شدید دھند کے باعث کئی مقامات پر موٹرویز ٹریفک کیلئے بند
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
پنجاب کے مختلف شہروں میں شدید دھند کے باعث حدِ نگاہ بری طرح متاثر ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں متعدد مقامات پر موٹرویز کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ حادثے سے بچا جا سکے۔
موٹروے پولیس کے مطابق موٹروے ایم تھری کو فیض پور سے سمندری تک شدید دھند کی وجہ سے بند کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح موٹروے ایم فور پر شیرشاہ سے عبدالحکیم تک گاڑیوں کی آمد و رفت معطل ہے، جبکہ موٹروے ایم فائیو پر شیرشاہ سے ظاہر پیر تک دھند کے باعث ٹریفک روک دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ موٹروے پولیس کا کہنا ہے کہ موٹروے ایم الیون کو لاہور سے سمبڑیال تک بند کر دیا گیا ہے کیونکہ دھند کے باعث حدِ نگاہ انتہائی کم ہو چکی ہے۔
موٹروے پولیس نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، دورانِ سفر گاڑیوں کی رفتار کم رکھیں اور دھند ختم ہونے تک محفوظ مقامات پر قیام کریں۔ مزید یہ کہ مسافر روانگی سے قبل موٹروے ہیلپ لائن سے تازہ صورتحال سے آگاہی حاصل کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل دھند کے باعث موٹروے ایم
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔