محکمہ زراعت نے ہلدی کے کاشتکاروں کو کیا اہم ہدایات کی ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
محکمہ زراعت نے ہلدی کے کاشتکاروں کو اہم ہدایات جاری کردی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بدہضمی کے علاج کے لیے ہلدی کتنی فائدہ مند ہے؟
زراعت آفیسر محکمہ زراعت پسرور ذیشان گورائیہ نے ہلدی کے کاشتکاروں کو فصل کی بروقت برداشت (مناسب وقت پر فصل اٹھانا) مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ذیشان گورائیہ کا کہنا ہے کہ ہلدی کے کاشتکار فصل کی برداشت سے 3سے 4روز قبل کھیت کو ہلکا پانی لگائیں اور وتر حالت میں پتے کاٹ کر علیحدہ کر لیں اور کسی کی مدد سے فصل کی برداشت مکمل کرلیں۔
یہ بھی پڑھیں: کون سے مسالے پرسکون نیند کے حصول میں مدد دے سکتے ہیں؟
انہوں نے کہا کہ اگر کاشتکاروں کو ہلدی کی فصل کی برداشت میں کسی مشکل یا پریشانی کا سامنا کرنا پڑے تو وہ مزید مشاورت، معلومات و رہنمائی کیلئے ماہرین زراعت یا محکمہ زراعت کے فیلڈ سٹاف سے بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news فصل کٹائی محکمہ زراعت ہلدی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کٹائی ہلدی کاشتکاروں کو ہلدی کے فصل کی
پڑھیں:
خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں کے سبب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس حوالے سے انتباہ جاری کردیا جس میں کہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے مقامی/ بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ موسلادھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات (سولر پینلز، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز وغیرہ) کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔