data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260122-08-23
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی آئینی عدالت نے بھارت اور اسرائیل سے درآمدات پر پابندی کیس میں فیصلہ محفوظ کر لیا۔ وفاقی آئینی عدالت میں جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے بھارت اور اسرائیل سے درآمدات پر پابندی بارے کیس میں فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔ لاہور ہائی کورٹ نے درآمدی پابندی کو آئینی قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت کو ہدایات جاری کی تھیں، لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو وفاق نے وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کیا۔ کیس کی سماعت کے دوران ریونیو ڈویژن کی طرف سے حافظ احسان کھوکھر نے پیش ہوکر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ درآمدی پابندی وفاقی حکومت نے آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے عاید کی، پالیسی برقرار رکھتے ہوئے ہدایات دینا عدالتی حدود سے تجاوز ہے۔ خارجہ، تجارتی اور قومی سلامتی پالیسی عدالتوں کا دائرہ اختیار نہیں،دشمن ممالک سے تجارت کے فیصلے خالصتاً حکومتی اختیار ہیں،عدالتیں پالیسی پر نظرثانی یا ازسرنو غور کی ہدایات نہیں دے سکتیں،ہائی کورٹ کی ہدایات آئینی اختیارات کی تقسیم کے منافی ہیں،ایسے احکامات برقرار رہے تو عدالتی مداخلت کا سیلاب آ جائے گا۔ وفاقی حکومت کی طرف سے دوران سماعت استدعا کی گئی کہ درآمدی پابندی برقرار رکھتے ہوئے ہائی کورٹ کی ہدایات کالعدم قرار دی جائیں۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمن نے دلائل میں کہا کہ ہائی کورٹ پالیسی معاملات میں داخل نہیں ہو سکتی، ہدایات کالعدم قرار دی جائیں۔ عدالت نے فریقین کو سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔ واضح رہے وفاقی حکومت نے فارن پالیسی ، نیشنل سیکورٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے 2019 میں بھارت اور اسرائیل سے درآمدات پر پابندی عاید کی تھی۔

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بھارت اور اسرائیل سے درا مدات پر پابندی وفاقی ا ئینی عدالت وفاقی حکومت فیصلہ محفوظ ہائی کورٹ

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر سے اضافہ
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی