سندھ طاس معاہدہ: بھارت تاحال اپنے اقدامات کی وضاحت پیش کرنے میں ناکام
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت کے یکطرفہ اقدامات پر اقوامِ متحدہ کی جانب سے طلب کیے گئے جواب کے باوجود بھارت نے تاحال کوئی مؤقف جمع نہیں کرایا۔
اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندوں نے بھارت سے سندھ طاس معاہدے سے متعلق اپنے اقدامات کی وضاحت طلب کرتے ہوئے 16 دسمبر 2026 تک جواب دینے کی ڈیڈ لائن مقرر کی تھی، تاہم ڈیڈ لائن گزرنے کے 34 دن بعد بھی بھارت نے نہ تحریری جواب دیا اور نہ ہی کسی قسم کی باضابطہ وضاحت پیش کی۔
اقوامِ متحدہ اس معاملے پر بھارت کے جواب کی منتظر ہے، جبکہ نئی دہلی کی جانب سے مسلسل خاموشی نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق قانونی اور سفارتی سوالات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق بھارت کی جانب سے جواب نہ دینا بین الاقوامی سطح پر تشویش کا باعث بن رہا ہے اور یہ رویہ عالمی معاہدوں کے حوالے سے نئی دہلی کے طرزِ عمل پر سوالات کھڑے کر رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔