وفاقی آئینی عدالت : بھارت اور اسرائیل سے درآمدات پر پابندی کیس میں فیصلہ محفوظ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260122-08-23
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی آئینی عدالت نے بھارت اور اسرائیل سے درآمدات پر پابندی کیس میں فیصلہ محفوظ کر لیا۔ وفاقی آئینی عدالت میں جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے بھارت اور اسرائیل سے درآمدات پر پابندی بارے کیس میں فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔ لاہور ہائی کورٹ نے درآمدی پابندی کو آئینی قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت کو ہدایات جاری کی تھیں، لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو وفاق نے وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کیا۔ کیس کی سماعت کے دوران ریونیو ڈویژن کی طرف سے حافظ احسان کھوکھر نے پیش ہوکر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ درآمدی پابندی وفاقی حکومت نے آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے عاید کی، پالیسی برقرار رکھتے ہوئے ہدایات دینا عدالتی حدود سے تجاوز ہے۔ خارجہ، تجارتی اور قومی سلامتی پالیسی عدالتوں کا دائرہ اختیار نہیں،دشمن ممالک سے تجارت کے فیصلے خالصتاً حکومتی اختیار ہیں،عدالتیں پالیسی پر نظرثانی یا ازسرنو غور کی ہدایات نہیں دے سکتیں،ہائی کورٹ کی ہدایات آئینی اختیارات کی تقسیم کے منافی ہیں،ایسے احکامات برقرار رہے تو عدالتی مداخلت کا سیلاب آ جائے گا۔ وفاقی حکومت کی طرف سے دوران سماعت استدعا کی گئی کہ درآمدی پابندی برقرار رکھتے ہوئے ہائی کورٹ کی ہدایات کالعدم قرار دی جائیں۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمن نے دلائل میں کہا کہ ہائی کورٹ پالیسی معاملات میں داخل نہیں ہو سکتی، ہدایات کالعدم قرار دی جائیں۔ عدالت نے فریقین کو سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔ واضح رہے وفاقی حکومت نے فارن پالیسی ، نیشنل سیکورٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے 2019 میں بھارت اور اسرائیل سے درآمدات پر پابندی عاید کی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بھارت اور اسرائیل سے درا مدات پر پابندی وفاقی ا ئینی عدالت وفاقی حکومت فیصلہ محفوظ ہائی کورٹ
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔