سندھ: خواتین کے ساتھ ظلم اور زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سندھ گزشتہ ایک طویل عرصے سے ہول ناک بد امنی، بد انتظامی اور بدعنوانی کی آماج گاہ بن چکا ہے۔ اب یہ کوئی راز کی بات ہے اور نہ ہی کوئی ایسا انکشاف جس سے کوئی لاعلم یا بے خبر ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر دن ہی بدامنی کے ایسے الم ناک واقعات سامنے آتے رہتے ہیں جن کے بارے میں جان کر صوبے کا ہر باشندہ پریشان اور خوف زدہ ہو جاتا ہے بلکہ کانپ کانپ اٹھتا ہے۔ عوام کو تحفظ اور امن فراہم کرنے کے بجائے بد حکومتی کے سبب سندھ کی جیلیں اور تھانے تک رشوت کے مراکز، اذیت اور عقوبت گاہوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ خاص طور پر دیہی سندھ کے اضلاع میں تو تھانے عوام کے لیے شدید تکلیف دہ صورتحال کا موجب بن کر رہ گئے ہیں جہاں پر بے لگام پولیس اہلکار جب جسے اور جس من گھڑت الزام میں چاہیں گرفتار کر کے اس پر جعلی مقدمہ میں چالان کرنے کی دھمکی دے کر اور بلیک میل کرنے کے بعد رشوت وصولی کے بعد ہی چھوڑتے ہیں۔ جب صورت حال اتنی زیادہ خراب ہوگی اور خود پولیس اہلکار اس طرح کی لاقانونیت میں ملوث ہوں گے تو ایسے میں امن و امان کا قیام بھلا کس طرح سے ممکن ہے؟ ظلم کی انتہا تو یہ ہے اب تو بے چاری خواتین بھی ظالم پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں ظلم اور زیادتی کا نشانہ بن رہی ہیں۔ ایک طرف معاشرے میں موجود بدقماش اور دوسری طرف قانون کے محافظوں کی جانب سے بے گناہ خواتین پر مظالم کا دراز ہوتا ہوا یہ سلسلہ حکومت سندھ کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ سندھ بھر میں خواتین کے ساتھ رونما ہونے والے ظلم اور زیادتی کے واقعات کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اکثرو بیش تر یہ ہوتا ہے کہ مذکورہ واقعات منظر عام پر آنے کے بعد چند دن تک سوشل، پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کی زینت بننے کے بعد طاق نسیاں کی نذر کر دیے جاتے ہیں۔ قانون کی عملداری نہ ہونے کی وجہ سے متاثرہ خواتین یا تو حصول انصاف کے لیے در بدر بھٹکتی رہتی ہیں اور یا پھر انہیں اور ان کے ورثاء کو بااثر افراد اور قانون کے محافظوں کی دھمکیوں، دھونس اور ترغیب یا تحریص کے سبب خاموشی اختیار کرنی پڑ جاتی ہے۔ صوبے میں بے گناہ بچوں، بچیوں اور خواتین کا مظالم کا شکار ہونا اب ایک معمول بن کر رہ گیا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ضلع کندھ کوٹ کشمور میں ایک بچی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا المیہ رونما ہوا تھا۔ احتجاج تو حصول انصاف کے لیے بڑے پیمانے پر ہوا لیکن پھر متاثرہ خاندان مارے غربت اور خوف کے خود ہی تھک ہار کر کیس سے دستبردار ہوگیا۔ رانی پور ضلع خیرپور میرس کی حویلی میں بااثر پیر کے ہاتھوں ظلم اور زیادتی کا نشانہ بننے والی کم سن اور معصوم مقتولہ بچی فاطمہ کے دل گرفتہ اور پریشان حال مظلوم والدین تا حال انصاف کے حصول کے لیے در بدر بھٹک رہے ہیں۔ اسی طرح سے ماضی قریب میں عمر کوٹ، سانگھڑ، جیکب آباد، دادو، لاڑکانہ، خیرپور، تھر پارکر، نواب شاہ میں بھی معصوم بچیوں اور خواتین کے ساتھ ظلم اور اجتماعی زیادتی کے بعد انہیں بے رحمانہ انداز میں قتل کرنے کے الم ناک سانحات رونما ہوئے لیکن با اثر مجرموں کی جانب سے سودے بازی اور صلح کے نام پر ان سارے سانحات کو غت ربود کر دیا گیا۔ یہ بھی بلا شبہ ایک عظیم المیہ ہے کہ دیہی سندھ کے بیش تر اضلاع میں شدید غربت، سماجی اور معاشرتی بے حسی کے سبب بہت سارے اس طرح کے واقعات تو منظر عام پر ہی نہیں آتے۔
ویسے بھی جہاں خود قانون کے محافظوں کے ہاتھوں ہی بچے، بچیاں اور خواتین تھانوں میں بند کرکے ظلم اور اجتماعی زیادتیوں کا شکار ہوں یا پھر با اثر افراد یہ ظلم کریں تو دیدہ دانستہ ایف آئی آر کے اندراج اور طبی معائنہ میں غفلت برت کر ثبوت ضائع کر دیے جاتے ہیں جس کی وجہ سے مذکورہ سارے عوامل کے نتیجے میں سندھ میں متاثرہ بچوں، بچیوں اور خواتین کے لیے انصاف کا حصول محض ایک خواب وخیال ہی بن کر رہ گیا ہے۔ اس بدترین منظر نامے میں اہل سندھ کے اذہان میں اس وقت اگر یہ سوال پیدا ہورہا ہے کہ کہ کیا ہمیشہ ہر بار طاقت اور پیسے کے بل بوتے پر قانون، عدل اور انصاف اسی طرح سے پامال اور متاثرہ بچے، بچیاں، خواتین اور ان کے خاندان حصول انصاف کے لیے در بدر بھٹکنے پر مجبور ہوتے رہیں گے؟
مذکورہ سانحات کی پُردرد بازگشت ابھی فضا میں سنائی دے ہی رہی تھی کہ ایسے میں ضلع جیکب آباد کے تعلقہ ٹھل کی حدود کے اندر واقع گوٹھ حمزہ کھوسو میں پیش آنے والے ایک واقعہ میں آسیہ کھوسو نامی ایک بے گناہ لڑکی کے ساتھ خود قانون کے محافظوں کے ہاتھوں اس کی عزت کی پامالی نے قانون، انصاف اور محکمہ ٔ پولیس کی وردی پر کئی داغ لگا دیے۔ جب قانون کے محافظ وردی پہن کر خود ہی ظلم اور اجتماعی زیادتیوں کے واقعات میں ملوث ہونے لگیں تو پھر انصاف اور تحفظ کی امید آخر کس سے قائم کی جائے؟ اس صورت حال میں صرف ایک خاندان نہیں بلکہ پورے سماج کے جذبات اور احساسات زخمی اور مضروب ہو جاتے ہیں۔ تھانہ آر ڈی 52 کے ایس ایچ او مقصود سنجرانی سمیت نصف درجن پولیس اہلکاروں پر کھوسو قبیلے کی مذکورہ بیٹی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا الزام عائد ہوا لیکن اب تحقیقات کے بعد اس یہ ثابت ہو چکا ہے کہ یہ ایک الم ناک حقیقت تھی۔ ایس ایس پی ضلع جیکب آباد محمد کلیم ملک نے بھی اس پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مذکورہ تھانہ کے پولیس اہلکاروں اے ایس آئی محراب سندرانی اور اہلکاروں برکت، عبدالنبی، خادم، میر حسن، غلام یاسین نے آسیہ کھوسو کو اس کے گھر سے زبردستی اٹھا کر ایک نامعلوم مقام پر اجتماعی طور پر ظلم اور زیادتی کا نشانہ بنایا۔ مذکورہ اہلکاروں کے خلاف تو کیس درج کر لیا گیا ہے تاہم متاثرہ لڑکی کے ورثاء اس امر پر سخت برہم ہیں کہ لڑکی کے پہچان لینے کے باوجود ایس ایچ او مذکورہ کا نام ایف آئی آر میں شامل کیوں نہیں کیا گیا ہے؟
آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جیکب آباد شرف الدین شاہ نے بھی اس سانحے پر رپورٹ طلب کرلی ہے۔ ایسے میں میڈیا پر ظلم اور اجتماعی زیادتی میں ملوث اہلکاروں کی جانب سے میڈیا پر یہ دعویٰ بھی برملا طور پر کیا جارہا ہے کہ ہمیں کسی بھی بات پر پچھتاوا نہیں ہے۔ ہماری جلد ضمانت ہو جائے گی۔ ایس ایس پی بھلے سے اعتراف کرے لیکن ہم مذکورہ واقعہ میں ملوث نہیں ہیں۔ اس وقت سندھ بھر میں ہر سطح کے میڈیا اور عوام کی میں یہ سانحہ ایک سلگتے ہوئے موضوع کے طور پر زیر بحث بناہوا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ایسے میں کیا متاثرہ مظلوم لڑکی کو انصاف مل پائے گا کہ نہیں؟ یا ایک مرتبہ پھر سے یہ سانحہ بھی غت ربود کر دیا جائے گا؟ اگر واقعی یہ المیہ رونما ہوا تو پھر بے حس حکمرانوں کو عذاب الٰہی کا انتظار کرنا چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ظلم اور اجتماعی زیادتی قانون کے محافظوں ظلم اور زیادتی اور خواتین جیکب ا باد زیادتی کا خواتین کے کے ہاتھوں ایسے میں انصاف کے میں ملوث یہ ہے کہ کے ساتھ گیا ہے کے بعد کے لیے
پڑھیں:
سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن
فائل فوٹو
وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، گریڈ ایک سے 16 تک ملازمین کا سفری الاؤنس بڑھا دیا گیا ہے۔
سندھ کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس اسٹاف کی ہیلتھ انشورنس میں چھ ماہ کی توسیع کی ہے، معیشت، سرمایہ کاری، مالیات، آبی وسائل سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں، موسمیاتی تبدیلی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ نے گٹکا اور مین پوری کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی منظوری دی ہے، گٹکا ماوا کیخلاف کارروائی نارکوٹکس کنٹرول کا محکمہ کرے گا، قانون سازی کر رہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ ملازمین عملی کام کے بجائے یونٹ، سیکٹر دفاتر میں بیٹھے رہتے تھے، صحافی ولی خان بابر نے ایسے معاملات کی رپورٹنگ کی تھی بعد میں انھیں قتل کر دیا گیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ زراعت کے شعبے کو نقصان نہ ہو، قانون میں گندم کی ترسیل روکنے کی ممانعت ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل روکی ہوئی ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل کیلئے بارڈر سیل کیے ہیں، ہم مذمت کرتے ہیں، گندم کی فصل بہت اچھی ہوئی، سندھ میں کچھ لوگوں نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کر رکھی ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت پانچ لاکھ میٹرک ٹن گندم امپورٹ کرے گی، پاسکو سے بھی گندم خریدی جائے گی، ان اقدامات سے گندم ذخیرہ کرنے والوں کو بہت نقصان ہوگا، ناردرن بائی پاس پر 4 سو ایکڑ پر ٹرک اسٹینڈ بنانے جارہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ افسوس کی بات ہےان دونوں رہنماؤں نے آئین اور قانون کا سنجیدہ مطالعہ نہیں کیا، مطالعہ کرتے تو اس نوعیت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کرتے۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ مون سون کے موقع پر تمام اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، کے پی کے اور پنجاب میں بارشوں سے اموات ہوئی ہیں، حیرت کی بات ہے ہمارے میڈیا نے پر اس پر خاموشی رکھی ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کر بارش سے پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں کے حالات خراب ہیں، ملک بھر میں بارشوں سے بہت تباہی ہوئی ہے، پنجاب میں بارشوں سے 17 افراد جاں بحق ہوئے، خیبر پختونخوا میں بارشوں سے 20 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ کشمیر میں انتخابات چل رہے ہیں، کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ ن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے۔