خوشبودار و میٹھے آم وہ بھی سردیوں میں، کہروڑپکا کے کاشتکار نے کمال کردیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
یوں تو آم موسم گرما کا پھل ہے مگر جنوبی پنجاب کے ضلع لودھراں کی تحصیل کہروڑپکا میں یہ مشاہدہ بدل کر رکھ دیا گیا ہے اور اب جنوری میں بھی پکے ہوئے خوشبودار آم درختوں پر لٹکتے دکھائی دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آم، سنہری سفارتکار جو تعلقات میں مٹھاس گھولتا ہے
کہروڑپکا کے ایک جدت پسند باغبان جعفر گیلانی نے آم کی ایسی قسم متعارف کروا دی ہے جو سردیوں میں بھی اگتی ہے۔ انہوں نے آم کی یہ بے موسمی قسم ’بارہ ماشی‘ کامیابی سے اگا کر سب کو حیران کر دیا ہے۔
یہ آم نہ صرف ذائقے میں منفرد ہے بلکہ اپنی خوشبو اور مٹھاس کے لحاظ سے بھی حیران کن ہے۔
جعفر گیلانی کا مینگو فارم موضع نور شاہ گیلانی میں واقع ہے جو تقریباً 45 ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔
اس فارم میں آم کی مختلف اقسام کے درخت موجود ہیں جو عام سیزن (موسم گرما) میں پھل دیتے ہیں جبکہ بارہ ماشی کے درخت سرد موسم میں بھی پھل سے لدے ہوتے ہیں۔
بارہ ماشی آم کی یہ ورائٹی ستمبر میں بُور لیتی ہے جبکہ دسمبر میں اس کا پھل پک کر تیار ہو جاتا ہے۔ مزید برآن یہ درخت بھرپور پھل دیتا ہے۔
مزید پڑھیے: بنگلہ دیش کے پاکستان سے پھل درآمد کرنے کے امکانات روشن
اگرچہ بارہ ماشی آم کی رنگت باہر سے سبز ہوتی ہے لیکن اندر سے یہ نہایت میٹھا، رسیلا اور خوش ذائقہ ہوتا ہے۔
نایاب قسم کے اس بارہ ماشی آم کو اگر فروغ دیا جائے تو بہت جلد یہ پاکستان کے دوسرے حصوں میں بھی دستیاب ہو سکتا ہے جس سے لوگ سردیوں میں بھی رسیلے اور خوش ذائقہ آم سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔ دیکھیے یخ بستہ موسم میں آم کی خوشبو اور مٹھاس سے بھری محمد رمضان بھٹی کی یہ ویڈیو رپورٹ۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آم بارہ ماشی بارہ ماشی آم سردیوں میں آم کہروڑپکا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سردیوں میں ا م سردیوں میں میں بھی
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔