امریکی حملےکی صورت میں اسرائیل کو ایرانی جوابی کارروائی کا خطرہ، دفاعی الرٹ بڑھادیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایران پر ممکنہ امریکی حملے کے خدشے کے پیش نظر اسرائیل نے اپنی دفاعی تیاریوں اور الرٹ کی سطح میں اضافہ کر دیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی قیادت کسی بھی ممکنہ امریکی کارروائی کے جواب میں اپنی حکمتِ عملی پر غور کر رہی ہے۔ اسرائیلی فضائیہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایران کسی بھی ردِعمل میں اسرائیل کو تنازع میں گھسیٹ سکتا ہے، تاہم یہ ضروری نہیں کہ ایران اپنا پہلا حملہ اسرائیل پر ہی کرے۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے دفاعی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث الرٹ رہنا ناگزیر ہو گیا ہے، جبکہ امریکا اور دیگر اتحادی ممالک کے ساتھ قریبی رابطہ بھی برقرار رکھا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ ممکنہ ایرانی میزائل حملوں کے خدشے کے پیش نظر اسرائیلی ایئر لائنز نے بھی اپنے طیاروں کو اسرائیل سے باہر منتقل کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔