئرمین کی عدم موجودگی میں اپیلوں کی سماعت تو کر رہے ہیں مگر سماعت کے بعد نئی تاریخ دی جا رہی ہے اورسماعت کا فیصلہ چیئرمین کے عدم تقرر کی وجہ سے جاری نہیں ہو پا رہا۔بتایا جاتا ہے کہ تقریباً 40 سے زاید سرکاری محکموں کے سیکڑوں ملازمین نے انصاف کے حصول کے لیے سروس ٹریبونل میں اپیل دائر کر رکھی ہے۔یاد رہے کہ سندھ سروس ٹریبونل کے ممبر طارق محمود کھوسو 16جون کو ریٹائر ہوئے ان کی جگہ عرفان احمد میئو کو نیاممبر مقررکیا گیا اس سے قبل ممبر طارق محمود کھوسو 16جون 2025کوریٹائر ہوئے تھے جن کی جگہ عرفان احمدمیو راجپوت کو تعینات کیا گیا تھا۔تاہم چیئرمین کے عہدے پر تعیناتی میں تاخیر سے سرکاری ملازمین ذہنی اذیت کا شکار ہیں اور اپیلوں پر فیصلے کے منتظر ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔