یورپی یونین کا ٹرمپ دھمکیوں کا جواب: امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدے معطل
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مسلسل ٹیرف دھمکیوں اور جبری طور پر گرین لینڈ کی ملکیت حاصل کرنے کے اصرار پر یورپی پارلیمان نے اہم فیصلہ کرلیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یورپی پارلیمان نے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی معاہدے پر کام کو معطل کرنے کا اعلان کردیا۔
اس بات کا فیصلہ کرتے ہوئے یورپی پارلیمنٹ کے متعدد ارکان نے معاہدے پر تحفظات ظاہر کیا کہ یہ غیر متوازن معاہدہ ہے جس میں سراسر ہمارا نقصان اور امریکا کا فائدہ ہے۔
ارکان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے سے یورپی یونین کو اپنے زیادہ تر درآمدی اشیا پر محصولات کم کرنا پڑے گا جب کہ امریکا اپنے 15 فیصد ٹیکس میں کوئی کمی نہیں لائے گا۔
اگرچہ اس سے قبل یورپی پارلیمان کے ان ہی ارکان نے مشروط طور پر معاہدے کو قبول کرنے کی تیاری ظاہر کی تھی۔
ان شرائط میں 18 ماہ کی اختتامی مدت اور امریکی درآمدات میں ممکنہ اضافے کے جواب میں حفاظتی اقدامات شامل ہیں۔
یورپی پارلیمان کی تجارتی کمیٹی کا ارادہ تھا کہ وہ اپنے مؤقف پر 26 اور 27 جنوری کو ووٹ کرے گا لیکن اب یہ عمل مؤخر کر دیا گیا ہے۔
برنڈ لانگے نے کہا کہ نئی محصولات کی دھمکیوں نے پہلے سے طے شدہ معاہدے کو متاثر کیا ہے اور اس وجہ سے اس عمل کو مزید نوٹس تک معطل کر دیا گیا۔
تاہم اس معاہدے کو روکنے سے ٹرمپ کی ناراضگی کا خطرہ ہے جس کے نتیجے میں امریکا کی جانب سے یورپی درآمدات پر محصولات بڑھائے جا سکتے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ شراب یا اسٹیل پر محصولات کم کرنے جیسی رعایتیں صرف اس وقت ممکن ہوں گی جب معاہدہ حتمی طور پر نافذ ہو جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل یورپی پارلیمان
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔